ورجینیا ہال: وہ خاتون جاسوس جس سے نازی ڈرتے‘ تھے

وہ دوسری جنگ عظیم کے دوران فرانس میں تین برس تک نازی اہلکاروں کی ناک کے نیچے سے جنگ کی خفیہ دستاویزات چوری، اتحادی جاسوسوں کے نیٹ ورک منظم اور فرار ہونے والے قیدیوں کی معاونت کرتی رہیں۔
ان کے دشمن انھیں جاسوسوں میں سب سے زیادہ خطرناک سمجھتے تھے اور حالانکہ ایک ٹانگ سے معذور ہونے اور لنگڑا کر چلنے کی وجہ سے انھیں آسانی سے پہچانا جا سکتا تھا، وہ اپنا تعاقب کرنے والوں سے ایک قدم آگے رہتی تھیں۔

ورجینیا ہال کی ایک ٹانگ لکڑی کی تھی جس کا وزن تین کلو تھا۔
اپنے قریبی ساتھیوں کے لیے بھی وہ ایک معمہ تھیں۔ وہ مسلسل اپنا حلیہ تبدیل کرتی رہتی تھیں۔ وہ اچانک کہیں سے نمودار ہوتی تھیں اور پھر بغیر اطلاع کے غائب ہو جاتی تھیں۔
جنگ کے غیر معمولی واقعات اور جان جوکھم والے کاموں کے باوجود لنگڑا کر چلنے والی ورجینیا کی زندگی کے بارے میں لوگوں نے ان کی موت کے بعد ہی جانا۔ ان کی موت سن 80 کی دہائی میں ہوئی تھی۔
حال ہی میں ان کی سوانح حیات بھی شائع ہوئی ہے جس پر اب فلم بنائی جائے گی۔

امریکی ریاست میری لینڈ میں 1906 میں ایک دولت مند گھرانے میں پیدا ہونے والی ورجینیا بچپن سے ہی سفیر بننا چاہتی تھیں۔ وہ انگریزی، فرانسیسی، اطالوی اور جرمن زبانیں روانی سے بولتی تھیں۔
بیس سال کی عمر میں ورجینیا اپنی تعلیم مکمل کرنے یورپ پہنچیں اور وارسا، وینس اور ازمیر میں امریکی سفارت خانوں میں بطور کلرک کام کیا لیکن وہ سفارت کار نہیں بن سکیں۔
سونیا پرنیل نے تین برس تک ان پر تحقیق کر کے ورجینیا کی سوانی حیات لکھی ہے جس کا نام ’وومن آف نو امپورٹنس‘ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ورجینیا کو بار بار اس لیے مسترد کیا گیا کیونکہ وہ ایک عورت تھیں اس سے پہلے امریکہ میں کسی عورت کو سفارت کار نہیں بنایا گیا تھا۔‘

27 برس کی ورجینیا ہال کا سفارت کار بننے کا خواب اس وقت پوری طرح ٹوٹ گیا جب شکار کے دوران حادثاتی طور پر ایک گولی ان کی بائیں ٹانگ میں لگ گئی۔ ان کی ٹانگ میں ناسور کی وجہ سے ان کی زندگی خطرے میں تھی جس کے بعد ڈاکٹروں کو گھٹنے کی نیچے سے ان کی ٹانگ کاٹنی پڑی۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پرنل کا کہنا تھا ’ورجینیا ایڈوینچر سے بھرپور ٹام بوائے تھیں جنھیں گھڑ سواری اور شکار کا شوق تھا۔
’معذوری کے بعد انہیں ایک غیر اہم خاتون کے طور پر مسترد کر دیا گیا لیکن ایک روز وہ انتہائی اہم خاتون بن گئیں۔‘
پرنل کا کہنا ہے کہ معذوری کے بعد مایوس ہو کر گھر بیٹھنے کے بجائِے ورجینیا نے زندگی میں غیر معمولی چیزیں کرنا شروع کر دیں۔
’ایک تو وہ جانباز قسم کی تھیں لیکن حادثے نے انہیں مزید فولادی بنا دیا۔ وہ یہ ثابت کرنا چاہتی تھیں کہ ان کی زندہ بچنے کا کوئی مقصد ہے۔‘
دوسری جنگِ عظیم کے دوران جب ورجینیا نے فرنٹ لائن پر کام شروع کیا اس وقت تک امریکہ جنگ میں شامل نہیں ہوا تھا۔ وہ بمباری اور فائرنگ کے بیچ میں فرانس میں فوجی ایمبولنس چلاتی تھیں۔
پرنل کا کہنا تھا 1940 میں فرانس سے جانے کے بعد ورجینیا کی زندگی بدل گئی۔ سپین میں ایک ریلوے سٹیشن پر ایک برطانوی خفیہ ایجنٹ کی نظر ان پر پڑی اور انہوں نے اس ایجنٹ کو مختصراً بتایا کہ اب تک وہ کیا کرتی رہیں اور یہ کہ آگے بہت کچھ کرنا چاہتی ہیں۔

جاتے ہوئے اس ایجنٹ نے ورجینیا کے ہاتھ میں اپنا فون نمبر دیا اور کہا کہ ’جب لندن پہنچو تو میرے اس دوست کو فون کرنا وہ تمھارے لیے کچھ کام نکال لے گا۔‘
اس کے بعد ورجینیا جاسوسی کے کام میں لگ گئیں۔
لندن میں ورجینیا نے سپیشل آپریشنز ایگزیکیٹو یعنی (ایس او ای) کے لیے کام کرنا شروع کر دیا۔
پرنل کا کہنا ہے کہ ’ایس او ای‘ کی جانب سے دشمن کے علاقے میں خواتین کو نہیں بھیجا جاتا تھا لیکن چھ ماہ میں وہ اپنا ایک بھی ایجنٹ دشمنوں میں شامل نہیں کر سکے تھے۔
1941 میں جب ورجینیا نیو یارک پوسٹ کی رپورٹر بن کر واپس فرانس پہنچیں تو کہا جاتا تھا کہ یہ ایک انتہائی خطرناک مشن تھا جس میں ان کی زندگی کے امکانات ففٹی ففٹی تھے۔
نازیوں کے خلاف مزاحمت کو منظم کرنے کے اپنے خطرناک مشن کو پورا کرنے کے لیے انہوں نے مقامی قحبہ خانے کی ایک میڈم جرمین کو اپنے گروپ میں شامل کیا جو تیس کے پیٹے میں تھیں اور انتہائی گلیمرس ہوا کرتی تھیں۔ اس کے علاوہ جنسی امراض کے ایک ڈاکٹر کو بھی ساتھ مِلایا جو ان کے چیف بن گئے۔

پرنل کے مطابق ’جرمین اپنے سیکس ورکرز کے ساتھ جرمن گاہکوں کی جاسوسی کرتی تھیں۔ وہ جرمن گاہکوں کو نشہ آور دوائیں دے کر ان کے پاس موجود اہم دستاویز کی تصاویر اتارتی تھیں اور یہ معلومات ورجینیا کو بھیجتی تھیں جو یہ معلومات لندن بھیجا کرتی تھیں۔

’انہوں نے سیف ہاؤس بنانے شروع کیے اور ان گھروں میں جیلوں سے فرار ہونے والے جنگی قیدیوں کی مدد کی جاتی تھی اور انہیں سپین بھجوا دیا جاتا تھا۔‘
پرنل کے مطابق ’آہستہ آہستہ انہوں نے سرکاری حکام ،ریلوے والوں اور دیگر لوگوں کے ساتھ بھی اپنا نیٹورک بنایا جو انہیں خوراک، ایندھن اور ہر طرح کی مدد فراہم کر سکتے تھے۔ یہ ایک طرح کی خفیہ فوج بن چکی تھی۔‘

جلد ہی ورجینیا نے بڑے بڑے آپریشن کر کے ایجنٹوں کو جیل سے نکلوانا شروع کیا، پل اڑانے لگیں اور جرمن قافلوں پر حملے بھی کروائے۔ لیکن وہ کبھی کسی کے ہاتھ نہیں آئیں۔
آہستہ آہستہ جرمنوں نے ان کے بارے میں معلومات کے ٹکڑے جمع کیے اور اسے ’لمپنگ لیڈی‘ یعنی لنگڑانے والی خاتون کا نام دیا گیا۔ ورجینیا کو بہت محتاط ہو کر چلنا پڑتا تھا تاکہ لنگڑانے کی وجہ سے ان کی پہچان نہ ہو جائے۔

ورجینیا کو معلوم تھا کہ نازی پکڑے جانے پر مردوں سے زیادہ برا سلوک عورتوں کے ساتھ کرتے تھے۔
پرنل کہتی ہیں یہ خوفناک خیال تھا اور ورجینیا جانتی تھیں کہ پکڑے جانے پر ان کا انجام کیا ہوگا۔
برطانیہ کو معلوم تھا کہ اگر ورجینیا جرمنی میں پکڑی گئیں تو ان کے ساتھ کیا ہوگا اس لیے برطانیہ نے انہیں واپس فرانس بھیجنے سے انکار کر دیا اور انہیں سپین میں ہی رکھا گیا۔
لیکن ورجینیا فرنٹ لائن پر جانے کے لیے بضد تھیں اور 1944 میں وہ امریکی آفس آف سٹریٹیجک سٹڈیز کے احکامات پر دوبارہ فرانس میں داخل ہوئیں جو اب پوری طرح نازیوں کے قبضے میں تھا۔
یہاں وہ ایک بوڑھی کسان بن کر پہنچیں۔
سی آئی اے کے مطابق ورجینیا نے جرمن فوج کے خلاف گوریلا جنگ کے لیے مزاحمت کاروں کی تین بٹالین تیار کیں۔
اس دور کی ان کی ایک تصویر امریکہ میں لگی ہے جس کی رونمائی 2006 میں کی گئی تھی۔ جنگ کے بعد انہیں سروس کراس کے علاوہ دیگر اعزازات سے نوازا گیا تھا۔
لیکن انہوں نے ہر طرح کی توجہ کو نظر انداز کرتے ہوئے 1966 میں 60 سال کی عمر میں ریٹائر ہونے تک خاموشی سے سی آئی اے کے لیے کام کیا۔
پرنل کا کہنا ہے کہ وہ نہیں چاہتی تھیں کہ لوگ ان کے بارے میں بات کریں اور وہ ایک روایتی خاتون بھی نہیں تھیں۔
ورجینیا 1982 میں انتقال کر گئیں لیکن مورخین نے حال ہی میں ان کی غیر معمولی زندگی کے ٹکڑے جمع کرنا شروع کیے ہیں۔