پشاور میں غیر قانونی طور پر ذخیرہ کیے گئے ہزاروں کلو لیموں برآمدگی کے بعد منڈی میں فروخت

پشاور میں حکام نے لیموں کا ایک بڑا ذخیرہ قبضے میں لے کر انھیں منڈی میں فروخت کر دیا ہے۔ یہ کارروائی لیموں کی قیمت میں مسلسل اضافے کے بعد کی گئی ہے۔
ضلعی انتظامیہ نے چمکنی کے علاقے میں قائم کولڈ سٹوریج پر چھاپہ مارا جہاں سات سے نو ہزار کلو گرام لیموں ذخیرہ کیے گئے تھے۔
ڈپٹی کمشنر پشاور محمد علی اصغر کے دفتر سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ انتظامیہ کو اطلاع موصول ہوئی تھی کہ چمکنی کے علاقے میں ایک کولڈ سٹوریج میں بڑی مقدار میں لیموں ذخیرہ کیے گئے ہیں جنھیں مہنگے داموں فروخت کیا جا رہا ہے۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ اس چھاپے کے دوران لیموں کی 781 پیٹیاں قبضے میں لی گئی ہیں۔

کولڈ سٹوریج کے مالک کو ایک لاکھ روپے جرمانہ کیا گیا ہے۔
اسسٹنٹ کمشنر پشاور سارہ رحمان کے مطابق یہ کارروائی 1977 کے پرائز کنٹرول اور انسداد ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری کے تحت کی گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس قانون کے تحت ناجائز منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کو تین سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا دی جا سکتی ہے۔
پاکستان میں ماہ رمضان شروع ہوتے ہی لیموں کی قیمت اچانک 400 روپے سے پانچ سو روپے تک پہنچ گئی تھی۔
شہریوں کا کہنا تھا کہ عام آدمی ایک پاؤ لیموں کے ایک سو سے ایک سو پچیس روپے کہاں دے سکتا ہے اور لیموں بھی ایسے جن میں رس کی مقدار انتہائی کم اور سائز بہت بڑا ہے۔
ایک شہری نے بتایا کہ لیموں سائز اور وزن کے حساب سے ایک پاؤ میں صرف تین ہی پڑتے ہیں۔
حکام نے بتایا کہ قبضے میں لیے گئے لیموں کھلی منڈی میں بولی لگا کر فروخت کر دیے گئے ہیں۔
ضلعی انتظامیہ کے ترجمان نے بتایا کہ قبضے میں لیے گئے لیموں فروٹ منڈی میں نیلام کر دیے گئے ہیں جہاں دس کلو گرام لیموں کی قیمت 1600 روپے لگی ہے۔
ماہ رمضان شروع ہوتے ہیں مختلف اشیا کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
اس ہفتے پشاور کے حیات آباد میں قائم اتوار بازار میں خریداروں کی تعداد انتہائی کم دیکھی گئی اور اس کی ایک وجہ روز مرہ استعمال کی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ بتایا گیا ہے۔
ایسی اطلاعات ہیں کہ حکومت کی جانب سے اب روز مرہ استعمال کی اشیا کی قیمتوں میں اضافے کی روک تھام کے لیے کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں۔
اس کے علاوہ خیبر پختونخوا میں قائم فوڈ اتھارٹی کی جانب سے ملاوٹ کی روک تھام اور کھانے پینے کی اشیا کی معیار کو بہتر کرنے کے لیے بڑے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔