کیا کوانٹم فزکس روح‘ کے راز کو سمجھ جائے گی؟

 

 

تصور کریں کہ آپ ایک آسیب زدہ جگہ میں ہیں۔ یہ ایک تاریک، سرد اورغیرآباد حویلی ہے۔
جب آپ اس میں داخل ہوتے ہیں تو پہلے آپ کو یہ گھر خالی لگتا ہے لیکن فوراً آپ غور کرنے لگتے ہیں کہ کچھ اشیاء اچانک ظاہر ہوتی ہیں اور پھر اچانک غائب ہو جاتی ہیں۔
اس گھر پر مکمل خاموشی چھائی ہوئی ہے، لیکن آپ ذرّات گزرتے ہوئے محسوس کرتے ہیں اور باورچی خانے سے ہلکی سے آواز سنتے ہیں جیسے لکڑی کے فرش پر کسی کے چلنے کی خفیف سی چرچر ہو۔
اگر گھر میں کوئی نہیں ہے تو پھر ایسی آوازیں کہاں سے آتی ہیں؟
یہ کہانی ایک مثال ہے تاکہ ایک خالی جگہ کا تصور ذہن میں بنایا جا سکے کہ یہ واقعی خالی ہے۔
لیکن اب طبیعات (فزکس) کے قوانین کے مطابق، اس خالی پن کی حقیقت کو سمجھنے کے دو طریقے ہیں۔
ہماری دنیا جس میں ہم چیزیں دیکھ سکتے ہیں اور محسوس کرسکتے ہیں ایک خالی جگہ یا ایک خلا کے تصور کو سمجھنا آسان ہوتا ہے۔ خلا بس وہ جگہ ہے جس میں کوئی شہ نہیں ہوتی، یہاں تک کہ ہوا بھی نہیں۔
لیکن کوانٹم فزکس یعنی مقادیر برقیات کی طبیعات میں، جو ایٹم سے بھی چھوٹی سطح پر کام کرتی ہے اور جس عمل کو انسانی آنکھ دیکھ بھی نہیں سکتی ہے، یہ خلا اس آسیب زدہ گھر کی طرح کا ہے جس کی اوپر مثال دی گئی ہے۔

کوانٹم خلا دراصل ذرات، توانائی اور لہروں سے بھرا ہوا ایک ماحول ہے جو پُراسرار انداز میں ظاہر ہوتا ہے اور تیزی سے غائب ہو جاتا ہے۔
اگر کسی حقیقی ماحول کو ہم روشنی اور گرمی سمیت ہر قسم کے ذرات سے خالی کردیں اور اس میں ’کچھ‘ بھی نہ رہے، تب بھی سائنسدان اُس خلا میں الیکٹرِک فیلڈ کی لہر نما جھلک تلاش کر لیں گے جو شاید ایک لمحے کے لیے ظاہر ہو اور پھر غائب ہوجائے۔

اب زیورِخ کی کوانٹم انسٹی ٹیوٹ کے محققیقن کا کہنا ہے کہ وہ پہلی بار خلا میں ان ذرات کی وجہ سے پیدا ہونے والے اتار چڑھاؤ کو ماپنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔
یہ اسی طرح ہے جیسے ہم اپنے گرد کسی روح کے وجود کو ’محسوس‘ کر سکیں اور جب وہ ادھر ادھر گھوم پھر رہی ہو ہم اس کے سفید سے نشان ’دیکھ‘ سکیں۔
سائنس کے مطابق اچانک کسی مادّے کو وجود میں لانا ناممکن ہے، اور نہ کسی مادے کو معدوم کیا جاسکتا ہے، ’کچھ پیدا نہیں ہوتا، کچھ تباہ نہیں ہوتا، سب چیزیں اپنی ہئیت یا شکل بدلتی ہیں۔‘ جدید علمِ کیمیا کے بانی سائنسدان لووازئیے نے مادے کے ناقابلِ تخلیق یا ناقابلِ فنا ہونے کے بارے میں نظریہ دیا تھا۔

لیکن کوانٹم کی سطح پر بات مختلف ہے۔
ہارورڈ یونیورسٹی میں اپلائیڈ فزکس کی فیلو، کرسٹینا بینی چیلمس کہتی ہیں کہ ’ایک مختصر عرصے کے لیے توانائی کو خلا سے وجود میں لانا ممکن ہے۔‘
’یہ اچانک ہوتا ہے۔ ہم اس کے وقت کا تعین نہیں کر سکتے کہ یہ کب ہوگا، لیکن یہ ہوتا ہے۔‘
بینی چیلمس نے اس ظاہر اور غائب ہونے کے لمحے کا ایک تجربے کے دوران مشاہدہ کیا۔
کوانٹم کے حوالے سے، جب ہم زمان و مکان کی بات کرتے ہیں تو ہم نینو میٹرِک سکیلز (بہت ہی چھوٹے پیمانے) استعمال کرتے ہیں (جو ایک میٹر کے ایک اربویں حصے کی پیمائیش کرسکتے ہیں) اور بہت ہی قلیل مدت کی ارتعاشی لہر کو ماپ سکتے ہیں (یعنی ایک سیکنڈ کے ایک اربویں حصے کو)۔

اس تجربے کو کرنے کے لیے محققین نے ایک ’مکمل خلا‘ پیدا کیا جو روشنی اور حدت کے اثرات سے بھی مکمل طور پر آزاد تھا۔
ایسا انہوں نے درجہ حرارت کو منفی 269 سینٹی گریڈ تک، یعنی تقریباً ’مطلق صفر درجہ حرارت‘ تک کم کر کے اور وہاں روشنی کی ہر شکل یا ہئیت کے وجود کے امکان کو ختم کر کے کیا جو اُس ’خالص ماحول‘ کو آلودہ کرسکتی تھی۔

بینی جیملس کہتی ہیں کہ ’اتنا ہی ایک مکمل خلا کے قریب جایا جا سکتا ہے، ہم اس سے زیادہ نہیں جا سکتے ہیں۔‘
اس آلے کے اندر انھوں نے ایک ایسا کھوج لگانے والا خاص کرسٹل لگایا تھا جو اس مطلق خلا میں لہروں کے ظاہر ہونے اور غائب ہونے پر ردعمل دکھاتا تھا۔ مطلق خلا میں مادے اور الکٹرومیگنیٹک ریڈی ایشن کے معدوم ہوجانے کے بعد یہی رہ جاتا ہے۔

اس کرسٹل پر لہروں کے ظاہر اور غائب ہونے کی وجہ سے تبدیل ہوتی ہوئی خصوصیات کے مشاہدے سے بینی چیلمس اور ان کی ٹیم، الیکٹرومیگنیٹک فیلڈ کی لہروں کو ماپنے کے قابل ہوسکیں۔
روایتی فزکس میں خلا وہ ماحول ہے جہاں کسی شہ کا وجود نہیں ہوتا ہے۔ لیکن کوانٹم تھیوری (نطریہِ مقادیر برقیات) میں اسے تسلیم نہیں کیا جاتا ہے۔ اُس وقت بھی ایک بہت ہی مختصر لمحے کے لیے اس مطلق خلا میں ذرات، لہروں کا اُتار چڑھاؤ اور توانائی اتنی کم مقدار اور غیر مرئی ہئیت میں لطیف سا وجود رکھتے ہیں کہ اُن کا ماپنا فی الحال ناممکن ہے۔

خلا کے اندر ان لہروں کے اتار چڑھاؤ کی وجہ سے خفیف سی روشنی کا اچانک اور بے ساختہ وجود اس وقت بنتا ہے جب ایک ایٹم معدوم ہو رہا ہوتا ہے۔ لہروں کے اس طرح ماپنے سے علم کے اس شعبے میں ایک بہت بڑی پیش رفت ممکن ہے۔

حالانکہ بینی چیلمس اقرار کرتی ہیں کہ ایک بڑے انداز میں ہم اب بھی ان مظاہر کو سمجھنے سے کوسوں دور ہیں، لیکن یہ اس وقت کوانٹم فزکس اور ان غیر مرئی ذرات کی پُر اسراریت کو منکشف کرنے میں مدد دے سکتے ہیں جو ’روح‘ کر طرح محسوس ہوتے ہیں۔