غلط چھپائی والا 50 ڈالر کا نوٹ اور املا کی دیگر مشہور غلطیاں

جب آسٹریلیا نے 50 ڈالر کے نئے نوٹ چھاپے تو انتہائی چھوٹے حروف میں لکھی عبارت میں ایک بڑی غلطی ہو گئی۔
آسٹریلیا کے مرکزی بینک کی طرف سے جاری کیے والے لاکھوں نئے نوٹوں پر غلطی سے ‘responsibility’ کی جگہ

چھپ گیا۔

آسٹریلیا کے مرکزی بینک نے جمعرات کو اس غلطی کی تصدیق کی اور کہا کہ مستقبل میں چھپنے والے نوٹوں میں یہ غلطی درست کر لی جائے گی۔ لیکن فی الحال ملک بھر 50 ڈالر کے لگ بھگ چار کروڑ 60 لاکھ نئے نوٹ استعمال کیے جا رہے ہیں۔
گذشتہ سال جاری کیے جانے والے ان نوٹوں پر آسٹریلوی پارلیمان کی پہلی خاتون رکن ایڈیتھ کوون کی تصویر بنی ہوئی ہے۔ بظاہر ایڈیتھ کی تصویر کے پیچھے نظر آنے والی گھاس دراصل پارلیمان میں ان کی پہلی تقریر کا ایک اقتباس ہے۔

 

View this post on Instagram

 

After a hot tip from the @triplemmelb family, we’ve found the spelling mistake on the new $50 note! #BreakingNews

A post shared by Hot Breakfast (@mmmhotbreakfast) on

نوٹ پر انتہائی چھوٹے حروف میں ایک ہی جملہ کئی بار دہرایا گیا ہے، مگر افسوس کہ ہر بار ‘responsibilty’ میں املا کی غلطی موجود ہے۔
چھ ماہ بعد کسی نے درجہ اول کے محدب عدسہ یعنی چھوٹی چیز کو بڑا کر کے دکھانے والے شیشے کی مدد سے یہ غلطی تلاش کی۔ 50 ڈالر کا نوٹ آسٹریلیا میں سب سے زیادہ استعمال کیا جانے والا نوٹ ہے اور اے ٹی ایم مشین سے رقم نکالنے کی صورت میں بھی زیادہ تر یہی نوٹ دیکھنے کو ملتا ہے۔

آسٹریلوی ڈالر

آپ سوچ رہے ہوں گے کہ کیا غلطی کے ساتھ چھپنے والے نوٹ استعمال کیے جائیں گے؟ جی بالکل! غلطی کے باوجود یہ نوٹ استعمال کیے جا رہے ہیں۔
اب پیشِ خدمت ہیں مزید مشہور غلطیاں۔

31 مئی 2017 کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دیر رات اپنی ٹویٹ میں ایک سات حروف پر مشتمل لفظ لکھ کر عوام کو گہری سوچ میں ڈال دیا۔ کوریج لکھنے کے بجائے انھوں نے ‘covfefe’ لکھ دیا۔ اس کے بعد عوام نے ٹرمپ کی اس غلطی کا دل کھول کر مزاق بھی اڑایا۔

ڈونلڈ ٹرمپ

ٹویٹ میں کوئی لفظ غلط لکھ دینا تو معمولی سی بات ہے لیکن امریکی خلائی ادارے ناسا کی یہ غلطی کافی بڑی ثابت ہوئی۔

ناسا

22 جولائی 1962 کو ناسا کا خلائی جہاز مرینر 1 پرواز بھرنے کے پانچ منٹ بعد ہی تباہ ہو گیا۔ سامنے آنے والی کئی رپورٹس میں کہا گیا کہ خلائی جہاز کمپیوٹر کوڈنگ میں ڈیش نہ ہونے کی غلطی کی وجہ سے تباہ ہوا۔

سائنس فکشن لکھنے والے مصنف آرتھر کلارک کے بقول مرینر 1 تاریخ کی سب سے مہنگی ڈیش کی وجہ سے تباہ ہوا۔