ایران کے جوہری معاہدے کے لیے حتمی لڑائی شروع

 

 

ایران نے سنہ 2015 میں چھ عالمی طاقتوں امریکہ، روس، چین، برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے ساتھ اپنے جوہری پروگرام کے بارے میں ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے۔
امریکہ ایک برس پہلے یکطرفہ طور پر اس معاہدے سے دستبردار ہو چکا ہے۔ جس کے بعد سے امریکہ اور ایران کے سفارتی تعلقات میں سرد مہری جاری ہے۔
امریکہ کے معاہدے سے علیحدہ ہونے کے باوجود ایران نے پانچ دوسرے ممالک کے ساتھ اس معاہدے کو برقرار رکھا ہوا ہے۔ اقوام متحدہ کے جوہری توانائی کے ادارے آئی اے ای اے کے مطابق ایران جوہری معاہدے کی پوری طرح پاسداری کر رہا ہے۔

 

 

 

سال 2015 میں ایران اور چھ عالمی طاقتوں امریکہ، روس، چین، برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے بعد ایرانی معیشت پر عائد بین الاقوامی پابندیوں میں نرمی کی گئی تھیں، جن سے تیل کی برآمدات، تجارت اور بینکنگ سیکٹر متاثر تھے۔ اس کے بدلے میں ایران نے اپنی جوہری سرگرمیاں محدود کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

لیکن ٹرمپ انتظامیہ کو ایران کے ساتھ ہونے والے معاہدے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ اس کو برا معاہدہ گرادنتی ہے جبکہ معاہدے کے پانچ دیگر فریق، برطانیہ، فرانس، روس، چین اور جرمنی اس سے متفق نہیں ہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ اب ایران پر دباؤ بڑھا رہی ہے۔ اس نے ایران پر کئی اقتصادی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ اس کے علاوہ اس نے ایران کے پاسداران انقلاب کو دہشتگرد گروپ قرار دے دیا ہے۔
حال ہی میں امریکہ نے ان ممالک پر اقتصادی پابندیوں کی چھوٹ کو بھی واپس لے لیا ہے جو ایران سے تیل خرید رہے ہیں۔ امریکی پابندیوں کی وجہ سے ایران کی معیشت پر بے تحاشا بوجھ ہے۔
ایران نے اس دباؤ سے نکلنے کے لیے جوابی کارروائیاں شروع کی ہیں۔ ایران نے امریکہ کے یکطرفہ طور پر جوہری معاہدے سے نکلنے کے ایک سال بعد اب اپنی شرائط کا اعلان کر دیا ہے۔
ایران کا کہنا ہے کہ اگر معاہدے کے باقی فریقین دو ماہ کے اندر معاہدہ میں طے کی گئی شرائط کو نافذ نہیں کریں گے تو وہ بھی معاہدے کی پاسداری ختم کرتے ہوئے یورینیم کو افزودہ کرنا شروع کردے گا۔ ایران کہتا ہے کہ اگر اس معاہدے پر عمل درآمد نہ ہوا تو وہ بھی آزاد ہو گا کہ وہ اپنے جوہری پروگرام پر عمل کرے۔

ایران اس تنازعے میں خود کو مظلوم کے طور پر پیش کرتا ہے۔ اور اگر خطے میں ایران کے وسیع کردار اوراس کے میزائل پروگرام کو اس تنازعے سے علیحدہ کر کے دیکھیں، تو ایران کے موقف میں وزن ہے۔ خطے میں ایران کا کردار اور اس کا میزائل پروگرام اس معاہدے کا حصہ نہیں ہیں جو اس نے چھ عالمی طاقتوں کے ساتھ کیا تھا۔

ایران نے مجموعی طور پر اس معاہدے کی پاسداری کی ہے اور وہ امریکی پابندیاں جن کو اس معاہدے پرعمل درآمد کی صورت میں ختم کیا جانا مقصود تھا، ان کو دوبارہ نافذ کر دیا گیا ہے۔ ایرانی معیشت کو پابندیوں کی وجہ سے نقصان پہنچ رہا ہے۔ اب تہران کہہ رہا ہے’بہت ہو گیا۔’

اب دباؤ یورپی طاقتوں، فرانس ، برطانیہ اور جرمنی پر ہے، جنہوں نے اس معاہدے کو طے کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ ایران ان یورپی ممالک سے کہہ رہا ہے کہ تم اپنا وعدہ وفا کرو۔

 

 

 

ان یورپی ممالک کو ایران پر بڑھتے معاشی دباؤ کو کم کرنے کے لیے کچھ کرنا ہو گا۔ یورپی ممالک کے لیے ایک خاص تنبیہ بھی ہے۔ ایران کے صدر حسن روحانی نے منشیات کی سمگلنگ اور تارکین وطن کے یورپی ممالک میں پہنچنے کو روکنے میں اپنے اہم کردار کا ذکر کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ امریکی پابندیوں کا مطلب ہو گا کہ ایران ایسی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا متحمل نہیں رہے گا۔

یورپی ممالک نے ایران کے ساتھ تجارت کے لیے ایک طریقہ کار وضح کیا تھا۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ وہ طریقہ کار کتنا گارکر ثابت ہوا ہے۔ ملٹی نیشنل کمپنیاں ایران کے ساتھ کاروبار کا خطرہ مول نہیں لیں گی۔ یورپی ممالک بھی ابہام کا شکار ہیں۔

ایران کے ساتھ جوہری معاہدے پر پہلے ہی امریکہ اور یورپ کے مابین کشیدگی بڑھ چکی ہے۔ امریکہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے سے نکل چکا ہے اور یہ بہت مشکل ہے کہ یورپی ممالک ایسے اقدامات کر سکیں جس سے ایران مطمئن ہو۔

لیکن یورپی ممالک چاہتے ہیں کہ ایران کے ساتھ طے پانے والا جوہری معاہدہ قائم رہے، اور ایران کو بھی اس معاہدے کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دے سکتے۔ لہذا سفارت کاری کے لیے اگلے چند ماہ مشکل ہوں گے۔
اگر اس معاہدے میں کوئی ردوبدل نہ ہوا تو بظاہر اس معاہدے کا بچنا مشکل نظر آتا ہے۔ یورپی ممالک کو کچھ ایسا کرنا پڑے گا جو ایران کو موقع فراہم کرے کہ وہ دوبارہ اس معاہدے پر عمل درآمد کرنے پر آمادہ ہو جائے۔

روس اور چین بھی ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کے فریق ہیں اور ان کو کچھ کرنا ہو گا لیکن امریکہ نے جو موقف اختیار کر رکھا ہے وہ روس اور چین کے ساتھ کشیدگی کو بڑھا رہا ہے۔
روس اور چین دونوں امریکہ کو جوہری معاہدے پر عمل درآمد روکنے کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ اس جوہری معاہدے کا مکمل خاتمہ دیکھنے میں دلچسپی رکھتی ہے جو اب ممکن نظر آتا ہے۔
امریکہ اس سلسلے میں اپنے یورپی اتحادیوں پر دباؤ بڑھائے گا جو انتہائی مشکل صورتحال میں نظر آتے ہیں۔
یورپی ممالک بھی ایران کی دہشتگردی کی حمایت اورمیزائل پروگرام اورمیزائل ٹیکنالوجی کو برآمد کرنے کی پالیسی سے پریشان ہیں اور وہ جوہری معاہدے کو برقرار کے بارے میں کسی حد تک مبہم رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔

امریکہ کی فوجی وارننگ کا صرف ایک مقصد ہے، وہ یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ اگر ایران نے خطے میں امریکہ کے مفادات اور اس کے اتحادیوں کو کچھ نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو اس کا جواب اسے تہران میں ملے گا۔

تو کیا امریکہ جنگ کی تیاری کر رہا ہے۔
نہیں، ابھی نہیں۔
تاہم ٹرمپ انتظامیہ کا موقف واضح ہے: یا تو ایران اپنی پالیسی میں بنیادی تبدیلیاں لائے، ورنہ امریکہ ایران میں اقتدار کی تبدیلی کے لیے جو بھی بن پائے گا وہ کرے گا۔