شوبز ڈائری: تارہ کی رول ماڈل کون؟ اور مودی جی سے اکشے کمار کے معصوم سوالات

 

 

کرن جوہر کی نئی دریافت تارہ سوتاریہ انکی فلم ‘سٹوڈنٹ آف دی ایئر ٹو’ کے مرکزی کرداروں میں سے ایک ہیں۔
حال ہی میں فلم کا ٹریلر ریلیز ہوا ہے اور لوگ کرن جوہر کے ان سٹوڈنٹس کے بارے میں سوشل میڈیا پر جم کر مذاق کر رہے ہیں۔
لیکن تارہ کہتی ہیں کہ انھیں ٹرولز سے پریشانی نہیں ہوتی بلکہ وہ اسے انجوائے کرتی ہیں۔ یہاں تک تو ٹھیک تھا لیکن تارہ نے ساتھ میں یہ بھی کہہ دیا کہ انڈسٹری میں کنگنا رناوٹ ان کی رول ماڈل ہیں اور وہ انھیں بہت پسند کرتی ہیں کیونکہ کنگنا نے بغیر کسی مدد یا سہارے کے انڈسٹری میں اپنی جگہ خود بنائی ہے۔

 

 

 

کہا جاتا ہے کہ کرن جوہر اور کنگنا رناوٹ کے درمیان چھتیس کا آنکڑہ ہے۔ اب پتہ نہیں کہ کرن کی سٹوڈنٹ کی جانب سے کنگنا کی تعریف حقیقت ہے یا پبلِسٹی۔
جو بھی ہو، کرن کا تو پتا نہیں لیکن تارہ کی اس تعریف سے کنگنا کی روح اور انا کو بہت تسکین ملے گی اور کنگنا کی بہن رنگولی بھی کچھ عرصے کے لیے سوشل میڈیا کو بخش دیں گی جو عالیہ بھٹ کو للکار للکار کر تھک چکی ہیں۔

لیکن اس ہفتے کی سب سے دلچسپ خبر اکشے کمار سے متعلق رہی جنھوں نے ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی سے ایک ‘غیر سیاسی’ انٹرویو کیا جس میں اکشے نے ان سے بڑے ہی معصومانہ سوال کیے جیسے کہ وہ آم کھاتے ہیں یا نہیں اور اگر کھاتے ہیں تو کاٹ کر یا گھٹلی کے ساتھ۔

جواب میں مودی جی نے بھی بڑے بھولے انداز میں کہا کہ آم انھیں بہت پسند ہیں اور انھوں نے خوب آم کھائے ہیں کیونکہ ملک کے کسان بڑے دل والے ہیں اور اپنے باغ یا کھیتوں سے کھانے کا سامان مفت ہی دے دیا کرتے تھے۔

معلوم نہیں یہاں مودی جی نے بیچارے کسانوں کا ذکر کیوں کیا جو پچھلے پانچ سال میں مالی بدحالی کے سبب خود کشیوں پر مجبور ہو گئے تھے اور جو اپنے چھوٹے چھوٹے مطالبات منوانے کے لیے دلی کے جنتر منتر علاقے میں اپنے مردہ ساتھیوں کی کھوپڑیوں میں اپنا پیشاب پی کر احتجاج کرتے رہے ۔

مودی جی نے کانگریس کے رہنما غلام نبی آزاد کو اپنا دوست بتایا لیکن یہ نہیں بتایا کہ جب بی جے پی کے سینئیر رہنما مسلمانوں کو انڈیا سے نکال باہر کرنے کی دھمکی دیتے ہیں تو وہ خاموش کیوں رہتے ہیں۔
مودی جی نے بنگلہ دیش کی وزیراعظم شیخ حسینہ کی بات بھی کی کہ وہ انکے لیے اکثر بنگالی مٹھائی بھیجتی ہیں لیکن اس بارے میں کچھ نہیں بتایا کہ انڈیا کی ریاست آسام میں چالیس لاکھ مسلمانوں کو غیر ملکی بتا کر بنگلہ دیش دھکیلنے کی بات کو انکی پارٹی انتخابی موضوع کیوں بناتی ہے۔

ادھر ارباز خان نے حال ہی میں ایک چیٹ شو شروع کیا ہے جس میں انڈسٹری کے اہم شخصیات کے ساتھ گفتگو چٹ پٹی ‘گوسپ’ ہوتی ہے اور اسی مناسبت سے اس سیریز کا نام’ پِنچ’ رکھا گیا ہے۔
ارباز کہتے ہیں کہ ایک سپر سٹار کا بھائی ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کو آسانی سے کام مل جاتا ہے اور انھوں نے انڈسٹری میں جگہ بنانے کے لیے خود بہت محنت کی ہے۔
ارباز کہتے ہیں کہ وہ ستر فلمیں کر چکے ہیں اور انھیں اپنی خود کی صلاحیتوں پر کام مل رہا ہے، نہ کہ انکے بھائی کی فرمائش یا سفارش پر۔
لیکن یاد رہے کہ ارباز نے اب تک جتنی بھی فلمیں کی ہیں، ان میں سے وہی فلمیں کامیاب رہیں جن میں انکے بڑے بھئیا شامل تھے ۔