سعودی شہزادے کا راز‘ جو انگریز فٹبالر نے چھپا کر رکھا

 

 

رئیس آدمی سعودی عرب کے بانی شاہ سعود کا پوتا اور ریاض کے سابق گورنر کا بیٹا شہزادہ عبداللہ بن ناصر ہے جو تخیل سے بھی زیادہ امیر ہے۔
دوسرا شخص مانچسٹر کا فٹبالر ایمون او کیف ہے جو کہ ایک پرنٹ ورکر کا بیٹا ہے اور اولڈھم میں ایک سادہ سے گھر میں رہتا ہے۔
یہ دونوں کسینو (جوئے خانے) سے آ رہے ہیں۔ عبداللہ نے کسینو میں بازی ہاری ہے۔ وہ ہمیشہ ہارتے ہیں اور یہ کوئی انوکھی بات نہیں۔ اگر آپ سعودی شہزادے ہیں تو چند ہزار ڈالر میں تو آپ کا لنچ آتا ہے۔
ایمون جوا نہیں کھیلتے لیکن انھوں نے بازی جیتی ہے۔ دو سال قبل وہ انگلش فٹبال کی تیسرے درجے کی ٹیم پلائیموتھ آرگائل میں ریزرو کی حیثیت سے شامل تھے اور بجلی کے میٹر کے لیے سکے اکٹھا کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

لیکن اب وہ جیٹ سیٹ میں پرواز کر رہے ہیں۔ اول درجے کے طیارے، فائیو سٹار ہوٹل، یورپ کی عظیم سیر پر دنیا کے امیر ترین خاندانوں میں سے ایک کے ساتھ۔
اور پھر لفٹ میں عبداللہ ایمون کی جانب مڑتے ہیں۔
عبداللہ نے کہا: ‘میں تم سے بہت دنوں سے کچھ کہنا چاہتا ہوں۔’ وہ اپنا ہاتھ اس کے کندھے پر رکھتے ہیں۔ ‘مجھے لگتا ہے کہ میں تم سے محبت کرنے لگا ہوں۔’
ایمون شہزادے کی سانسوں کو سونگھ سکتے تھے، سگریٹ اور جانی واکر وسکی کی بو۔ بے چینی کے عالم میں انھوں نے جواب دیا: ‘آپ کا مطلب ہے بھائی کی طرح؟’
عبداللہ نے کہا: ‘نہیں، بھائی کی طرح نہیں۔’
اور کینز میں ہی موسم گرما کی اس رات کو ان کی پریشانی شروع ہوئی۔

 

 

 

ایمون کی جو کہ اب 65 سال کے ہیں، پرورش جنگ عظیم کے بعد والے برطانیہ میں ایک تین کمروں والے کونسل کے گھر میں ہوئی۔ ان کا گھر شمالی مانچسٹر کے بلیکلی میں تھا۔ ان کے تین بھائی، دو بہنیں اور ایک کتا تھا۔ ان کے دادا بھی ان کے ساتھ رہتے تھے۔ پتہ نہیں اتنے سارے لوگ کہاں سوتے ہوں گے؟

مانچسٹر کے ہوٹل میں اپنے بیتے وقت کو یاد کر کے مسکراتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ‘میں آج تک حیران ہوں۔’
ان کے والد آئرش تھے اور وہ مردوں کی ایک فٹبال ٹیم ’سینٹ کلیئر کیتھولک‘ چلاتے تھے۔ ان کی والدہ ان کی کِٹ دھوتیں اور اسے استری کرتی تھیں۔ ایمون گیند لاتے پھر اس پر دوسرے میچ سے پہلے چربی لگا کر چمکاتے۔

ایمون کا گھر پارک سے 30 گز کے فاصلے پر تھا اور مانچسٹر کی گیلی گھاس پر اندھیرا ہونے تک وہ وہاں کھیلا کرتے تھے۔ وہ اچھے فٹبالر تھے۔ انھیں مانچسٹر سکول اور مانچسٹر یونائٹیڈ کی نوجوان ٹیم کے لیے منتخب کیا گیا تھا لیکن پھر آلٹرنچم کے خلاف ایک میچ میں ان کی ٹانگ ٹوٹ گئی۔

اولڈ ٹریفورڈ کے سٹیڈیم میں فلڈ لائٹس میں کھیلنے کا ان کا خواب ختم ہو گیا۔ اس کی جگہ انھوں نے سکول چھوڑ دیا اور پھر مانچسٹر ایوننگ نیوز کے لیے چھوٹے موٹے کام کرنے لگے۔
جب ان کا پاؤں بہتر ہو گیا تو انھوں نے سٹیلی برج سیلٹک کے ساتھ معاہدہ کیا۔ یہ قریب میں ہی واقع ایک نیم پیشہ ور کلب تھا۔ ان کے پہلے مینیجر جارج سمتھ تھے۔ وہ ایک سابق فٹبالر تھے اور کوچنگ میں اپنا بین الاقوامی کریئر بنانے میں لگے ہوئے تھے۔

جارج نے جو پہلے ہی آئس لینڈ میں کام کر چکے تھے، سٹیلی برج کو چھوڑ دیا اور سعودی عرب کے اہم ترین کلب میں سے ایک الہلال کے مینیجر بن گئے۔ اس کے بعد ایمون نے بھی ٹیم کو خیرباد کہا اور تین سو میل دور پلائیمتھ کی ٹیم میں شامل ہو گئے۔

لیکن ان کی معاشی حالت وہاں بھی پتلی تھی۔ وہ بمشکل مکان کا کرایہ ہی ادا کر پاتے تھے اور اسی لیے وہ بمشکل ایک سیزن ہی وہاں رک سکے۔ پھر جب گھر واپس آئے تو انھیں ایک خط موصول ہوا۔
خط پر عربی زبان میں مہر لگی تھی۔
خط جارج سمتھ کی جانب سے تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ ایمون ایک ماہ کے ٹرائل کے لیے سعودی عرب آئيں۔ اگر انھوں نے لوگوں کو متاثر کیا اور گرمی برداشت کر سکے تو وہ الہلال کے لیے معاہدہ کرنے والے پہلے یورپی ہوں گے۔

ایمون نے بتایا: ‘وہ نومبر کا مہینہ تھا اور میرے خیال سے (مانچسٹر میں) برف پڑ رہی تھی۔ میں نے سوچا یہ بری پیشکش نہیں ہے۔’
لیکن صرف موسم نے ہی تحریک نہیں دی بلکہ ایمون کی شادی ہو چکی تھی اور ان کے دو بچے تھے۔ انھوں نے سوچا کہ سعودی عرب کا ایک سفر گھر کے قرض کی ادائیگی کا سامان ہوگا۔
وہ لندن گئے اور وہاں سے سعودی دارالحکومت ریاض کے لیے قاہرہ اور جدہ سے ہوتے ہوئے پرواز لی۔ جدہ پہنچ کر انھیں پتہ چلا کہ وہ ایک نئی دنیا میں آ گئے ہیں۔ ایک سعودی افسر نے ان سے سنڈے ایکسپریس اخبار لے لیا اور پھر قینچی لے کر اس پر شائع تمام خواتین کی تصویر کاٹ کر صرف ان کا سر رہنے دیا۔

ایمون نے کہا کہ اس سے بھی خراب حالت ہو سکتی تھی کیونکہ ان کے ساتھ والے شخص کے پاس ‘نیوز آف دی ورلڈ’ تھا۔
ثقافتی دھچکے ملتے رہے۔ ریاض میں جارج رن وے پر ایک بڑی سی بیوک کار کے بونٹ پر بیٹھے ایمون کا انتظار کر رہے تھے جبکہ گھر پر ایمون مورس مینی ڈرائیو کیا کرتے تھے۔
مانچسٹر میں مچھلی اور چپس بڑی دعوت ہوتی تھی۔ فائیو سٹار ہوٹل میں ایمون نے مفت کھانے اور مشروب کے لیے سائن اِن کیا۔
اب 22 سالہ ایمون ایک دوسری ہی دنیا میں تھے جہاں نہ صرف گرمی یا تاحد نظر کجھور کے درخت یا چلملاتا ہوا صحرا تھا بلکہ دولت کی ریل پیل تھی۔
سنہ 1960 میں اوپیک کا قیام اور سنہ 1973 میں تیل کے بحران کا مطلب یہ تھا کہ سعودی معیشت اپنے عروج کی جانب گامزن تھی۔ سنہ 1970 اور 1980 کے درمیان سعودی معیشت میں تین ہزار فیصد کا اضافہ ہوا۔ وہ تیل میں نہا رہا تھا اور سنجیدہ لوگ پیسوں میں کھیل رہے تھے۔ ایمون کی ملاقات ان امیروں میں سے ایک سے ہونے والی تھی۔

ایمون نے شہزادہ عبداللہ بن ناصر کو پہلی بار ریاض میں الہلال کے تربیتی میدان میں دیکھا۔
ابھی وہ ٹرائل پر ہی تھے اور ایک پریکٹس میچ کھیل رہے تھے کہ کلب کے صدر شہزادہ عبداللہ ایک نیلی بیوک پر سوار نمودار ہوئے۔ میدان سے ایمون دیکھ سکتے تھے کہ گاڑی کے نیچے جاتے ہوئے شیشے سے دو آنکھیں جھانک رہی تھیں۔

جارج نے کہا: ‘وہ کار دیکھو وہاں، وہ صدر ہے۔ وہی کانٹریکٹ کے لیے ہاں یا ناں کرے گا۔ اس لیے ہوشیار ہو جاؤ۔’
اسی وقت فٹبال دائیں طرف سے آیا، ایمون کی آنکھیں چمک گئیں۔ ان کے سنہرے بال صحرائی ہوا میں اچھلے اور انھوں نے ہیڈ سے گول کر دیا۔
انھوں نے 40 سال بعد بتایا کہ ‘گیند گولی کی رفتار سے گول پوسٹ کی طرف چلی گئی۔ واقعی گولی کی رفتار سے۔’
پانچ منٹ بعد بائیں جانب سے گیند آئی۔ انھوں نے پھر سے کِک لگائی اور گیند بالائی کونے میں داخل ہو گئی۔ جب وہ کھیل کے دوبارہ شروع ہونے کا انتظار کر رہے تھے تو جارج نے ایمون کے کان میں یہ کہا: ‘تم جو کچھ بھی سوچ رہے ہو اس پر مزید ایک صفر ڈال دینا۔’ وہ ایمون کی اجرت کے بارے میں بات کر رہے تھے۔

میچ کے بعد ابھی ایمون اپنے گیلے کپڑوں میں ہی تھے کہ انھیں شہزادے سے ملنے کے لیے بلایا گیا۔ عبداللہ نے پوچھا کہ ہوٹل تو ٹھیک ہے۔ ایمون نے کہا جی ہاں۔ عبداللہ نے پوچھا کہ کیا جارج خوش ہے۔ جارج نے حامی بھری۔

شہزادے نے کہا: ‘تو پھر ہوٹل جاؤ اور اپنی ضروریات لکھو۔’
ایمون اور جارج نے ایک فہرست بنائی جس میں پیسہ، کار، گھر، انگلینڈ کے لیے پرواز اور جب ایمون کے بچے سکول جانے کے لائق ہو جائیں تو ان کے لیے پرائیوٹ سکول کی فیس۔ دوسرے تربیتی سیشن کے دوران پھر نیلی بیوک آئی۔ جارج نے عبداللہ کو فہرست تھما دی۔

شہزادے نے کہا: ’کوئی مسئلہ نہیں۔’
گھر پر ایمون ہفتے میں 40 پاؤنڈ کماتے تھے اور انھیں فٹبال کھیلنے کے 15 پاؤنڈ ملتے تھے۔ ان کی نئی اجرت 140 پاؤنڈ فی ہفتہ تھی جو کہ آج کے 1100 پاؤنڈ بنتے ہیں۔ اس پر کوئی ٹیکس نہیں، کوئی بل کی ادائیگی نہیں اور نہ کوئی دوسرا درد سر۔

معاہدے پر رضامندی کے بعد ایمون نے مانچسٹر کے لیے واپسی کی پرواز لی اور اپنے سامان باندھ کر اپنے بچوں سمیت ریاض آ گئے۔ پہلے پہل وہ ہوٹل میں ٹھہرے اور پہلے ہی کی طرح انھیں کوئی پیسہ نہیں دینا پڑا۔

ایمون نے بتایا: ‘بل بڑھتے رہے لیکن کبھی اس پر سوال نہیں کیا گیا۔’
ان کی اہلیہ نے فرسٹ نیشنل سٹی بینک میں اچھی تنخواہ پر ملازمت کر لی اور چونکہ الہلال میں ہفتے میں دو دن ہی پریکٹس ہوتی تھی اس لیے ایمون اپنا وقت سوئمنگ پول میں گزارتے، بچوں کی دیکھ بھال کرتے اور جارج کے ساتھ فٹبال کی باتیں کرتے۔ یہ صحرا میں خوشی کے دن تھے۔

شروع سے ہی عبداللہ ایمون کو پسند کرنے لگے۔ انھوں نے ایمون کو ایک کار خرید کر دی۔ اور اکثر انھیں چائے پر مدعو کرتے۔ وہ بڑی سکرین پر فٹبال دیکھتے جو کہ اس زمانے میں بڑی آسائش تھی یا پھر عبداللہ کے بھائیوں سے باتیں کرتے۔

یہ ایک ایسا سیٹ اپ تھا جو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ایک سنہرے بالوں والے انگلینڈ کے نوجوان فٹبالر کا سعودی شاہی محل میں استقبال ہو رہا تھا۔ لیکن ایمون کو یہ سب بہت پسند آ رہا تھا۔ وہ نوجوان اور پراعتماد تھے اور انھوں نے حیرت انگیز طور پر سعودیوں کو سادہ اور مہربان پایا۔ سعودی عرب کئی معنوں میں مانچسٹر کی طرح تھا، فرق صرف اتنا تھا کہ یہاں ان کے دوست ملک چلا رہے تھے۔

میدان میں بھی چیزیں ٹھیک تھیں۔ ایمون کو اپنی ٹیم کے ساتھی پسند تھے اور ان کی ٹیم کنگز کپ کے سیمی فائنل میں پہنچی جہاں وہ پنلٹی پر النصر سے ہار گئی۔ سعودی عرب ہر طرح سے مکمل نہیں تھا۔ ایک مرتبہ ایمون اپنے بچوں کے ساتھ کار میں سفر کر رہے تھے کہ انھوں نے دیکھا کہ ایک چوک میں لوگوں کو سرِ عام کوڑے لگائے جا رہے تھے۔ لیکن زندگی پھر بھی اچھی گزر رہی تھی۔

جب سیزن ختم ہوا تو اوکیف خاندان چھٹیاں گزارنے انگلینڈ واپس آ گیا۔ لیکن جانے سے پہلے عبداللہ نے ان کے گھر کا فون نمبر طلب کر لیا۔
شہزادے نے کہا: ‘میں بھی انگلینڈ کے دورے کا منصوبہ بنا رہا ہوں۔ ہمیں ملنا چاہیے۔’
انگلینڈ میں تین ہفتے گزارنے کے بعد عبداللہ نے ایمون کی ماں کے گھر پر فون کیا جہاں وہ سب ٹھہرے تھے۔ ایمون باہر گئے تھے اس لیے ماں نے فون اٹھایا۔
ماں نے اپنے بیٹے کو بتایا کہ خود کو شہزادہ کہنے والے نے فون کیا تھا۔ ایمون نے عبداللہ کو واپس فون کیا جس کا بل لندن میں ہیریڈس کے پاس کارلٹن ٹاور ہوٹل میں ٹھہرے عبداللہ نے ادا کیا۔ دو دن بعد وہ یوسٹن کے لیے ایک ٹرین میں سوار تھے اور سٹیشن پر ڈرائیور گاڑی کے ساتھ ان کا منتظر تھا۔

لندن میں ایک بار پھر ایمون سعودی عرب کے پیسے پر مزے کی سیر کر رہے تھے۔ وہ ‘مختلف دنیا’ تھی۔
جلد ہی شہزادے کا معاون ریاض واپس چلا گیا اور پھر عبداللہ نے ایمون سے پوچھا کیا وہ اس سفر میں ان کی جگہ لینے کی خواہش رکھتے ہیں۔ دوسرا ٹھکانا پیرس تھا پھر کانز اور قاہرہ سے ہوتے ہوئے سعودی عرب واپس جانا تھا۔ عبداللہ کی اہلیہ فرنیچر خریدنا چاہتی تھیں اور عبداللہ کا منصوبہ یورپ کے کسینو میں وقت گزارنے کا تھا۔

ایمون کی اہلیہ اور بچے ان کی ساس کے ساتھ ویلز جا رہے تھے۔ اس لیے ایمون نے رضا مندی ظاہر کر دی۔ ایک ہفتے بعد وہ شہزادے کے ساتھ اپنے گرانڈ ٹور پر ہیتھرو کے لیے لیموزین میں سوار تھے۔
اب تک شہزادے اور بلیکلی سے آنے والے لڑکے میں دوستی ہو چکی تھی۔
ایمون نے کہا: ‘ہمارا ساتھ خوب رہا۔ ہم ہر وقت ہنستے رہتے۔ میرے خیال سے وہ ان تمام دوستوں سے بیزار ہو چکے تھے جو ہر وقت ان کی خوش آمد کرتے رہتے تھے۔’
چارلس ڈیگال ایئرپورٹ پر سعودی سفیر نے شہزادے اور ان کے رفقا سے ملاقات کی۔ ایمون نے بتایا کہ ‘کاروں پر جھنڈے لگے ہوئے تھے۔’
جہاں عبداللہ میٹنگز میں مشغول تھے ایمون کو ایک اٹیچی کیس نگرانی کے لیے دیا گیا۔ ایمون نے کافی اور چاکلیٹ لی اور وی آئی پی ایریا میں انتظار کرتے رہے، بعد میں انھیں تنہا ہی پیرس لے جایا گيا۔ سوٹ کیس ان کے ساتھ ہی تھا۔

ایک گھنٹے بعد ان کے ہوٹل کے کمرے کا فون بجا۔ فون پر عبداللہ تھے جنھوں نے ان سے اٹیچی کیس مانگا۔ ایمون اٹیچی کیس لے کر نیچے عبداللہ کے سویٹ میں گئے۔ شہزادے نے اٹیچی کیس کو کھول کر دکھایا کہ وہ کیا چیز پکڑ کر گھوم رہے تھے۔ اس میں ہزار ہزار کے فرانسیسی فرینک کی گڈیاں تھیں۔

ایمون نے کہا: ‘اس طرح کی چیز آپ کو ٹیلی ویژن پر دیکھنے کو ملتی ہے۔ جب میں ایئرپورٹ پر کافی لینے گیا تھا تو میں نے اسے اپنی سیٹ پر چھوڑ دیا تھا۔ آپ سوچ سکتے ہیں اگر یہ غائب ہو جاتا تو کیا ہوتا؟’

اس رات ایمون نے دریائے سیئن میں ایک شیشے کے پیندے والی کشتی میں رات کا کھانا کھایا اور پھر اپنے ہوٹل کی بالکنی سے شہر کی تعریف کرتے رہے۔ وہ ایک خوش و خرم شخص کی طرح محو خواب ہو گئے لیکن ان کا سنہرا خواب زیادہ دیر جاری نہیں رہا۔

دو دن بعد دونوں نے کانز کے لیے پرواز لی اور کسینو پہنچے، جہاں وہ ایک ہی لفٹ میں سوار ہوئے۔
ایمون نے کہا کہ جب عبداللہ نے اپنا قدم بڑھایا تو اچانک لفٹ چھوٹی لگنے لگی۔
شہزادے نے اپنے جذبات کا اظہار کر دیا تھا اور ایمون نے بھی۔ ایمون ہم جنس پرست نہیں تھے اور کوئی رشتہ قائم کرنے میں دلچسپی نہیں تھی۔ وہ فٹبالر بننا چاہتے تھے۔ اس کے علاوہ کچھ اور نہیں۔
ایمون نے بتایا کہ تقریباً 15 سیکنڈ میں دروازہ کھلا لیکن یہ ایک مہینے کی طرح لگا۔ وہاں اب ایک خوفناک ٹھنڈ تھی۔’
اس کے ساتھ ہی یہ عظیم ٹور ختم ہو گیا۔ ماحول بدل گيا اور سفر کا پروگرام بھی۔ روم میں تین شب کے بجائے انھوں نے صرف ایک رات گزاری، قاہرہ میں رکنے کے بجائے وہ براہ راست ریاض چلے گئے۔
ایمون شرمندہ تھے لیکن پریشان نہیں۔ لفٹ میں عبداللہ نے کہا کہ ان کا رشتہ ‘صدر اور کھلاڑی’ کا رہے گا۔ اور ایمون نے ان پر یقین کیا۔
انھوں نے کہا: ‘مجھے ایک لمحے کے لیے بھی یہ نہیں محسوس ہوا کہ میں خطرے میں ہوں۔ میرا خیال تھا کہ میرا معاہدہ ہے اور چیزیں معمول پر آ جائيں گی۔’
ریاض جانے کے بعد چیزیں بدل گئيں۔ ہم جنس پرستی سعودی عرب میں اس وقت بھی غیر قانونی تھی اور آج بھی غیر قانونی ہے اور اسی طرح شاہی خاندان پہلے بھی اور آج بھی قادر مطلق ہے۔ ایمون شہزادے عبداللہ کا راز افشا نہیں کرنے والے تھے لیکن اگر عبداللہ دباؤ ڈالنا چاہتے تو پھر کیا ہوتا؟

ایمون کو پریشانی ہونے لگی۔ بند کمرے سے ڈر لگنے لگا اور شاید وحشت زدہ ہو گئے۔ انھوں نے اپنے حوصلے کی بحالی اور ڈھارس کے لیے جارج کو بتایا کہ کیا ہوا تھا۔ لیکن وہ نہ سمجھے۔
جارج نے کہا: ‘بے وقوف، وہ یہیں پر بس نہیں کریں گے۔’
جارج سمتھ اب 84 سال کے ہیں۔ اب بھی فٹبال دیکھتے ہیں اور اپنے طویل کوچنگ کریئر سے ان کے پاس بہت ساری کہانیاں ہیں۔ کیا انھیں ایمون یاد ہیں۔ انھوں نے فون پر روچڈیل سے کہا: ‘ارے ہاں، میں نے اسے پروفیشنل بنایا تھا۔’

جارج کی کہانی سعودی عرب سے عمان اور بحرین ہوتے ہوئے آئس لینڈ جاتی ہے۔ لیکن ایمون نمایاں تھے۔ وہ انھیں بطور ایک کھلاڑی اور انسان پسند کرتے تھے۔ ان کے گرینڈ ٹور سے قبل ہی وہ پریشان تھے۔ ان کا خیال تھا کہ ایمون عبداللہ کے ساتھ ضرورت سے زیادہ وقت گزار رہے ہیں اور عبداللہ ایمون پر بہت زیادہ پیسے خرچ کر رہے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ‘میرے خیال میں وہ بہت زیادہ قریب ہو گئے تھے اور صدر (عبداللہ) اس سے واقف تھے۔ وہ جانتے تھے کہ میں اس سے پریشان ہوں۔’
جب جارج نے کانز کے واقعے کے بارے میں سنا تو انھوں نے ایمون کو اپنی حفاظت کی خاطر سعودی عرب چھوڑ دینے کے لیے کہا۔ ‘وہ خطرے میں تھے۔ کچھ بھی ہو سکتا تھا۔’
جیسے کہ؟
‘خدا ہی جانتا ہے۔ کسی قسم کا حادثہ وغیرہ، وہ شاہی خاندان کے فرد سے ٹکرا رہا تھا۔ آپ ایسا نہیں کر سکتے۔’
ایمون سہمے ہوئے تھے۔ وہ ملک کے ایک انتہائی طاقتور شخص کے راز سے واقف تھے اور یہی چیز ان کو خطرے میں ڈال رہی تھی۔ انھوں نے رات جارج کے صوفے پر گزاری، لیکن زیادہ تر چھت کو ہی تکتے رہے۔ وہ 22 سال کے تھے اور گھر سے بہت دور اور خوفزدہ۔ ان کے گھر والے انگلینڈ میں تھے اور وہ انھیں ریاض لوٹنے نہیں دینا چاہتے تھے۔

لیکن یہاں بھی ایک مسئلہ تھا۔
ملک چھوڑنے کے لیے انھیں اپنے باس سے ایگزٹ ویزے پر دستخط کرانا ضروری تھے اور ان کے باس شہزادہ عبداللہ تھے۔ ایمون کو سعودی عرب ہمیشہ سنہری لگتا تھا لیکن اب انھیں وہ سنہری پنجرہ لگ رہا تھا۔
دوسری صبح ایمون نے جھوٹ بولنے کا فیصلہ کیا کہ وہ عبداللہ سے کہیں گے کہ انگلینڈ میں ان کے والد بیمار ہیں اور انھیں دیکھنے کے لیے ان کا انگلینڈ جانا ضروری ہے۔ وہ عبداللہ کے محل گئے۔ اپنی کہانی کہی اور ان کے ردعمل کے منتظر رہے۔ شہزادے نے بات سنی لیکن کوئی فیصلہ نہیں سنایا اور ان کو بہت انتظار کرایا اور کہا کہ وہ اس پر کل بات کریں گے۔

یہ ایک اور طویل رات تھی۔
دوسرے دن ایمون شہزادے عبداللہ سے ملنے فٹبال کلب گئے۔ شہزادے نے اپنا دروازہ بند کروا دیا اور سٹاف سے کہا کہ کوئی اندر نہ آئے۔ ایمون کو یاد ہے کہ عبداللہ ایک بڑے سے میز کے ایک سرے پر بیٹھے تھے۔
شہزادے نے پوچھا کہ ‘کیا یہ فرانس کی وجہ سے ہے۔ میرا نہیں خیال کہ تم واپس آؤ گے؟’
جب ایمون نے عبداللہ کو راضی کرنے کی کوشش کی تو شہزادے نے قلم کاغذ نکالا اور عربی زبان میں آہستہ آہستہ لکھنے لگے۔ یہ ایک معاہدہ تھا۔ ایمون گھر جا سکتے تھے لیکن صرف ایک ہفتے کے لیے۔
ایمون کو صرف اس پر دستخط کرنا تھے۔
ایمون عربی نہیں پڑ سکتے تھے۔ وہ بس اتنا جانتے تھے کہ وہ اپنی زندگی کا اختیار کسی اور کو دے رہے ہیں۔ اس لیے وہ اس پر دستخط نہیں کر سکے۔
لیکن وہ اسے پھاڑ بھی نہیں سکے۔ اگر وہ ایسا کرتے تو شہزادہ انھیں کبھی واپس جانے نہیں دیتا۔ انھوں نے تیزی کے ساتھ سوچا اور فیصلہ کیا، جسے اب وہ ‘سال کا سب سے بڑا فریب’ کہتے ہیں۔
ایمون نے پوچھا: ‘کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں اس پر دستخط کر دوں۔ مجھے عربی میں لکھے اس کنٹریکٹ پر اعتماد کرنا ہے لیکن آپ مجھ پر بھروسہ نہیں کرتے۔ ٹھیک ہے۔ کوئی مسئلہ نہیں۔’
ایمون نے قلم لیا اور سائن کرنے کے لیے تیار ہوئے۔ لیکن بالکل آخری لمحے پر عبداللہ نے کاغذ ہٹا لیا اور اسے پھاڑ کر کوڑے دان میں پھینک دیا۔
انھوں نے ہچکچاتے ہوئے کہا: ‘میں تمہارے لیے فلائٹ کا انتظام کرتا ہوں۔’
دوسرے دن ایمون ایئرپورٹ گئے۔ انھوں نے صرف ایک ہفتے کے لیے کپڑے ساتھ لیے تاکہ عبداللہ یہ نہ سوچیں کہ وہ ہمیشہ کے لیے جا رہے ہیں۔
ایمون نے کہا: ‘یقیناً۔ کیونکہ اگر عبداللہ کہتے کہ تم طیارے میں سوار نہیں ہو گے تو آپ سوار نہیں ہو سکتے۔ جب طیارہ پرواز کرنے لگا اس وقت بھی میں پریشان تھا۔’
جب وہ لندن پہنچے تو انھوں نے خوشی میں سیٹ پر مکا مارا۔ لیکن ان کی پریشانیاں ختم نہیں ہوئی تھیں۔ انگلینڈ میں اپنا کریئر پھر سے شروع کرنے کے لیے انھیں فٹبال ایسوسی ایشن (ایف اے) کے ساتھ رجسٹر ہونا تھا۔ اور اس کے لیے انھیں سعودی عرب سے کلیئرنس لینی تھی۔

ایف اے سے بات کرنے کے بعد ایمون کو ریاض سے ایک فیکس موصول ہوا جس میں یہ مطالبات تھے:
ایمون کو شرط نمبر ایک اور چار قبول تھی۔ ان کے مطابق باقی عبداللہ بدلہ لے رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایئر کنڈیشن خراب نہیں ہوا تھا اور انھوں نے شہزادہ عبداللہ سے کبھی ایک کوڑی بھی قرض نہیں لیا تھا۔

ایمون نے ایف اے سے بات کی اور 22 نومبر سنہ 1976 کو انھیں لندن سے ایک ٹیلی گرام ملا۔ اس میں کہا گیا اس نمبر پر فون کریں، فون وصول کرنے والا پیسہ ادا کرے گا۔ اس پر سعودی فٹبال کے نئے سربراہ جمی ہل کے دستخط تھے۔
 

 

 

سنہ 1976 میں جمی ہل انگلینڈ کی فٹبال کی سب سے معروف شخصیات میں سے ایک تھے۔ سنہ 1961 میں بطور کھلاڑیوں کی یونین کے سربراہ انھوں نے زیادہ سے زیادہ اجرت کی حد ختم کر دی تھی۔ سنہ 1970 کی دہائی میں وہ بی بی سی کے پرائم ٹائم فٹبال شو ‘میچ آف دی ڈے’ کے پریزینٹر بھی رہے۔

سعودی عرب کا کانٹریکٹ دو کروڑ 50 لاکھ پاؤنڈ کا تھا۔ اس میں کتنا انھیں اور کتنا ان کے بیٹے ڈنکن کو (جو سعودی عرب میں ملازم تھے) ملا وہ پتہ نہیں لیکن یہ بلیکلی کے نوجوان کے لیے ضائع کرنا ایک بہت بڑا نقصان تھا۔

ٹیلی گرام کے مطابق ایمون نے ہل کو فون کیا۔ ایمون کے والد نے جو ٹریڈ یونین میں تھے، کہا کہ وہ کانز میں ہونے والے واقعے کے بارے میں فیفا کو بتائیں گے۔ دو ہفتے بعد آلٹرنچم میں جارج اور ایمون کے ایک مشترکہ دوست اور الہلال کے نمائندے کے ساتھ ایمون کی ملاقات طے پائی۔

الہلال کے نمائندے نے طنز کرتے ہوئے پوچھا کہ ‘اگر تم وہاں رکتے تو تمہارے خیال میں تمہارے ساتھ کیا ہوسکتا تھا؟’
ایمون نے سنجیدگی سے جواب دیا: ‘جب بات آپ کی فیملی پر آ جائے تو آپ جوا نہیں کھیل سکتے۔’
گرما گرم بحث کے بعد دونوں افراد نے ہاتھ ملائے۔ ایک ہفتے بعد سعودی عرب نے ایمون کا ’پروانہ رہائی‘ بھیجا اور اب وہ انگلینڈ میں کھیلنے کے لیے آزاد تھے۔ سعودی مہم ختم ہو چکی تھی۔
جب وہ انگلینڈ واپس آئے تو ایمون کے پاس پیسے نہیں تھے۔ وہ اپنی تنخواہ نہیں لے پائے تھے، کیونکہ وہ سعودی اکاؤنٹ میں تھی۔ اس لیے انھیں اولڈھم میں اپنا گھر فروخت کرنا پڑا۔ وہ مانچسٹر ایوننگ نیوز میں کام پر لوٹ آئے اور پھر نیم پیشہ ور کلب موزلی کے لیے کھیلنا شروع کر دیا۔

سعودی عرب کی دھوپ اور سوئمنگ پول کی زندگی کے بعد ناردرن پریمیئر ليگ کی ہوا اور بارش ایک طرح کی تنزلی تھی۔ لیکن ایمون کو یہ پسند تھی۔
سنہ 1979 میں موزلی نے لیگ اور کپ دونوں میں کامیابی حاصل کی اور ایمون 25 ہزار پاؤنڈ کے معاہدے پر ایورٹن چلے گئے جو کہ انگلش فٹبال میں اعلیٰ سطح کا کلب تھا۔ انھوں نے ویگن ایتھلیٹک میں جانے سے قبل فرسٹ ڈویژن کے لیے 40 میچز کھیلے۔ انھوں نے آئرش ریبپلک کے لیے بھی پانچ ميچز کھیلے جن میں سنہ 1985 کا ویمبلی میں انگلینڈ کے خلاف میچ بھی شامل ہے۔

جب وہ آخری بار سنہ 1968 میں وہاں گئے تھے تو انھوں نے بطور ایک مداح مانچسٹر یونائیٹڈ کو بنفیکا کو یورپین کپ کے فائنل میں ہراتے دیکھا تھا۔ اب لوگ ان کو دیکھنے کے لیے ٹکٹ خرید رہے تھے۔ یہ بھی ان بہت سی وجوہات میں سے ایک ہے جس کی وجہ سے وہ سعودی عرب، عبداللہ یا کانز کی اس رات کے بارے میں تلخ نہیں ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ‘اگر وہ (واقعہ) نہیں ہوتا تو وہ سعودی میں ہی ٹھہرے رہتے۔ اور کبھی بھی ایورٹن کے لیے نہ کھیل پاتے اور نہ ہی آئر لینڈ کے لیے۔’
عبداللہ سنہ 1981 تک الہلال کے صدر رہے اور پیسے خرچ کرتے رہے۔ ایمون کے بعد انھوں نے برازیل کے ورلڈ کپ فاتح ریویلینو کو اپنی ٹیم کے لیے خریدا۔ کلب نے جمی ہل کی منعقدہ لیگ میں سنہ 1977 اور 1979 میں کامیابی حاصل کی اور اب اس کا ایشیا کے بڑے کلبوں میں شمار ہے۔

فٹبال کے شوق کے علاوہ شہزادے کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں ہیں۔ سعودی حکومت کے بین الاقوامی کمیونیکیشن اور الہلال فٹبال کلب دونوں نے ایمون کی کہانی پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا اور شہزادے کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں ہیں۔

عبداللہ کے دادا ابن سعود اور ملک کے بانی کے 45 بیٹے ہیں۔ ان میں سے 36 کے اپنے بچے ہیں جن میں سے عبداللہ ایک ہیں۔
ایک سعودی ماہر نے بی بی سی کو بتایا: ‘یہ لوگ ایک ایسے معاشرے میں بہت محفوظ زندگی گزارتے جو تفتیش کرنے والی پریس کے بالکل برعکس ہے۔’
سعودی حکومت یہ نہیں بتائے گی کہ عبداللہ زندہ ہیں یا نہیں لیکن الہلال کی ویب سائٹ بتاتی ہے کہ ان کی موت ہو چکی ہے۔ مشرق وسطیٰ کے ایک صحافی نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کا سنہ 2007 میں انتقال ہوگیا تھا جبکہ دوسرے کا خیال ہے کہ سنہ 2006 میں ان کا انتقال ہوا تھا۔

عربی وکی پیڈیا کے مطابق عبداللہ کی تین بیویاں اور سات بچے ہیں۔ آخری بار ایمون نے انھیں ‘سال کے سب سے بڑے فریب’ کے وقت ریاض میں دیکھا تھا۔
آئر لینڈ میں کورک سٹی کے مینیجر کے طور پر خدمات انجام دینے کے بعد ایمون نے چیشائر کی کونسل کے لیے کام کیا۔ وہ پرتگال چلے گئے لیکن اب مانچسٹر میں ریٹائرمنٹ کی زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کا سنہ 2017 میں کینسر کا علاج ہوا اور اب وہ تیزی سے صحت یاب ہو رہے ہیں۔

وہ اوپر والے کا شکر ادا کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اب سب ٹھیک ہے۔
وہ اب بھی ميچ کے دنوں میں ایورٹن میں بطور میزبان کام کرتے ہیں اور اپنے کريئر کی کہانیاں سناتے ہیں۔
ایک عرصے تک انھوں نے سعودیوں کے بارے میں بات نہیں کی۔ وہ پھر سے اس صدمے سے نہیں گزرنا چاہتے تھے اور نہ ہی چاہتے تھے کہ وہ ہم جنس پرستوں سے نفرت یا خوف کے تعلق سے طنز کا نشانہ بنیں۔ یہاں تک کہ گھر واپسی کے بعد انھوں نے ایک میگزین کے رپورٹر کی پیش کش کو بھی رد کر دیا تھا۔ لیکن اب 40 سال بعد وہ اس سب پر بات کر کے خوش ہیں۔ اب وہ سب سے زیادہ یہ چاہتے ہیں کہ ان کی سعودی ٹیم کے ساتھی یہ جانیں کہ انھوں نے ٹیم کیوں چھوڑی تھی۔

انھوں نے کہا: ‘سعودی میں گزارا وقت مجھے عزیز ہے۔ آپ اس طرح کی زندگی سے کس طرح پیار نہیں کریں گے۔ مجھے اپنی ٹیم کے کھلاڑیوں سے محبت ہے، شاندار سہولیات تھیں اور تمام سیٹ اپ شاندار تھا۔ ہم سب وہاں خوش تھے۔’

آٹھ سال قبل ایمون نے خود نوشت لکھی۔ اس کا عنوان سینٹ کلیئر کے کیتھولک کلب کے سبز گھاس سے لے کر سرخ گرم سعودی مہم کے درمیان ان کی زندگی کا بخوبی احاطہ کرتا ہے۔
اور عنوان ہے: