کرکٹ: پاکستانی اوپنر عابد علی سابق انڈین کرکٹر سچن تندولکر کو گلے لگانا چاہتے ہیں

 

 

پاکستان کے نو منتخب اوپنر عابد علی نے اتوار کو اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ انڈیا کے ساتھ تمام تر کشیدگی کے باوجود انڈیا کہ عہدساز بلے باز سچن تندولکر ان کو گلے لگائیں گے اور اگلے ماہ ہونے والے ورلڈ کپ سے پہلے انھیں بلے بازی کے کچھ گر سکھائیں گے۔

اکتیس سالہ پاکستانی بلے باز مقامی کرکٹ مقابلوں میں بہت اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر چکے ہیں اور اس بنا پر انھیں جب آسٹریلیا کے خلاف ایک روزہ میچ میں پاکستان کی نمائندگی کرنے کا اعزاز دیا گیا تو انھوں نے پہلے ہی میچ میں سنچری سکور کر کے اپنے انتخاب کو درست ثابت کر دیا۔

عابد کا قد تقریباً تندولکر کے برابر ہی ہے اور وہ اسی انداز میں بیٹنگ کرتے ہیں لیکن انھیں تندولکر کے ریکارڈز کے قریب پہنچنے میں ایک عمر لگے گی۔ تندولکر نے سولہ برس کی عمر میں کرکٹ کی دنیا میں قدم رکھا تھا اور ایک طویل کیرئیر میں ٹسیٹ کرکٹ میں 15921، ایک روزہ میچوں میں سب سے زیادہ 18426، سب سے زیادہ ٹیسٹ سنچریاں 51، اور ایک روزہ میچوں میں سب سے زیادہ 49، سنچریاں بنانے کا منفرد ریکارڈ رکھتے ہیں۔

 

 

 

عابد نے اخبار نویسوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی یہ خواہش اور دعا ہے کہ ان کی ملاقات سچن تندولکر سے ہو۔ انھوں نے مزید کہا کہ ‘یقیناً میں ان (سچن) سے گلے ملنا چاہوں گا اور جیسے تمام بڑے بڑے کھلاڑی نوجوان کھلاڑیوں سے ملتے ہیں وہ بھی مجھ سے اسی طرح ملیں گے اور مجھ سے ملنے سے انکار نہیں کریں گے۔’

انھوں نے مزید کہا کہ انھیں یقین ہے کہ اگر وہ بیٹنگ کے بارے میں سچن سے کچھ پوچھنا چاہیں گے تو وہ انھیں ضرور بتائیں گے۔ عابد نے کہا کہ جب ان کی سچن سے ملاقات ہو گی تو وہ دن ان کے لیے یادگار دن ہو گا۔

عابد کے مطابق سچن سے ملاقات ان کی زندگی کا بہترین دن ہو گا کیونکہ سچن کا شمار کرکٹ کی تاریخ میں بہتریں بلے بازوں میں ہوتا ہے۔
عابد نے کہا کہ ووین رچرڈ بھی کرکٹ کے تاریخ کے بہترین بلے باز ہیں اور وہ تمام بڑے کھلاڑیوں سے ملنا اور سیکھنا چاہتے ہیں۔
پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشیدگی کی وجہ سے انڈیا میں کچھ حلقوں کی طرف سے اس طرح کے مطالبات بھی کیے گئے ہیں کہ ورلڈ کپ کے دوران سولہ جون کو مانچسٹر میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان گروپ کی سطح پر ہونے والا میچ انڈیا کو کھیلنے سے انکار کر دینا چاہیے۔

دونوں ملکوں کے درمیان کشیدہ تعلقات کے باوجود ان ملکوں کے کھلاڑیوں کے آپس میں دوستانہ تعلقات ہیں۔
انڈین کرکٹ ٹیم کے کپتان نے چند سال قبل ٹی ٹوئنٹی مقابلوں کے دوران اپنا بلا پاکستان کے تیز رفتار گیند باز محمد عامر کو ان کی کارکردگی کے اعتراف میں پیش کیا تھا۔
عابد نے کہا کہ وہ اپنے ابتدائی دنوں میں سچن کے بیٹنگ کرنے کے انداز کو اپنانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ پہلے دن سے ہی وہ سچن کا انداز اپنانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔
’وہ ایک عظیم کھلاڑی ہیں پاکستانی کھلاڑیوں انضمام اور محمد یوسف کی طرح۔’
انھوں نے کہا کہ وہ ان بلے بازوں کی اچھی چیزیں اپنانے کی کوشش کرتے ہیں۔
‘میری اگر سچن سے ملاقات ہوئی تو میں ان کا مشورہ، تکنیکی اور ذہنی طور پر حاصل کرنے کی کوشش کروں گا تاکہ میں اپنی بیٹنگ کو بہتر بنا سکوں۔’
عابد نے کہا کہ وہ پوری کوشش کریں گے کہ ان کا شمار بھی بہترین بلے بازوں میں ہونے لگے۔