کرکٹ ورلڈ کپ 2019: عمران خان نے یہی مشورہ دیا کہ دلیری سے کھیلنا‘

 

 

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد اور ہیڈ کوچ مکی آرتھر کو یقین ہے کہ ورلڈ کپ میں ٹیم اپنی بہترین صلاحیتوں کے مطابق کارکردگی دکھائے گی۔
پاکستانی کرکٹ ٹیم منگل کی علی الصبح لاہور سے براستہ دبئی انگلینڈ روانہ ہورہی ہے۔
پاکستانی کرکٹ ٹیم کی روانگی سے قبل سرفراز احمد اور مکی آرتھر نے قذافی سٹیڈیم لاہور میں پریس کانفرنس میں کہا کہ عالمی کپ کے لیے ٹیم نے بھرپور تیاری کی ہے اور وہ اس بڑے چیلنج کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

سرفراز احمد نے کہا کہ جب آپ فیورٹ کے طور پر کسی میگا ایونٹ میں جاتے ہیں تو مسئلہ ہوتا ہے لہذا انڈرڈاگ رہنے کا فائدہ ہوتا ہے۔

 

 

’اس ٹیم کے پندرہ کے پندرہ کھلاڑی ٹرمپ کارڈ ہیں اور کسی ایک کھلاڑی پر انحصار نہیں کیا جارہا بلکہ ہر کھلاڑی کی صلاحیتوں کا فائدہ اٹھایا جائے گا۔`
سرفراز احمد نے کہا کہ ٹیم نے اس عالمی مقابلے کے لیے جو سخت محنت کی ہے وہ میدان میں نظر آئے گی۔
انھوں نے کہا کہ محمد حفیظ اور شعیب ملک ٹیم کے دو سینئر کھلاڑی ہیں اور ان کے وسیع تجربے سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جائے گی۔
سرفراز احمد نے اس تاثر کو مسترد کردیا کہ ٹیم کی تشکیل میں ان کی رائے کو زیادہ اہمیت نہیں دی گئی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ٹیم تیار کرتے وقت سب کی مشاورت شامل ہوتی ہے۔
سرفراز احمد نے کہا کہ ٹیم نے وزیراعظم عمران خان سے جو ملاقات کی تھی اس میں انھوں نے ٹیم کو یہی مشورہ دیا کہ دلیری اور اپنی بہترین صلاحیتوں کے ساتھ کھیلنا۔
سرفراز احمد نے کہا کہ وہ ورلڈ کپ کے تمام نو میچوں کو ایک جیسی اہمیت کے ساتھ کھیلیں گے صرف بھارت کے خلاف میچ پر ہی نظر نہیں ہوگی۔
ورلڈ کپ مقابلوں میں انڈیا سے کبھی نہ جیتنے کے بارے میں سوال پر سرفراز احمد نے کہا کہ ’ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ ہم نے دو سال قبل چیمپینز ٹرافی کے فائنل میں بھارت کو بھاری فرق سے شکست دی تھی۔‘

سرفراز احمد نے اس امید کا اظہار کیا کہ شاداب خان ورلڈ کپ تک فٹ ہو جائیں گے۔
سرفراز احمد نے فٹنس ٹیسٹ پاس نہ کرنے کے باوجود عماد وسیم کو ٹیم میں شامل کیے جانے کے بارے میں کہا کہ فٹنس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا گیا ہے۔
’عماد وسیم نے ایک کے سوا تمام فٹنس ٹیسٹ کلیئر کیے ہیں، ان کے گھٹنے کا مسئلہ ہے اور انہیں ٹیم کے کامبی نیشن میں اہمیت کے پیش نظر شامل کیا گیا ہے۔‘
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مکی آرتھر کا کہنا ہے کہ انہیں اپنے کھلاڑیوں پر مکمل بھروسہ ہے اور ٹیم اپنی بہترین صلاحیتوں کا مظاہرہ کرے گی۔
مکی آرتھر نے کہا کہ ان کی پہلی ترجیح ہوگی کہ لیگ میچوں میں کامیاب ہوکر سیمی فائنل لائن اپ میں جگہ بنائی جائے۔
انھوں نے کہا کہ اگر کنڈیشنز خشک ملیں تو ہمارے بولرز کو ریورس سوئنگ کا موقع ملے گا۔
مکی آرتھر نے کہا کہ بابراعظم ایک باصلاحیت بیٹسمین ہیں جن کا کردار بہت اہم ہوگا۔
انھوں نے کہا کہ شاداب خان کھیل کے تینوں شعبوں میں غیرمعمولی صلاحیتوں کے حامل کھلاڑی ہیں یقیناً ان کی کمی محسوس ہوگی لیکن یہ ٹیم فرد واحد پر انحصار نہیں کرتی بلکہ یہ پندرہ کھلاڑیوں کی ٹیم ہے۔
مکی آرتھر سے جب ورلڈ کپ کے بعد ان کے مستقبل کے بارے میں سوال کیا گیا تو ان کا جواب تھا کہ اس کا انحصار پاکستان کرکٹ بورڈ پر ہوگا۔
یاد رہے کہ مکی آرتھر اور دیگر کوچنگ سٹاف کا معاہدہ ورلڈ کپ تک کا ہے۔