تائیوان: خاتون کی آنکھ سے چار زندہ مکھیوں کو نکال لیا گیا

 

 

تائیوان میں ڈاکٹروں نے ایک مریضہ کی آنکھ سے چار مکھیوں کو ایک کامیاب آپریشن کے بعد زندہ حالت میں نکال لیا ہے۔
28 سالہ خاتون جن کی شناخت ’ہی‘ کے نام سے ظاہر کی گئی ہے، گھاس کی صفائی کر رہی تھیں کہ چار چھوٹی مکھیاں ان کی آنکھ میں چلی گئیں۔

 

فوین یونیورسٹی ہسپتال کے ڈاکٹر ہانگ چی ٹنگ نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے ان چار ملی میٹر کی کیڑے نما مکھیوں کو ٹانگوں سے پکڑ کر ’ہی‘ کی آنکھ سے باہر نکالا تو وہ حیران رہ گئے۔
ہی کو اب ہسپتال سے گھر بھیج دیا گیا ہے اور وہ جلد مکمل طور پر صحت یاب ہو جائیں گی۔
جن مکھیوں کو ‘ہی’ کی آنکھ سے نکالا گیا انھیں ’سویٹ بیز‘ یا ناقب مکھیاں بھی کہا جاتا ہے اور یہ مکھیوں کی طرح کے باریک سے کیڑے ہوتے ہیں۔
یہ مکھیاں نما حشرات میٹھی چیزوں پر آتے ہیں اور بعض اوقات انسانی جسم پر پسینہ چوسنے کے لیے چپک جاتے ہیں۔ کینزس ایٹیمولوجیکل سوسائٹی میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق یہ حشرات انسانی آنکھ سے نکلنے والے آنسوؤں پر بھی آتے ہیں جن میں پروٹین زیادہ ہوتا ہے۔

ہی اپنے کچھ رشتہ داروں کی قبروں پر اگنے والی گھاس پھوس ہٹا رہی تھیں جب یہ مکھیاں اڑ کر ان کی بائیں آنکھ میں چلی گئیں۔
وہ چینی تہوار چنگ منگ کے موقع پر اپنے عزیزوں کی قبروں پر گئیں تھیں۔ اس سالانہ تہوار میں لوگ اپنے عزیزوں کی قبروں پر جا کر انھیں صاف کرتے ہیں۔
انھوں نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ اچانک تیز ہوا کے جھونکے سے ان کی آنکھ میں کچھ پڑ گیا اور وہ سمجھیں کہ یہ مٹی کے ذرات ہوں گے۔
لیکن کئی گھنٹے گزر جانے کے باوجود ان کی آنکھ میں جلن اور سوزش کم نہیں ہوئی جس پر انھوں نے ہسپتال جانے کا فیصلہ کیا۔
ڈاکٹر ہانگ نے بی بی سی کو بتایا کہ مریضہ اپنی آنکھ پوری طرح بند نہیں کر پا رہی تھیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ مائیکروسکوپ کے ذریعے جب انھوں نے آنکھ کا معائنہ کیا تو اس میں انھیں کچھ کالا کالا دکھائی دیا جو کسی کیڑے کی ٹانگیں لگ رہیں تھیں۔

ڈاکٹر نے کہا کہ انھوں نے ان کی ٹانگوں کو پکڑ کر آہستہ آہستہ جب اسے باہر نکالا تو یہ ایک زندہ مکھی تھی۔ اس کے بعد انھیں ایک اور مکھی نظر آئی، اور پھر ایک اور، اور اس کے بعد ایک اور۔ ڈاکٹر ہانگ نے کہا کہ یہ چاروں اس وقت تک زندہ تھیں۔

ڈاکٹر ہانگ نے کہا کہ یہ ہوا سے اڑ کر ان کی آنکھ میں چلی گئیں اور وہاں جا کر پھنس گئیں۔
ان کے مطابق عام طور پر یہ مکھیاں انسان پر حملہ نہیں کرتیں لیکن یہ پسینہ چوسنا پسند کرتی ہیں۔
ڈاکٹر ہانگ نے مزید کہا کہ ‘ہی’ نے خوش قسمتی سے لینز لگا رکھے تھے اور اسی بنا پر انھوں نے اپنی آنکھ کو ملا نہیں۔ اگر وہ اپنی آنکھیں ملتیں تو اس صورت میں یہ مکھیاں اپنا زہر ان کی آنکھ میں چھوڑ سکتیں تھیں جس سے ان کی بصارت متاثر ہو جاتی۔

یہ مکھیاں آنکھ سے نکالے جانے کے بعد بھی زندہ رہیں اور انھیں نمونے کے طور پر ایک دوسرے ادارے کو بھیج دیا گیا ہے تاکہ وہ ان مکھیوں پر مزید تحقیق کر سکیں۔
ڈاکٹر ہانگ نے کہا کہ تائیوان میں پہلی مرتبہ اس نوعیت کا کیس سامنے آیا ہے۔