سیالکوٹ میں بیٹی کا باپ پر ریپ کا الزام

 

 

پاکستان کے صوبے پنجاب کے شہر سیالکوٹ کی پولیس نے ایک شخص کو اس کی بیٹی کی جانب سے ریپ کا الزام عائد کرنے پر گرفتار کیا ہے۔
یہ واقعہ صوبہ پنجاب کے شہر سیالکوٹ کے علاقے پسرور میں پیش آیا۔
تھانہ صدر پولیس سٹیشن کے محرر نے بی بی سی کو بتایا کہ کلاس والہ گاؤں کی 15 سالہ لڑکی نبیلہ (فرضی نام) نے متعقلہ تھانے میں دی جانے والی درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ وہ چھ بہن بھائی ہیں اور بڑی بہن کی شادی کے بعد اب وہ اپنے بہن بھائیوں میں سب سے بڑی ہے۔

پولیس کے مطابق مقامی عدالت سے ملزم امجد کا دو دن کا جسمانی ریمانڈ حاصل کرکے اس مقدمے کی تحقیقات شروع کرد ی گئی ہیں۔
تھانہ صدر کے محرر کے مطابق متاثرہ لڑکی کا ڈی این اے ٹسیٹ بھی کروایا گیا ہے اور پولیس اہلکار کے بقول ڈاکٹروں کے اپنی ابتدائی رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ لڑکی کے ساتھ ریپ کیا گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ڈی این اے کے نمونے لاہور کی فرانزک لیبارٹری میں بھجوا دیے گیے ہیں اور متعقلہ حکام سے درخواست کی گئی ہے کہ اس ٹیسٹ کی رپورٹ جلد از جلد فراہم کریں۔
پولیس کے مطابق لڑکی کا مزید کہنا ہے کہ اس کی والدہ کا ایک ماہ پہلے انتقال ہوا تھا۔
یہ بھی پڑھیے

 

 

 

 

پولیس کے مطابق درخواست گزار کا کہنا تھا کہ چند روز قبل وہ ایک کمرے میں اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ سو رہی تھی کہ اس کے والد اس کی چارپائی کے پاس آئے اور اسے جان سے ماردینے کی دھمکی دے کر زبردستی اپنی چارپائی پر لے گئے جہاں درخواست گزار کے بقول اس کے والد نے ان کا ریپ کیا۔

پولیس کے مطابق درخواست گزار کا کہنا تھا کہ ملزم نے دو تین بار ان کا ریپ کیا۔
نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ متاثرہ لڑکی نے اپنی درخواست میں کہاہے کہ اس نے واقعے سے متعلق اپنی چچی کو بتایا جس کے بعد وہ اپنے والد کے خلاف مقدمہ درج کروانے کے لیے تھانے آئی۔

پولیس نے متاثرہ لڑکی کی درخواست پر ملزم امجد کے خلاف ضابطہ فوجداری کی دفعہ 376 کے تحت مقدمہ درج کرکے اسے گرفتار کر لیا۔
پولیس کے مطابق یہ ایک ناقابل ضمانت جرم ہے اور جرم ثابت ہونے پر تعزیرات پاکستان کے تحت اس کی سزا عمر قید ہے۔
پولیس کے مطابق اس واقعہ کی اطلاع ملنے پر اہل محلہ ملزم کے گھر پہنچ گئے اور اسے تشدد کا نشانہ بنانے کی کوشش کی تاہم پولیس موقع پر پہنچ گئی اور ملزم کو گرفتار کر لیا۔