کرن جیت اہلووالیا: گھریلو تشدد سے تنگ آ کر شوہر کو جلا دینے والی خاتون

 

 

یہ بات 1989 کی بہار کی ایک شام کی ہے جب دیپک اہلووالیا نے اپنی بیوی کرن جیت کے بالوں کو مروڑ کر پورے زور سے پکڑا اور گرم استری ان کے چہرے سے لگا دی۔
کرن جیت نے دیپک کی گرفت سے نکلنے کے لیے ہاتھ پاؤں مارے لیکن اس وقت تک ان کے چہرے کی جلد جل چکی تھی اور اس پر مستقل نشان پڑ چکا تھا۔
کرن اہلووالیا کہتی ہیں کہ ان کا شوہر ان پر دس برس سے تشدد کر رہا تھا لیکن اس دن تو انتہا ہو گئی تھی۔ ’میں اس کے بعد سو نہیں سکی اور میں بری طرح رو رہی تھی۔ مجھے درد ہو رہا تھا، نہ صرف جسمانی بلکہ روحانی طور پر بھی۔‘

اس واقعے کے 30 برس بعد بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میں بھی اس کی پٹائی کرنا چاہتی تھی۔ میں اسے اسی طرح مارنا چاہ رہی تھی جیسے اس نے مجھے مارا تھا۔ میں چاہتی تھی کہ بھی اس درد کو محسوس کرے جو مجھے ہو رہا تھا۔ میں اس سے آگے کچھ نہیں سوچ رہی تھی۔ میرا دماغ بالکل ماؤف ہو چکا تھا۔‘

اور پھر اسی رات جب ان کا شوہر سو رہا تھا، انھوں نے اس کے پاؤں پر پیٹرول ڈالا اور اپنے شوہر کو آگ لگا دی۔ انھوں نے اپنے بیٹے کو پکڑا اور گھر سے باہر بھاگ گئیں۔
’میں نے سوچا تھا کہ میں صرف اس کے پاؤں کو جلاؤں گی تا کہ وہ بھاگ کر میرے پیچھے نہ آ سکے۔ میں نے سوچا یوں اس کے پاؤں پر نشان پڑ جائے گا اور اسے ہمیشہ یاد رہے گا کہ اس کی بیوی نے بھاگنے سے پہلے اس کے ساتھ کیا کیا تھا۔ یوں وہ جب بھی اس نشان کو دیکھے گا اسے میری یاد آئے گی۔‘

کرن جیت اپنے اس بیان پر قائم ہیں کہ اپنے شوہر کو جان سے نہیں مارنا چاہتی تھیں لیکن دس دن کے بعد دیپک کی موت ہو گئی۔
اس سال دسمبر میں کرن جیت کو اپنے شوہر کے قتل کا مرتکب پا کر عدالت نے انھیں عمر قید کی سزا سنا دی۔
کرن جیت انڈیا کی شمالی ریاست پنجاب میں پیدا ہوئی تھیں۔
جب وہ سولہ سال کی ہوئیں تو ان کے ماں باپ انتقال کر چکے تھے، لیکن وہ کہتی ہیں کہ اس کے باوجود ان کا بچپن بہت اچھا گزرا۔ نو بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی ہونے کی وجہ سے ہر کوئی ان سے پیار کرتا تھا۔

تاہم جب وہ اٹھارہ، انیس سال کی ہوئیں تو ان پر شادی کے لیے دباؤ بڑھتا گیا۔
’میں بالکل شادی نہیں کرنا چاہتی تھی، چنانچہ میں اپنی بڑی بہن کے پاس کینیڈا چلی گئی۔ میں اپنی بھابیوں کی طرح شادی اور بچے کر کے مستقل طور پر انڈیا میں نہیں رہنا چاہتی تھی۔ میں کام کرنا چاہتی تھی، پیسے کمانا چاہتی تھی اور اپنی زندگی خود گزارنا چاہتی تھی۔‘

لیکن جب انگلینڈ میں مقیم کرن جیت کی بہن نے ان کے لیے ایک رشتہ تلاش کر لیا تو وہ اس پر راضی ہو گئیں۔
’وہ مجھے ملنے کینیڈا آیا۔ اس نے پانچ منٹ ہی مجھ سے بات کی تھی کہ میں نے ہاں کر دی۔ مجھے پتا تھا کہ میں بھاگ نہیں سکتی تھی، مجھے شادی کرنا ہی تھی۔ تو یہی ہوا اور میری آزادی چلی گئی۔‘
اپنے شوہر کی شروع شروع کی باتیں یاد کرتے ہوئے کرن جیت کا کہنا تھا کہ وہ ’بہت اچھی شکل و صورت والا تھا، بہت ہینڈسم اور چارمنگ۔‘
لیکن کرن جیت کو بالکل پتا نہیں تھا کب اس کا دماغ گھوم جائے گا۔ ’ایک لمحے وہ اتنا اچھا ہو جاتا جیسے سونا ہو، اور اگلے ہی لمحے وہ غضبناک ہو جاتا۔‘
کرن جیت کہتی ہیں کہ ان کے ساتھ زیادتی اسی دن شروع ہو گئی تھی جس دن ان کی شادی ہوئی۔
’اگر اسے غصہ آ جاتا تو مت پوچھیں۔ چیخنا، مارنا، چیزیں اٹھا کر ادھر سے ادھر پھینکنا، مجھے دھکے دینا اور پھر چاقو دکھا کر ڈرانا۔ اس نے کئی دفعہ میرا گلا گھونٹنے کی کوشش کی۔ میرے گلے اور جسم پر نشان پڑ جاتے اور کئی دن تک بول نہیں سکتی تھی۔‘

’مجھے یاد کہ اس کی سالگرہ تھی، اس کے لیے میں نے اوور ٹائم کام کیا اور تحفے کے طور پر اسے سونے کی انگوٹھی لا کر دی۔ اسی ہفتے، اسے ایک مرتبہ پھر غصہ آ گیا اور اس نے مکہ مار کر اُسی انگوٹھی سے میرا ایک دانت توڑ دیا۔‘

کرن جیت کہتی ہیں کہ وہ جب بھی گھر چھوڑنے کی کوشش کرتیں، ان کا شوہر انھیں تلاش کر کے واپس لے آتا اور مار پیٹ کرتا۔
شادی کے پانچ برس بعد جب دونوں میاں بیوی انڈیا گئے تو کرن جیت نے اپنے بڑے بھائی کو بتا دیا کہ دیپک کے ہاتھوں وہ کتنا تشدد برداشت کر چکی ہیں۔ یہ سن کر ان کے گھر والے شروع شروع میں تو پریشان ہوگئے لیکن پھر جب ان کے شوہر نے معافی مانگ لی تو گھر والوں نے انھیں واپس اپنے گھر جانے پر قائل کر لیا۔

لیکن انگلینڈ واپس آنے کے چند ماہ بعد تشدد کا سلسلہ پھر شروع ہو گیا۔
اس دوران دیپک نے کسی دوسری خاتون سے تعلقات قائم کر لیے اور کرن جیت سے پیسوں کا مطالبہ شروع کر دیا۔ اس بات پر دونوں میں جھگڑا ہوا اور پھر آگ لگانے والا واقعہ۔
’میں فرار نہیں ہو سکتی تھی، میں طلاق بھی نہیں لے سکتی تھی۔ ادھر سے گھر والے دباؤ ڈال رہے تھے کہ بچہ پیدا کرو۔ ہر کوئی یہی کہہ رہا تھا کہ اگر تم بچہ کر لو گی تو ہو سکتا ہے تمہارا شوہر بدل جائے۔ وہ ذمہ دار ہو جائے گا۔‘

’لیکن وہ کبھی نہیں بدلا، بلکہ پہلے سے زیادہ برا ہو گیا۔‘
وہ کہتی ہیں جب ان پر شوہر کو قتل کرنے کا مقدمہ چلا تو اس بات پر کوئی توجہ نہیں دی گئی کہ اس نے مجھ پر کس قدر تشدد کیا تھا۔ اور جب انھیں سزا سنائی گئی تو کرن جیت کے بقول انھیں شدید غصہ آیا۔
استغاثہ کے وکیل نے کہا کہ کرن جیت نے اپنے شوہر کو اس لیے نشانہ بنایا کہ وہ اس خاتون سے حسد کرنا شروع ہو گئی تھیں جس سے ان کے شوہر کا معاشقہ چل رہا تھا، اور دونوں کی تکرار ہوئی اور جب انھوں نے شوہر کو آگ لگائی، اس دوران اتنا وقت گزر چکا تھا کہ کرن جیت کا غصہ ٹھنڈا ہو چکا تھا اور اگلا قدم اٹھانے سے پہلے وہ اس کے نتائج کے بارے میں سوچ سکتی تھیں۔

’مجھے برطانیہ کے قانون پر پورا بھروسہ تھا۔ میرا خیال تھا برطانیہ کا قانون جدید ہے اور یہ لوگ سمجھ جائیں گے کہ میں کتنا زیادہ تشدد برداشت کر چکی تھی۔ لیکن انھوں نے کبھی یہ نہیں سمجھا کہ میں کتنے سال تک تشدد کا نشانہ بنتی رہی تھی۔‘

جب ایک دفعہ وہ جیل پہنچ گئیں، تو کرن جیت کے بقول انہیں محسوس ہوا کہ وہ آزاد ہو گئی ہیں، اپنے شوہر سے دور۔
جیل میں انھوں نے بیڈمنٹن کھیلنا شروع کر دیا، انگریزی کی کلاس لینا شروع کر دی اور حتیٰ کہ ایک اور مصنف کے ساتھ مل کر اپنی زندگی کی کہانی بھی لکھی۔ ان کی اس سوانح حیات پربعد میں ایک فلم بھی بنائی گئی۔

کرنجیت کا معاملہ سیاہ فام اور ایشیائی خواتین کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم ’ساؤتھ ہال بلیک سسٹرز‘ نے بھی اٹھایا۔
اس خیراتی ادارے کی ڈائریکٹر پراگنا پٹیل کہتی ہیں کہ ’ہم نے اُس وقت کرن جیت کے وکیلوں سے بات کرنے کی کوشش کی اور انھیں ان کے ثقافتی پس منظر کے بارے میں آگاہ کرنے کی کوشش کی۔ آخر کرن جیت جیسی خاتون گھریلو تشدد والی شادی سے نکل کیوں نہیں سکتی۔‘

لیکن ان کے بقول عدالت نے ’ہماری نہیں سنی‘ اور وکیلوں نے بھی کرن جیت کے پس منظر کو سمجھنے میں کوئی ’دلچسپی ظاہر نہیں کی۔‘
پھر اس تنظیم کی مسلسل کوششوں کے بعد سنہ 1992 میں کرنجیت کی اپیل کم ذمہ داری یا ’ڈی منشڈ رسپانسیبلٹی‘ کی بنیاد پر منظور کر لی گئی۔
اس اپیل کی سماعت کے دوران عدالت کو اس بات کے مزید ثبوت پیش کیے گئے کہ کرن جیت واقعے سے پہلے برسوں سے تشدد اور بدسلوکی کی وجہ سے ذہنی دباؤ کا شکار تھیں۔
عدالت نے یہ تسلیم کر لیا کہ دونوں میں تکرار اور آگ لگانے کے واقعے کے درمیان جو عرصہ گزرا اس میں ’کرن جیت کا غصہ کم ہونے کی بجائے ان کا ’خون زیادہ کھولا۔‘
ہائی کورٹ میں اس مقدمہ کی دوبارہ سماعت ہوئی، جہاں یہ تسلیم کر لیا گیا کہ دیپک کا قتل غیر اداری تھا اور ان کی عمر قید کی سزا کم کے تین سال اور چار ماہ کر دی گئی۔ یہ وہ عرصہ تھا جو جیل میں پہلے ہی گزار چکی تھیں، یوں انھیں اسی دن فوری طور پر رہا کر دیا گیا۔

کرنجیت کی رہائی نے برطانیہ کی عدالتی تاریخ میں ایک مثال قائم کر دی جس میں عدالت نے تسلیم کیا کہ جن خواتین پر تشدد کیا جاتا ہے اور انھیں اکسایا جائے تو ان کا جواب فوری ردعمل کے بجائے ’آہستہ آہستہ سلگتی ہوئی آگ‘ جیسا بھی ہو سکتا ہے۔

اس فیصلے نے یہ پیغام بھی دیا کہ وہ خواتین جو شدید گھریلو تشدد کے ردعمل میں کسی کو قتل کر دیتی ہیں، اسے سوچا سمجھا سفاکانہ قتل نہ سمجھا جائے۔
کرن جیت کی کامیاب اپیل کو ساؤتھ ہال بلیک سِسٹرز کی 40 سالہ تاریخ میں سب سے زیادہ قابل ذکر کیس گنا جاتا ہے۔
اپنے یوم تاسیس پر یہ تنظیم کرن جیت کے مقدمے پر بننے والی فلم ’پروووکڈ‘ اس اختتامِ ہفتہ پر نمائش کے لیے پیش کر رہی ہے۔
تنظیم کی ڈائریکٹر پراگنا پٹیل کہتی ہیں کہ کئی برادریوں میں خواتین پر تشدد کے معاملات کم نہیں ہوئے ہیں، بلکہ لگتا ہے کہ ان میں اضافہ ہو گیا ہے۔
’یہ کہنا مشکل ہے کہ اس اضافے کی وجہ یہ ہے کہ اب خواتین نے ایسے واقعات کو رپورٹ کرنا شروع کر دیا ہے یا واقعی ایسے واقعات میں اضافہ ہو گیا ہے۔‘
دریں اثنا، انگلینڈ میں مقیم کرن جیت کہتی ہیں کہ جس طرح انھوں نے پچھلے 30 برس میں اپنی زندگی ایک مرتبہ پھر بنائی ہے، انھیں اس پر فخر ہے۔
’میں نے محنت کی ہے، اب میرے پاس ملازمت بھی ہے، میرے دونوں بیٹے گریجویٹ ہو گئے ہیں اور میں دادی بن چکی ہوں۔‘
’30 سال، اب یہ ایک بُرا خواب لگتے ہیں۔‘