الیکٹرانک موسیقی سے مچھروں سے بچاؤ ممکن

سوچیں آپ کسی مرطوب آب و ہوا کے ملک میں چھٹیاں گزارنے گئے ہیں۔ آپ کا چہرہ سورج کی روشنی سے تمتا رہا ہے اور ٹھنڈی ہوا آپ کے بالوں کو چھو رہی ہے، کوئی آپ کو انناس میں سٹرا ڈال کر دیتا ہے اور آپ اس سے لطف اندوز ہونا شروع ہی کرتے ہیں تو آپ کے چہرے پر کوئی پنجے گاڑ دیتا ہے، اور آپ اپنے آپ کو مچھروں سے بچانے میں مصروف ہوجاتے ہیں۔

سائنسدانوں کی ٹیم نے ان مچھروں کو ڈی جے سکریلیکس کے گانے سنائے اور پھر ان کی مختلف حرکات کی نگرانی کی۔ سائنسدانوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ الیکٹرانک میوزک سن کر مچھروں میں خون چوسنے اور سیکس کرنے کی صلاحیت میں کمی واقع ہوئی۔

تحقیق کاروں کی رپورٹ جو ایکٹا ٹروپیکا جریدے میں شائع ہوئی، میں لکھا گیا ہے کہ شور اور ارتعاش سے حشرات الارض کی جنسی سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں۔

تحقیق کے مطابق مادہ مچھر سکریلیس کا میوزک خصوصاً ان کے گانے ‘سکیری مونسٹر، اور’ نائس سپرائٹس’ سن کر بہت محظوظ ہوئیں اور اپنے مہمانوں پر زیادہ وقفے سے اور کم تواتر سے حملے کیے۔

سائنسدانوں کو یہ بھی پتہ چلا کہ جب مچھروں کو میوزک سنایا جا رہا تھا اس وقت ان میں مباشرت کم ہو گئی۔

سائنسدانوں کےاس مشاہدے سے انسانوں کی مچھروں سے بچاؤ کی نئی راہیں کھل گئی ہیں۔

اور اگلی بار جب آپ چھٹیوں پر ہوں اور مچھروں کے ہاتھ زچ ہو رہے ہوں تو آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ مچھروں سے بچاؤ کے لیے آپ کو کونسا میوزک سننا چاہیے۔