وفاقی حکومت کا مسئلہ 18ویں ترمیم ہے یا این ایف سی ایوارڈ؟

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ 18ویں ترمیم کے بعد وفاق کے پاس فنڈز کی کمی ہے اور وہ دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ چکا ہے۔
بی بی سی اردو نے معاشی ماہرین سے بات کر کے جائزہ لینے کی کوشش کی ہے کہ 18ویں ترمیم کے تحت نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ کے بعد وفاقی اور صوبوں کے پاس کتنے فنڈز ہوتے ہیں
این ایف سی ایوارڈ کے تحت اب ملک کی کل آمدن کا 57 فیصد حصہ صوبوں میں آبادی کے تناسب سے تقسیم ہو جاتا ہے جبکہ وفاق کے پاس 43 فیصد بچتا ہے۔
اس کو رقم کی شکل میں دیکھیں تو پاکستان کی کل سالانہ آمدن تقریباً 4000 ارب روپے ہے جس سے وفاق کے پاس 2000 ارب رہتے ہیں جبکہ 2500 ارب صوبوں میں تقسیم ہو جاتے ہیں۔
وفاق کو اس رقم سے دفاعی اخراجات پورے کرنے ہیں، قرضوں کی سالانہ قسطیں بھی ادا کرنی ہیں۔ حکومت بھی چلانی ہے، اور اس سے ترقیاتی کام بھی کرنے ہیں۔
وفاقی حکومت چاہتی ہے کہ صوبوں کے فنڈز کم کر دیے جائیں لیکن صوبے اس پر تیار نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ وفاقی حکومت دہشتگردی سے متاثرہ خیبرپختونخوا کو اضافی ایک فیصد فنڈز دیتی ہے اور اب شاید اتنی ہی رقم بلوچستان کو بھی دینی پڑے جو دہشت گردی سے متاثر ہو رہا ہے۔

ڈاکٹر عشرت حسین نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں پاکستان کے مسائل کچھ ایسے بیان کیے ہیں۔
‘پاکستان اپنی قومی آمدن کا 88 فیصد خرچ کر لیتا ہے اور اس میں سے صرف بارہ فیصد بچا پاتا ہے جس کی سرمایہ کاری سے صرف تین سے چار فیصد کی شرح سے ترقی ممکن ہے اور اس طرح اسے اپنی آمدن کو دگنا کرنے میں 40 سے 50 برس لگیں گے۔

تو اس مسئلے کے حل کے لیے پاکستان کو اپنی بچت کی شرح کو بڑھانے اور بیرونی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔
بھارت اور بنگلہ دیش کو اسی طرح کے مسائل کا سامنا تھا لیکن اب ان کی بچت کی شرح 25 سے 30 فیصد ہو چکی ہے جس سے ان کی سالانہ ترقی کی شرح چھ سے سات فیصد تک پہنچ چکی ہے۔
دوسرا بڑا مسئلہ ہمارا کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا ہے۔ پاکستان کی برآمدات 21 ارب ڈالر کے قریب ہیں جبکہ ان کی درآمدات 55 ارب ڈالر کے قریب ہیں۔ آمدن اور خرچ کے اس فرق کو ختم کرنے کے لیے قرضوں کی ضرورت پڑتی ہے۔‘

اگر وفاق ان ذمہ داریوں سے دستبردار ہو جائے جو 18ویں ترمیم کے بعد صوبوں کو منتقل ہو چکے ہیں اور ان وزارتوں اور ایجنسیوں کو بند کر دے تو اس سے ان کو بہت زیادہ بچت ہو گی اور پھر وفاقی حکومت کو صوبوں سے مانگنے کی ضرور نہیں پڑے گی۔

وفاق کو چودہ سے بیس وزارتیں یا ایجنسیاں بند کر دینی چاہیں۔
اگر وفاقی حکومت 18ویں ترمیم پر عمل کرے تو اس کے اخراجات میں کمی ہو جائے گی۔
وفاقی حکومت کے پاس فنڈز کی کمی کا 18وں ترمیم سے اتنا بڑا تعلق نہیں ہے لیکن این ایف سی ایوارڈ کا ہے۔ بہت سی چیزیں جو اب صوبوں کو منتقل ہو گئی ہیں اس کی وجہ سے این ایف سی میں صوبوں کا حصہ بڑھا دیا گیا ہے۔

وفاقی حکومت اس لیے بھی مشکل میں ہے کہ قرضوں کا پہاڑ ہے جس کی ادائیگیاں وفاقی حکومت کو کرنی ہیں اور وہ ادائیگیاں بہت زیادہ ہو چکی ہیں۔
وفاقی حکومت کو اپنے ان وسائل سے صحت، تعلیم، دفاعی اخراجات پورے کرنے ہیں اور قرضوں کی واپسی کرنی ہے۔
ہمیں دیکھنا ہے کہ کیا حکومت یہ تمام سروسز مہیا کرسکے گی یا اسے اپنے آپ کو محدود کرنا ہے۔
صوبوں کے لیے این ایف سی ایوارڈ میں مختص کیا گیا حصہ کم نہیں ہو سکتا۔ اس صورتحال میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو وہ کرنا ہے جو آئین میں دیا گیا ہے۔
وفاقی حکومت کا اعتراض 18ویں ترمیم سے زیادہ این ایف سی ایوارڈ پر ہے۔ ترمیم میں این ایف سی کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ صوبوں کے فنڈز میں اضافہ تو ہو سکتا ہے کمی نہیں ہو سکتی۔
ہم اسے این ایف سی کی خامی تو کہہ سکتے ہیں لیکن یہ 18ویں ترمیم کی غلطی نہیں ہے۔ اگر ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے تو وہ این ایف سی کو ہے۔’
صوبوں کے فنڈز میں یکدم 42 فیصد سے بڑھا کر 57 فیصد تو کر دیے گئے لیکن صوبوں سے کوئی کمٹنمٹ نہیں لی گئی کہ وہ اپنے ذرائع آمدن کو بڑھائیں گے۔ اب صوبوں کو یکدم اتنی بڑی رقم مل جانے کے بعد ان کو اپنے فنڈز کو بڑھانے کی ترغیب ہی نہیں رہی ہے۔

18ویں ترمیم میں صحت ، تعلیم کے علاوہ کئی شعبے صوبوں کے دائرہ اختیار میں چلے گئے ہیں لیکن وفاقی حکومت بھی ان شعبوں پر اخراجات کر رہی ہے۔
اگر وفاقی حکومت مکمل طور پر ان شعبوں سے دستبردار ہو جائے اور وہ وزارتیں اور ایجنسیاں بند کر دے تو اس سے اچھی خاصی رقم بچ جائے گی۔
وفاقی حکومت انسداد پولیو، فلڈ پروٹیکشن جیسے بڑے بڑے پروگرامز کی فنڈنگ کر رہی ہے۔
اگر حکومت ان تمام شعبوں کی فنڈنگ چھوڑ دے جو 18ویں ترمیم میں صوبوں کو منتقل کر دیے گئے ہیں تو اس کے فنڈز کی صورتحال بہتر ہو سکتی ہے۔
تمام ترقی یافتہ ملکوں میں عوامی فلاح کے لیے ادائیگیاں کی جاتی ہیں۔ کہیں بےروزگاری الاوئنس کی شکل میں اور کہیں بچوں کے الاوئنس کے طور۔ ایسی ادائیگیاں معیشت کو چلاتی ہیں۔
اگر میرے پاس استعداد نہیں ہے اور حکومت کی طرف سے مجھے امداد مل جاتی ہے تو میں اس سے ضروری اشیا خریدتا ہوں جس سے معیشت چلتی ہے، تو ایسی ادائیگیاں ضائع نہیں ہوتیں بلکہ سے معیشت کو سہارا ملتا ہے۔
اس سکیم کے تحت فنڈز ضائع نہیں ہوتے کوئی تھوڑی بہت خرد برد شاید ہو جاتی ہو لیکن اس پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
مسئلہ صرف نام سے ہے۔ اس کا نام بےنظیر انکم سپورٹ اس لیے ہے کہ یہ سکیم پیپلز پارٹی کے دور میں شروع ہوئی لیکن اس کا ڈیزائن تو ورلڈ بینک کے ساتھ مل کر پہلے ہی تیار ہو چکا تھا اور اس وقت اسے نیشنل انکم سپورٹ کہا جاتا تھا۔

اس سکیم کا مقصد غربت کی لکیر سے نیچے موجود لوگوں کو تھوڑی سی مدد مہیا کرنا ہے تاکہ وہ اپنی انتہائی بنیادی ضرورتوں کو پورا کر سکیں۔ اسے کسی صورت بھی پیسے کا ضیاع نہیں کہہ سکتے۔
بینظیر انکم سپورٹ کا حجم اب 140 ارب روپے کے قریب ہے لیکن ساری دنیا میں حکومتیں اپنے غریب طبقوں کی مالی مدد کے لیے ایسے فنڈز شروع کرتی ہیں۔
حتیٰ کہ عالمی ڈونر جو بجلی اور گیس کے نرخ بڑھانے پر زور دیتے ہیں وہ ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ غریب طبقوں کے لیے ایسے فلاحی پروگرام شروع کیے جائیں۔
یہ سوچ غلط ہے۔ اگر کنفیڈریشن ہو تو اس میں تمام وسائل صوبےاکٹھے کریں گے اور اس کا ایک حصہ وفاق کو دیں گے۔
قومی اسمبلی میں صوبوں کی نمائندگی آبادی کے لحاظ سے نہیں ہو گی بلکہ چاروں صوبوں کی یکساں نمائندگی ہو گی۔ 18ویں ترمیم میں یہ نہیں ہے۔
اس ترمیم میں قومی اسمبلی میں صوبوں کی نمائندگی آبادی کے لحاظ سے ہے اور سوائے جنرل سیلز ٹیکس کے تمام بڑے ٹیکس وفاقی حکومت وصول کرتی ہے۔
پاکستان ایک مکمل طور پر فیڈریشن ہے۔ دوسرے ممالک میں صوبوں کے پاس اس سے بھی زیادہ اختیارات ہیں۔
پاکستان کی ایک کامن مارکیٹ ہے اور اس کا سارا ڈھانچہ ہی ایک معیشت کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اس کی چار معیشتیں نہیں ہیں، اس کی ایک ہی معیشت ہے۔
ایک بہت بڑا ملک ہے اگر آپ ایک چیز کراچی میں پیدا کرتے ہیں تو اسے خیبر پختونخوا میں بھی بیچ سکتے ہیں اور اس کامن مارکیٹ کے بہت زیادہ فوائد ہیں۔
پاکستان ایک فیڈریشن ہے کنفیڈریشن نہیں ہے۔