افراط زر کیا ہے اور اس میں تیزی سے اضافہ کیسے ہوا؟

پاکستان میں شماریات کے سرکاری ادارے بیورو آف سٹیٹسکس کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق ملک میں افراطِ زر کی شرح گزشتہ پانچ برس کے دوران بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔
ادارۂ شماریات کے مطابق مارچ 2019 میں افراطِ زر کی شرح

فیصد رہی جبکہ فروری میں یہ شرح

فیصد تھی۔

یہ اعدادوشمار ایک ایسے موقع پر سامنے آئے ہیں جب حکومت نے ماہِ اپریل کے آغاز میں پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں بھی چھ روپے کا اضافہ کیا ہے۔ اس صورتحال میں مہنگائی اب عوام کو درپیش سب سے بڑے مسئلے کے طور پر سامنے آ رہی ہے۔

افراطِ زر کیا ہوتا ہے، یہ مہنگائی یکایک کیسے بڑھ جاتی ہے اور حکومت اور ایک عام آدمی اس دو مزید مشکلات سے کس قدر بچ سکتا ہے۔ یہ سوالات ہماری ساتھی حمیرا کنول نے ماہر معاشیات قیصر بنگالی کے سامنے رکھے۔

کسی چیز کی قیمت بڑھتی ہے تو اسے افراط زر (مہنگائی) کہتے ہیں لیکن یہاں جس افراط زر کی بات ہو رہی ہے وہ کسی ایک دو یا درجنوں اشیا کی بات نہیں۔
سادہ زبان میں کہا جائے تو کسی معیشت میں مجموعی طور پر جتنی اشیا خریدی جاتی ہیں اس کی اوسطاً قیمت اگر بڑھتی ہے تو ہم اسے افراطِ زر کہتے ہیں۔

اشیا کی قیمت بڑھنے کی دو وجوہات ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ اشیا کی تیاری کی لاگت بڑھ جاتی ہے، مطلب خام مال کی قیمت زیادہ ہوئی یا پھر اجرت زیادہ لگی اس پر جو خرچہ زیادہ ہوا تو قیمت بھی بڑھ جائے گی۔ اسے ‘کاسٹ پش انفلیشن’ کہتے ہیں۔

دوسری وجہ محدودیت ہے۔ یعنی مارکیٹ میں مال کم ہے لیکن خریدار زیادہ ہیں۔ کچھ گاہک زیادہ پیسہ دینے کو بھی تیار ہوتے ہیں اسے ‘ڈیمانڈ پش انفلیشن’ کہتے ہیں۔
یہاں مثال تیل کی قیمت کی ہے۔ اگر تیل کی قیمت بڑھ جاتی ہے تو وہ کاسٹ پش انفلیشن ہے۔ کیونکہ اسی ایندھن کی مدد سے چلنے والا ٹرک اشیا منڈیوں تک پہنچاتا ہے۔ یوں تیل کی قیمت میں اضافے کا اثر ان تمام چیزوں کی قیمت پر پڑے گا اور وہ بڑھ جائے گی۔

اور ایک وجہ نوٹ چھاپنا بھی ہے۔ اگر حکومت زیادہ پیسے چھاپتی ہے تو پھر لوگوں کے پاس زیادہ پیسے آ جاتے ہیں۔ منڈی میں چیزیں محدود ہوتی ہیں اور لوگوں کے پاس پیسے زیادہ ہوتے ہیں تو اس سے بھی چیز مہنگی ہوتی ہے۔ اسے ‘ڈیمانڈ انفلیشن’ کہتے ہیں۔

ڈاکٹر بنگالی کے مطابق اس وقت پاکستان میں دونوں جانب سے افراط زر ہو رہا ہے۔ پہلے ڈالر 105، 115 اور پھر 145 کا ہو گیا۔ یوں جو بھی چیز ملک میں باہر سے لائی جاتی ہے وہ مہنگی پڑتی ہے۔ دوسری جانب نوٹ چھاپنا بنی ہے۔

ڈاکٹر قیصر بنگالی کے مطابق ایسا نہیں کہ اتنا افراط زر پہلی بار ہوا ہے تاہم گذشتہ حکومت میں افراط زر کی شرح تین سے پانچ فیصد تھی جو اب بڑھ کر نو فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’مجھے خدشہ ہے کہ یہ شرح 20 فیصد سے زیادہ ہو جائے گی۔
قیصر بنگالی کے مطابق حکومت کبھی بھی بےبس نہیں ہوتی۔ ’اگر یہ اپنے غیر ترقیاتی اخراجات کم کر دیں تو انھیں نوٹ نہیں چھاپنے پڑیں گے۔ اس سے ڈیمانڈ یعنی طلب کی جانب افراط زر کم ہوگی تو اس سے اس کی شرح بھی کم ہو گی۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’حکومت ٹیکس کی وصولی میں ناکام ہو گئی ہے اور یہ اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے نوٹ چھاپ رہے ہیں اور جب نوٹ چھاپیں گے تو افراط زر میں تو اضافہ ہو گا۔
’انھوں نے دعوے کیے جب دعوے کرتے ہیں تو ہوم ورک بھی کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ گھر بنائیں گے، نوکریاں دیں گے لیکن کریں گے کیسے یہ ان کو پتہ ہی نہیں کہ ہو گا کیسے؟‘
ڈاکٹر بنگالی کے مطابق حکومت میں براہ راست جو وزرا ہیں انھیں بحران کا نہ اندازہ ہے اور نہ ہی اس کے بارے میں معلوم ہے کہ اس کی نوعیت کیا ہے اور جہاں تک معیشت میں مشیر ہیں تو وہ تو پہلے بھی حکومت میں رہے ہیں اور وہ آج کے بحران کے لیے بہت حد تک ذمہ دار ہیں تو مجھے نہیں معلوم کہ ان سے کیا امید کی جا سکتی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’جہاں تک باہر سے مدد اور ملین ڈالر امداد ملنے کی بات ہے تو اس پر یہ کہہ سکتے ہیں کہ ایک تو بھیک پر معیشت ٹھیک نہیں ہو سکتی دوسرے باہر سے جو پیسہ آتا ہے وہ ماضی میں لیے جانے والے قرضوں کو واپس کرنے میں لگتا ہے۔ رات کو پیسے آتے ہیں صبح چلے جاتے ہیں اور پھر صبح ہم پھر وہیں کے وہیں کھڑے ہوتے ہیں۔‘

ڈاکٹر قیصر بنگالی نے کہا کہ ’ہم معاشی ماہرین پچھلے 40 سالوں سے کہہ رہے ہیں کہ ملک قرضوں کے بوجھ میں دبا ہوا ہے اور اسے ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کو معلوم تھا تو انھوں نے تیاری کیوں نہیں کی کہ اسے کیسے حل کریں گے۔ یہ ایسے تو نہیں کہ اچانک سب کو پتہ چلا کہ ملک میں بحران ہے۔

’نواز شریف کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار شوکت عزیز کی پالیسیوں پر عمل کرتے رہے اور شوکت عزیز اور ان کے ساتھیوں نے ہی یہ بحران پیدا کیا تھا۔
’انھوں نے درآمدات کے سارے دروازے کھول دیے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ سنہ 2002 تک ہر 100 ڈالر ملک سے باہر بھیجنے پر 125 ڈالر کی درآمدات ہوتی تھیں یعنی 25 فیصد کا خسارہ تھا۔ اور اب 100 ڈالر ایکسپورٹ پر 230 ڈالر کی امپورٹ ہوتی ہے۔ یعنی 130 فیصد خسارہ ہے۔ جب اتنا بڑا خسارہ ہو گا تو ڈالر تو مہنگا ہوگا اور جب یہ مہنگا ہو گا تو مہنگائی ہی ہو گی۔ یہ بنیاد ہے اس بحران کی۔‘

ڈاکٹر بنگالی نے کہا کہ ’اگر آپ کی آمدنی محدود ہے تو پھر آپ کو بہت سے اخراجات روکنے پڑیں گے کہ اب یہ ہم نہیں خریدیں گے۔ غریب عوام یہی کر سکتی ہے کہ روٹی کم کھائے اور بچوں کو دودھ پلانا چھوڑ دے۔‘