میکال ذوالفقار: شیردل میں انڈیا کو کہیں گالی نہیں دی گئی‘

معروف پاکستانی اداکار میکال ذوالفقار کی حال ہی میں ریلیز ہونے والی فلم ‘شیر دل’ کا موزانہ جہاں پاکستانی فلم ‘پرواز ہے جنون’ سے ہو رہا ہے وہیں ہالی وڈ فلم ‘ٹاپ گن’ سے بھی اس کا موازنہ کیا جا رہا ہے۔

میکال نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جب بھی آپ ایئرفورس کے بارے میں سوچتے ہیں تو آپ کے سامنے ‘ٹاپ گن’ ہوتی ہے۔ یہ بڑی بات ہے کہ پاکستان میں بننے والی کسی فلم کا موازنہ ٹاپ گن سے کیا جائے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا آپ خود کو ٹام کروز کے طور پر دیکھتے ہیں تو انھوں نے کہا کہ ‘میں اپنا ان سے موازنہ تو نہیں کرتا لیکن فلم میں پیش کردہ احساسات، شوٹنگ کی جہتوں اور ویژوئل کا آپ ضرور ہالی وڈ کی فلم سے مقابلہ کریں گے۔’

انھوں نے فلم ‘پرواز ہے جنون’ سے مقابلے کیے جانے کے متعلق کہا کہ جب کوئی فلم ایئر فورس پر بنتی ہے تو ان میں ایئرفورس کالج اور تربیت جیسی کچھ مماثلت ہوتی ہے لیکن ان کی فلم ‘پرواز ہے جنون’ سے بالکل مختلف ہے۔

‘یہ اس طرح مختلف ہے کہ ‘پرواز’ میں ایئرفورس کے اندرونی مسائل کو پیش کیا گیا ہے جبکہ شیردل انڈیا پاکستان جنگ پر مبنی ہے۔’
انھوں نے اس فلم کے متعلق فیفی ہارون سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘شیر دل کی اصل خوبی یہ ہے کہ ہم نے انڈیا اور پاکستان کی جنگ کی کس طرح عکاسی کی ہے۔ کوئی بھی جنگ نہیں چاہتا لیکن انڈیا نے پاکستان کے خلاف بہت سخت موقف اختیار کر رکھا ہے۔

’ان کی زبان بھی بہت ترش ہوتی ہے۔ ان کے موضوع بھی بہت سخت ہوتے ہیں لیکن ہم نے شیردل میں کہیں بھی انڈیا کو گالی نہیں دی ہے۔ ہم نے ان کے خلاف کہیں حقارت آمیز اور تذلیل کرنے والی بات نہیں کہی ہے۔’
میکال ذوالفقار نے کہا کہ ‘شیر دل کا پیغام یہ ہے کہ پاکستان ہے اور پاکستان رہے گا۔ ہمیں اب قبول کرلو۔ اگر آپ کوئی جارحانہ عمل دکھائيں گے تو ہم اپنا دفاع کر بھی سکتے ہیں کریں گے بھی۔ ایک بہت مستحکم پیغام ہے اور وہ بھی بغیر کسی بدتمیزی کے اور بغیر انھیں ذلیل کیے ہوئے۔’

جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ کی ‘کیلی میگیلس’ یعنی آرمینہ خان کہیں نظر نہ آ رہی ہیں۔ نہ ہی فلم کے ٹریلرز میں کچھ زیادہ اور نہ ہی پروموشن میں، کہیں کچھ گڑبڑ تو نہیں؟
اس کے جواب میں انھوں نے کہا کہ آرمینہ خان فی الحال لندن میں کسی شوٹنگ میں مشغول ہیں۔ ‘ابھی ہماری بین الاقوامی سطح پر جب فلم ریلیز ہوگی تو وہ انشاء اللہ ہمارے ساتھ ہوں گی۔’
میکال سے جب پوچھا گیا کہ کیا ان کو ایکشن فلمیں پسند ہیں کیونکہ یہ فلم بھی ایکشن ہے اور اس کے علاوہ ایک دوسری فلم بھی ہے جو سنہ 1971 کی جنگ اور سقوط ڈھاکہ پر مبنی ہے تو انھوں نے کہا: ‘اس فلم میں سینیئر اداکار شاہد ہیں اور فلم کی ہدایت ان کے بیٹے کامران شاہد کر رہے ہیں۔ یہ ایک لَو سٹوری کے ساتھ پالیٹیکل تھریلر بھی ہے۔’

تو کیا وہ وار ہیرو بننے جا رہے ہیں؟ اس سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ اگر اس میں ان کے لیے کامیابی ہے تو کیوں نہیں تاہم پھر انھوں نے کہا کہ اب فلمیں ہی ایسی بن رہی ہیں اور ایسے کرداروں کی ہی پیشکش ہو رہی ہے تو پھر وہ کیا کر سکتے ہیں لیکن ان کے مطابق ان دونوں فلموں میں ان کے کردار بہت پاورفل ہیں۔

اپنی ذاتی زندگی کے بارے میں باتیں کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ دو بیٹیوں کے باپ ہیں اور وہ اپنی اہلیہ سے علیحدہ ہو چکے ہیں لیکن وہ دوسری شریک حیات کے متلاشی ہیں۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ خواتین کے کردار کو سٹیریو ٹائپ میں محدود دیکھتے ہیں تو انھوں نے کہا کہ ‘در اصل مردوں کے کردار محدود ہیں۔ خواتین کو مظلوم دکھانے کے لیے انھیں ظلم و جبر کرنے والے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔’

اپنے ابتدائی دنوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے میکال نے بتایا کہ ان کی پیدائش انگلینڈ میں ہوئی پھر وہ پاکستان آ گئے پھر بچپن میں انگلینڈ چلے گئے اور پھر جب وہ واپس آئے تو انھیں بہت سی چیزوں کی سمجھ ہی نہیں تھی۔

انھوں نے کہا کہ ایک اداکار کے طور پر آپ کو ثقافت کو سمجھنا بہت ضروری ہوتا ہے۔ ‘میں چھوٹی چھوٹی چیز نہیں سمجھتا تھا۔ جیسے ‘ڈنکے کی چوٹ پر’ سے مجھے لگتا تھا کہ کہیں چوٹ لگ گئی ہے۔ یا پھر مجھے اپنے پہلے ڈرامے میں اپنی کزن کو ٹوٹ کر چاہنا تھا اور انگلینڈ سے واپس آنے پر یہ خيال اپنے آپ میں عجیب لگتا تھا کہ کوئی اپنی کزن کو ٹوٹ کر کیسے چاہ سکتا ہے۔

’پاکستان میں ٹوٹ کے چاہنا بہت جدا ہے جیسے انگریزی کا لَو اور اردو کا عشق بہت ہی مختلف چیز ہے۔ یہاں جو محبت کی شدت ہوتی ہے وہ وہاں نہیں ملتی۔ وہ ہاتھ کاٹنے پر آ جاتا ہے، تو میں سوچتا تھا کہ کیا واقعی لوگ یہاں ایسا کرتے ہیں لیکن رفتہ رفتہ میں نے یہ سب سیکھ لیا۔’