شمالی کوریا: ہمارے سفارت خانے میں دراندازی دہشت گردی تھی

شمالی کوریا نے گزشتہ ماہ سپین میں اپنے سفارت خانے میں غیر قانونی طور پر چند افراد کے داخلے کو ’سنگین دہشت گرد حملہ‘ قرار دیا ہے۔
اس معاملے پر پیونگ یانگ کی جانب سے جاری کردہ پہلے سرکاری بیان میں اس واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ وہ ان تمام افواہوں کا بغور جائزہ لے رہے ہیں کہ اس واقعے میں امریکی ایجنسی ایف بی آئی کا کوئی کردار تھا۔

بدھ کو چیولیما سول ڈیفنس نامی ایک گروہ نے جو شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کو اقتدار سے بے دخل کرنا چاہتا ہے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔
اس گروہ نے شمالی کوریا کے سفارت خانے سے کمپیوٹر اور ڈیٹا چرایا تھا اور ان کا کہنا تھا کہ وہ یہ بطور ثبوت امریکی خفیہ ایجنسی ایف بی آئی کو دیں گے۔

اس واقعہ کے بعد ملزمان کے لیے کم از کم دو بین الاقوامی گرفتاری وارنٹس جاری کیے جا چکے ہیں۔

ہسپانوی حکام کے مطابق اس گروہ میں شامل ادارین ہانگ چینگ نامی ایک شخض نے سفارت خانے میں موجود کمرشل اتاشی سے یہ کہتے ہوئے ملاقات کی اجازت مانگی تھی کہ وہ انھیں پہلے مل چکا ہے اور کاروبار کے سلسلے میں بات کرنا چاہتا ہے۔ تاہم اس کو اجازت ملنے کے بعد اس کے ساتھیوں نے سفارت خانے میں داخل ہونے کے لیے ایک ساتھ دھاوا بولا تھا۔

اس گروہ پر الزام ہے کہ انھوں نے سفارت خانے میں موجود اتاشی سے معلومات کے لیے پوچھ گچھ کی تھی اور اسے بھاگنے پر اکسایا تھا۔ جب اس نے انکار کیا تو وہ اسے سفارت خانے کے تہے خانے میں رسیوں سے باندھ کر چھوڑ گئے۔

دو دیگر افراد جو سفارت خانے میں غیر قانونی طور پر داخل ہوئے تھے ان میں سے ایک کی شناخت بطور امریکی شہری سام ریو جبکہ دوسرے کی جنوبی کوریا کے شہری وو ران لی کے نام سے ہوئی ہے۔
سفارت خانے کے عملے کو گھنٹوں یرغمال بنایا گیا تھا۔ ایک خاتون مدد کے لیے چلاتے ہوئے کھڑکی کے راستے نکلنے میں کامیاب ہوئی تھی۔ جس کے بعد اردگرد کے افراد نے فوراً پولیس کو مدد کے لیے طلب کیا تھا۔
جب مقامی پولیس شمالی کوریا کے سفارت خانے پہنچی تھی تو ملزم ادارین ہانگ چینگ نے ان کا استقبال شمالی کوریا کے سفیر کے طور پر کیا تھا۔ اس وقت اس نے اپنے کوٹ پر کم جونگ ان کا بیچ بھی لگا رکھا تھا۔
اس نے پولیس کو بتایا کہ سب کچھ ٹھیک ہے اور یہاں کچھ بھی نہیں ہوا۔
واقعہ کے بعد اس گروہ کے بیشتر افراد شمالی کوریا کی سفارتی گاڑیوں میں فرار ہوئے جبکہ ہانگ چینگ اور دیگر چند کچھ دیر بعد پچھلے دروازے سے ایک اور گاڑی میں وہاں سے فرار ہوئے تھے۔
وہ افراد چار گروہوں میں تقسیم ہو کر پرتگال چلے گئے تھے۔ میکسیکو نژاد ہانگ چینگ جو امریکہ کا رہائشی ہے نے واقعے کی پانچ روز بعد مبینہ طور پر ایف بی ائی سے رابطہ کر کے ان کو اس واقعہ کے حوالے سے اپنی تفصیلات سے آگاہ کیا۔

چیولیما سول ڈیفنس نامی گروہ کو فری جوسن کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ یہ گروہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان اور ان کے خاندان کو اقتدار سے باہر نکالنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
اس گروپ کے یوٹیوب چینل اور فیس بک پیچ پر لگائی جانے والی ایک ویڈیو جس کا مقصد یہ دکھانا تھا کہ میڈرڈ میں شمالی کوریا کے سفارت خانے میں زبردستی گھسنے والوں نے کس طرح وہاں موجود کمیونسٹ لیڈر کم جونگ کی تصاویر کو پھاڑا تھا۔

سی ڈی سی سب سے پہلے شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان کے بھائی کے قتل کے بعد ان کے بیٹے کو مکاؤ سے باہر نکالنے کے بعد منظر عام پر آئی تھی۔
کم جونگ نام جو شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان کے سوتیلے بھائی تھے انھیں سنہ 2017 میں ملائیشیا کے ائیرپورٹ پر قتل کر دیا گیا تھا۔
ان کے بیٹے کم ہان سول کے شمالی کوریا واپس جانے کی خواہش کا اظہار کیا تھا اور اپنے ’چچا کو آمر‘ قرار دیا تھا۔
تحقیقاتی زرائع نے ہسپانوی اخبار ایل پائس کو بتایا ہے کہ یہ آپریشن بہت اچھی طرح انجام دیا گیا ہے جیسا کہ کوئی ’فوجی کارروائی‘ ہو۔
ایل پائس اور ایل کونفیڈنشل اخبار کے مطابق حملہ جانتے تھے کے وہ کیا تلاش کر رہے ہیں۔ ہسپانوی حکام شبہ ظاہر کر رہے ہیں کہ اس حملے میں امریکی خفیہ ایجنسیاں اور ان کے اتحادی ملوث ہو سکتے ہیں۔
ایل پائس نے تو یہ بھی رپورٹ کیا ہے گروہ میں سے دو افراد کے تعلقات امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے سے ہے۔ جبکہ امریکی خفیہ ایجنسی نے بی بی سی کو اس پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔ تاہم امریکہ نے اس حملہ میں اپنی مداخلت سے انکار کیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق کہ حملہ آوروں کو میڈرڈ میں تعینات شمالی کوریا کے سابق سفیر کم ہیوک چول کے متعلق معلومات کی تلاش تھی، جنھیں ستمبر 2017 میں شمالی کوریا کی ایٹمی تجربے پروگرام کے دوران سپین سے نکال دیا گیا تھا۔

کم ہوک اب شمالی کوریا اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں ایک اہم سفیر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں اور انھوں نے ویتنام میں سربراہی اجلاس کرنے میں بھی مدد فراہم کی. انھوں نے جنوری میں کم جونگ ان کے قریبی ساتھی کے ساتھ امریکہ کا دورہ بھی کیا تھا۔