آئی پی ایل: رباڈا کے یارکرز نے وقار اور وسیم کی یاد تازہ کر دی

کولکتہ نائٹ رائڈرز (کے کے آر) اور دہلی کیپیٹلز کے درمیان کھیلے جانے والا انڈین پریمیئر لیگ کا دسواں میچ جہاں اپنے سپر اوورز کے وجہ سے یادگار بن گیا وہیں اس نے سنہ 1990 کی دہائی کے یاکرز کی یاد بھی دلائی اور سوشل میڈیا پر اس کی بازگزشت بھی سنی گئی۔

سپر اوور میں کھگیسو رباڈا نے بہترین یارکرز کروائے اور لوگوں نے ان کا موازنہ وقار یونس اور وسیم اکرم سے کیا۔
دہلی کے فیروز شاہ کوٹلہ سٹیڈیم میں کھیلے جانے والے میچ میں دہلی کیپیٹلز نے ٹاس جیت کر کولکتہ نائٹ رائڈرز کو بیٹنگ کی دعوت دی لیکن کولکتہ کی ٹیم ابتدا سے ہی مشکل کا شکار رہی۔
دس اوورز کا کھیل مکمل ہونے تک اس کی نصف ٹیم 61 رنز بنا کر پویلین واپس لوٹ چکی تھی۔

لیکن پھر کپتان دینیش کارتک اور ویسٹ انڈیز کے آل راؤنڈر آندرے رسل نے 95 رنز کی شراکت سے ٹیم کو مقابلے میں واپس لا کھڑا کیا۔ رسل نے چار چوکے اور چھ چھکوں کی مدد سے 28 گیندوں پر 62 رنز بنائے جبکہ کارتک نے پانچ چوکوں اور دو چھکوں کی مدد سے 50 رنز بنائے۔

مقررہ 20 اوورز میں کولکتہ نے آٹھ وکٹوں کے نقصان پر 185 رنز بنائے اور جیت کے لیے 186 رنز کا ہدف دیا۔
دہلی نے پراعتماد بیٹنگ کی اور جب ان کی تیسری وکٹ گری تو ٹیم 170 رنز بنا چکی تھی۔
تاہم جب 174 کے مجموعی سکور پر اوپنر پرتھوی شا 99 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے تو دہلی کی بیٹنگ لائن لڑکھڑا گئی اور آخری اوور میں مطلوبہ چھ رنز بھی نہ بنا سکی اور اس طرح میچ کا فیصلہ سپر اوور پر ٹھہرا۔
سپر اوور میں کولکتہ کے نئے بولر پرسدھ کرشنا نے ایک بار پھر عمدہ بولنگ کرتے ہوئے دہلی کے کھلاڑیوں کو سٹروک لگانے کا موقع نہیں دیا اور دہلی کی ٹیم نے محض دس رنز بنائے اور جیت کے لیے 11 رنز کا ہدف دیا۔

دہلی کے پاس جیتی ہوئی بازی ہارنے اور پھر ہاری ہوئی بازی جیتنے کے لیے تین بولر تھے۔ اس میچ میں عمدہ کارکردگي دکھانے والے نیپال کے سندیپ لمیچھانے، کرس مورس اور کھگیسو رباڈا۔
جب دہلی کی انتظامیہ نے رباڈا کو سپر اوور پھینکنے کی ذمہ داری تو رباڈا نے سوچا کہ جلد ہی کچھ کرنا چاہیے۔ ان کے سامنے رسل تھے اور وہ مسلسل فارم میں تھے۔ رسل نے پہلی ہی گیند پر چوکا دے مارا جس کے بعد دہلی کی رہی سہی امید بھی دم توڑنے لگی۔

میچ کے بعد دہلی کے کپتان سریش اییر نے بتایا کہ کہ رباڈا نے ہر بال یارکر کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
دوسری بال بھی یارکر تھی اور رسل کو کوئی رن نہیں ملا تیسری پر وہ رسل کو آؤٹ کرنے میں کامیاب ہوئے۔ اور اس کے بعد مسلسل یارکر گیند کی اور دہلی کو تاریخی فتح دلوائی۔

ٹی ٹوئنٹی کی آمد کے بعد سے مختلف قسم کی گیند رنز روکنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے جس میں سلوور، باؤنسر، نکل بال وغیرہ اہم قرار دی جاتی ہیں۔ لیکن رباڈا کے یارکرز نے نہ صرف مجھے وسیم اور وقار کی یاد دلائی بلکہ کئی دوسرے لوگوں کو بھی ان کی یاد آئی اور ان کے دور کی کرکٹ کے متعلق سوشل میڈیا پر باتیں ہونے لگيں۔

معروف کرکٹ کمنٹیٹر ایاز میمن نے لکھا ’سپر اوور میں 10-11 رنز کا دفاع انتہائی مشکل کام ہے۔ رباڈا نے یہ کام بہت آسانی سے کیا۔’
ایک ٹوئٹر صارف نے لکھا کہ ’رباڈا کے ایک اوور کی اتنی تعریف، ذرا غور کریں کہ وسیم بھائی (وسیم اکرم) اور وقار بھائی (وقار یونس) اپنے زمانے میں مسلسل ایسا کیا کرتے تھے۔’
جان نامی ایک شخص نے لکھا ‘جو سٹین کی آؤٹ سوئنگر کا معترف ہو، عمران خان کی ان سوئنگر کا معترف ہو، وہاب ریاض کے باؤنسر کی تعریف کرے، وقار یونس کے یارکر کا معترف ہو وہ کھگیسو رباڈا ہے۔’

رومیو رجت نے لکھا: ‘رباڈا جینیئس ہیں۔ ان کی یارکر نے وقار کی یاد دلا دی’ جبکہ ایک دوسرے نے لکھا: کھگیسو رباڈا کی کیا گیند تھی۔ یارکر میں ان کے آئیڈل وقار یونس ہیں۔’
خیال رہے کہ حال ہی میں رباڈا نے کرکٹ نٹورک پر ان کھلاڑیوں کی مخصوص مہارت کی تعریف کی تھی۔
سچن نامی ہینڈل سے ایک شخص نے لکھا کہ ‘رباڈا یارکر کے نئے ماسٹر ہیں۔’
سابق انڈین کرکٹر سنجے مانجریکر نے لکھا کہ ‘رباڈا نے یہ بتا دیا کہ اصل مہارت کیا ہوتی ہے۔’
بعض لوگوں نے سنہ 2015 میں انڈیا کے خلاف کانپور میں رباڈا کے آخری اوور کا ذکر کیا جس میں رباڈا نے کپتان مہندر سنگھ دھونی کو مطلوبہ رنز نہیں بنانے دیے تھے اور انڈیا وہ ون ڈے پانچ رنز سے ہار گئي تھی۔ اس میچ میں بھی جیت کے لیے 11 رنز کی ضرورت تھی۔