محمد رضوان کے لیے یہ عجیب سا دن تھا‘

 

 

شاید ہم وقت سے تھوڑا پیچھے رہ گئے۔ منزل ہمارے سامنے تھی۔ انہونی کسی کے گمان میں بھی نہ تھی۔ مگر اچانک حواس بکھر گئے، اور دن بھر کی جیتی بازی، لمحوں میں پلٹ گئی۔
پاکستان کو یہ میچ جیتنا چاہیے تھا۔ ٹاس کی جیت ہی پاکستان کی جیت ہو سکتی تھی۔ اور وہ ہوئی۔ عماد وسیم نے فیصلہ بھی خوب کیا۔ اس وکٹ پہ دوسری بیٹنگ ہی بہتر تھی۔
دبئی کی وکٹ کچھ تو پہلے ہی رکی رکی سی ہے۔ پھر پی ایس ایل کی مار دھاڑ نے اس پہ کچھ اور بھی اداسی طاری کر دی ہے۔ یہاں پاکستانی کرکٹرز کا وہ مقولہ صادق ہوا کہ گیند بولنگ اینڈ سے صبح کے وقت نکلتی ہے اور بلے تک پہنچتے پہنچتے اگلا دن چڑھ جاتا ہے۔

 

 

یہاں اننگز بنانے کے لیے ایک خاص طرح کا صبر درکار ہوتا ہے۔ ایسا صبر کہ جہاں خود تو رک جانا ہے مگر میچ کو نہیں رکنے دینا۔ ڈھیر سارے ڈاٹ بالز کھیلنا ہیں مگر ہر برے گیند کو دائرے کے باہر پھینکنا ہے۔

یہ صبر عثمان خواجہ میں نظر آیا۔ کسی حد تک یہ میکسویل میں بھی نظر آیا، گو پاکستانی فیلڈنگ نے بھی خوب ان کا ساتھ دیا۔ یہی صبر عابد علی میں بھی نظر آیا اور ڈیبیو پہ ہی ریکارڈ اننگز کھیل ڈالی۔
یہی صبر محمد رضوان میں بھی دکھائی دیا۔ پہلے لمحے سے ہی انھوں نے کسی برے گیند کو جانے نہیں دیا۔ اور جب قریب تھا کہ پاکستانی اننگز پریشر میں ڈوب جاتی، رضوان کی موجودگی نے اس پریشر کی بساط پلٹا دی۔

اننگز کا مشکل ترین مرحلہ مڈل اوورز ہوتا ہے جہاں وکٹیں بچا کر سکور چلانے کی مشقت درپیش ہوتی ہے۔ یہاں رضوان نے یہ ذمہ ایسی تندہی سے سنبھالا کہ میچ کے آخری پانچ اوورز تک بازی واضح طور پہ پاکستان کے ہاتھ میں تھی۔

لیکن جوں جوں وقت گھٹنے لگا، رضوان پہ تھکاوٹ طاری ہونے لگی۔ یا شاید مہمل سے خیالات آنے لگے، اپنی سینچری پہلے ہو گی یا پاکستان پہلے جیتے گا؟ اوورز کتنے رہ گئے؟ میچ کب ختم ہو گا؟ ہم جیت تو جائیں گے ناں؟ وغیرہ وغیرہ

دھیرے دھیرے یہ خیالات وسوسے بننے لگے۔ اور پھر اوہام کا ایسا طومار بندھا کہ ان کے ذہن کی چال سست پڑ گئی۔ ڈاٹ بالز ہونے لگیں۔ دوسرے اینڈ پہ نامانوس سے چہرے ابھرنے لگے۔ کوئی بھی جم نہ پایا۔
سبھی کچھ تو دھندلا گیا۔
پھر پتا نہیں ایرون فنچ نے کس سے اوور کروائے۔ کب کون آوٹ ہوا؟ کب سینچری ہوئی؟ یا شاید ہو کر بھی نہیں ہوئی۔ پتا نہیں کیا ہوا کہ اچانک معلوم پڑا، پاکستان چھ رنز سے ہار گیا۔
اور محمد رضوان اس سے پہلے ہار گئے۔
رضوان کے لیے یہ عجیب سا دن تھا۔ ملی جلی سی کیفیات کا دن۔ پہلے میکسویل کا کیچ چھوڑ بیٹھے۔ پھر ستم یہ کہ وہی میکسویل سینچری سے بھی بہتر اننگز کھیل گئے۔
مگر رضوان نے پھر بھی اپنا دھیان بٹنے نہیں دیا۔ اور میکسویل کی اننگز کا پورا پورا بدلہ لیا۔ میچ کا ذمہ اپنے کندھوں پہ اٹھایا۔ اور پینتیس اوورز تک میچ پہ چھائے رہے۔ اور پھر پتا نہیں کیا بدقسمتی ہوئی کہ وہ جیت کر بھی ہار گئے۔

سینچری کر کے بھی ہار جانا؟ اس اذیت کی شدت وہی بتا سکتا ہے جو پچاسی اوور فیلڈ میں اپنی بہترین کوشش کر کے بھی ہارنے والوں کی صف میں کھڑا ہو۔
شاید وہ میکسویل کا کیچ کر لیتے تو نتیجہ مختلف ہوتا۔ شاید ان کے باقی ٹیم میٹس ذرا بہتر فیلڈنگ کر لیتے تو ان کی ٹیم جیت جاتی۔ شاید ان کی سینچری کے بعد دوسرے اینڈ سے ذرا سی مدد مل جاتی، کوئی ایک باونڈری ہی مل جاتی تو آج کا دن اتنا عجیب سا نہ ہوتا۔

محمد رضوان کے لیے ہی نہیں، سارے پاکستان کے لیے یہ بڑا عجیب سا دن تھا کہ ایک بھی سینچری نہ کرنے والی ٹیم جیت گئی اور دو سینچریاں بنانے والی ٹیم ہار گئی۔