بوئنگ 737 میکس 8: شمالی امریکہ بمقابلہ دنیا

امریکی طیارہ ساز کمپنی بوئنگ کے جدید اور نئے طیارے بوئنگ 737 میکس 8 کے دوسرے حادثے کے بعد ایک عالمی ردِ عمل سامنے آ رہا ہے جس میں ہر گزرتے لمحے شدت آ رہی ہے۔ امریکی طیارہ ساز بوئنگ کے حصص میں دس فیصد گراوٹ دیکھنے میں آئی جو آگے آنے والی مشکلات کا پیش خیمہ لگتی ہے۔

اس ساری بحث میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی کود پڑے جن کے بیان پر بھی کافی ردِ عمل آ رہا ہے۔
ہم اس مضمون میں اس وقت تک کی صورتحال کا جائزہ لیں گے اور اس کے عالمی ہوابازی کی صنعت پر اثرات بھی دیکھیں گے کہ یہ کس طرح عالمی ہوابازی کو متاثر کر سکتا ہے۔

ایتھوپین ایئرلائن کے طیارے کے حادثے کے بعد دنیا بھر سے ردِ عمل آہستہ آہستہ آنا شروع ہوا۔ اگرچہ اب تک حادثے کی وجوہات کے بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا مگر دنیا کے مختلف ممالک نے یا تو اس طیارے کو اپنی حدود میں داخل ہونے سے روک دیا ہے۔ یہاں تک کہ گذشتہ روز ترکش ایئرلائنز کے دو طیارے جو یورپ پہنچ چکے تھے مڑ کر واپس ترکی گئے کیونکہ ان طیاروں کے لیے فضائی حدود بند کر دی گئی تھیں۔

بدھ کو ہانگ کانگ، ویتنام اور نیوزی لینڈ نے اس ماڈل کے طیاروں کی اپنے ملک میں داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اس سے پہلے چین، برطانیہ، آسٹریلیا اور یورپی یونین نے اپنی فضائی حدود اس طیارے کے لیے بند کر دی ہیں۔

امریکہ کی سب سے بڑی فلائٹ اٹینڈنٹ یونین نے، جس میں بیس سے زیادہ ایئرلائنز کے پچاس ہزار فلائٹ اٹنڈنٹ شامل ہیں، امریکی ریگولیٹر فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ‘عارضی طور پر 737 میکس طیاروں کو امریکہ میں حفظ ماتقدم کے طور پر گراؤنڈ کر دے۔’

یونین کی صدر سارا نیلسن نے ایک بیان میں کہا کہ ‘امریکہ کا دنیا میں ہوابازی کا محفوظ ترین ریکارڈ ہے اور امریکی اس غیر یقینی کی صورتحال میں رہنمائی کے لیے دیکھ رہے ہیں۔ ایف اے اے عوام کا اس نظام پر اعتماد بحال کرنے کے لیے فیصلہ کن اقدامات کرے۔’

دوسری جانب امریکہ میں پائلٹس کی نمائندہ لیبر یونین الائیڈ پائلٹ ایسوسی ایشن نے، جس کے 16700 اراکین ہیں، اپنے اراکین سے کہا ہے کہ ‘آپ کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ اگر آپ 737 میکس پر کام کرنے کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں تو آپ کو اس پر کوئی مجبور نہیں کر سکتا۔’

مگر امریکی ہوابازی کے نگران ادارے ایف اے اے نے اب تک اپنے آپ کو اس سارے معاملے سے علیحدہ رکھا ہے۔

امریکی ویب سائٹ پولیٹیکو میں شائع شدہ کیتھرین اے وولف کی خبر میں انہوں نے لکھا ہے گذشتہ برس لائن ایئر کے طیارے کے حادثے کے بعد کم از کم پانچ بار پائلٹس نے طیارے میں مسائل کے بارے میں رپورٹ کیا۔ انہوں نے لکھا کہ نومبر 2018 کو ایک پائلٹ نے رپورٹ کی کہ اڑان بھرنے کے دو منٹ میں آٹو پائلٹ کو جب انگیج کیا گیا تو دو تین سیکنڈ میں اس نے طیارے کی ناک نیچی کر دی۔ جس کے نتیجے میں وارننگ کا اعلان شروع ہو گیا۔

پولیٹیکو کے اس آرٹیکل میں پائلٹس نے شدید اعتراضات اٹھائے ہیں اور تنقید کی ہے۔
اگست 2011 میں بوئنگ نے اپنے اس مقبول طیارے کو نئے انجن اور نظام کے ساتھ لانچ کیا اور اسے میکس کا نام دیا۔ میکس سیریز میں چار ورژن فراہم کیے گئے جن میں میکس 7، میکس 8، میکس 9 اور میکس 10 شامل ہیں۔ جن میں زیادہ سے زیادہ 230 مسافر سوار ہو سکتے ہیں۔

یہ طیارے چھ ہزار سے سات ہزار کلومیٹر تک پرواز کر سکتا تھا جو بہت ساری چھوٹی اور درمیانے سائز کی ایئرلائنز کے لیے بہترین طیارہ ہے۔ جیسا کہ کوالالپمپور سے لاہور کی پرواز کے لیے مالنڈو ایئر اس طیارے کا استعمال کرتی ہے جبکہ چائنہ سدرن ایئر لائن اس طیارے کے ساتھ گوانگزو اور اورمچی سے لاہور اور اسلام آباد کی پروازیں چلا پاتی ہے۔

یہ طیارہ اتنا کامیاب تھا کہ اسے چند ہی مہینوں میں 100 سے زیادہ ایئرلائنز سے 5000 سے زیادہ آرڈر موصول ہوئے۔ اور اب تک دنیا بھر میں 350 طیارے پرواز کر رہے ہیں یا ان دنوں گراؤنڈ کر دیے گئے ہیں۔ اس کا سب سے پہلا طیارے انڈونیشیا کے ایئرلائن گروپ لائن ایئر کی کمپنی مالنڈو ایئر نے 6 مئی 2017 کو وصول کیا اور اس نے 22 مئی 2017 سے پروازیں شروع کیں۔

بوئنگ کا 737 طیارہ جدید ہوابازی کا سب سے کامیاب طیارہ ہے جس کے اب تک 10478 سے زیادہ طیارے بنا کر فروخت کیے جا چکے ہیں۔ بوئنگ نے 1964 میں ایک نیرو باڈی یعنی درمیانے حجم یا ایک ایسے طیارے کی منصوبہ بندی شروع کی جس کے دونوں جانب نشستیں جبکہ درمیان راستہ ہوتا ہے۔ جسے سنگل آئزل طیارہ کہتے ہیں۔ اس منصونہ بندی کے نتیجے میں پہلا طیارہ 737-100 وجود میں آیا جس نے 1967 میں پہلی پرواز کی۔

اگلے سال بوئنگ نے اسے تھوڑا کھینچ کر لمبا کیا اور 737-200 وجود میں آیا جس کے ساتھ کے طیارے اب سے کچھ سا قبل تک شاہین ایئر پاکستان میں استعمال کرتی رہی جو اب بھی کراچی کے ہوائی اڈے پر کھڑے زنگ آلود ہو رہے ہیں۔

اس کے بعد بوئنگ نے 737-300 کا اجرا کیا جسے کلاسک جنریشن کا پہلا طیارہ کہا جاتا ہے۔ پی آئی اے نے اس سیریز کے پانچ طیارے 1985 میں حاصل کیے جو جون 2014 تک ایئرلائن کے استعمال میں رہے انہیں بعد میں ریٹائر کر دیا گیا۔ کلاسک سیریز میں 737-300، 400 اور 500 طیارے تھے۔ پاکستان میں شاہین ایئر نے 737-400 کچھ عرصہ کے لیے استعمال کیے۔

اس کے بعد بوئنگ نے نیکسٹ جنریشن سیریز کا اجرا کیا جس میں 600، 700 اور 800 طیارے شامل تھے۔ 800 سیریز کے تین طیارے پاکستان کی نجی کمپنی سرین ایئر استعمال کرتی ہے۔