پی ایس ایل فور: پہلی وکٹ گرنے کے بعد کوئٹہ کی جارحانہ بیٹنگ، واٹسن کی نصف سنچری مکمل

 

 

پاکستان سپر لیگ فور کے فائنل میں کوالیفائی کرنے کے لیے ایک بار پھر پی ایس ایل کی دو کامیاب ترین ٹیموں کا ٹاکرا کراچی کے نیشنل سٹیڈیم میں ہو رہا ہے جہاں پشاور زلمی نے ٹاس جیت کر کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے خلاف پہلے بولنگ کا فیصلہ کیا ہے۔

اب سے کچھ دیر قبل تک کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے 11 اوورز کے بعد ایک وکٹ کے نقصان پر 113 رنز بنائے ہیں۔
اس وقت کریز پر شین واٹسن 71 رنز کے ساتھ جبکہ احسن علی 37 رنز پر کھیل رہے ہیں۔
میچ کے دوسرے ہی اوور میں ٹائمل ملز نے اپنی پہلی گیند پر احمد شہزاد کو ایک رن پر بولڈ کر دیا لیکن اس کے بعد آنے والے احسن علی نے اوور کے آخری اوور میں چوکا لگا کر کوئٹہ کی پہلی باؤنڈری سکور کی۔

تیسرے اوور میں شین واٹسن اور احسن علی نے حسن علی کی گیند پر جارحانہ انداز اپنایا اور اوور میں 19 رنز بٹور لیے۔
کوئٹہ کی ٹیم نے پانچویں اوور میں اپنی نصف سنچری مکمل کر لی۔
واٹسن کی جانب سے تیز بیٹنگ کا سلسلہ جاری اور انھوں نے آٹھویں اوور میں اپنی پی ایس ایل فور کی چوتھی نصف سنچری مکمل کر لی۔
میچ کے 11ویں اوور میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی ٹیم نے نہ صرف اپنے سو رنز بھی مکمل کر لیے بلکہ واٹسن اور احسن علی کی شراکت کی بھی سنچری مکمل ہو گئی۔
ثمین گل کے تیسرے اوور میں ان دونوں میں 17 رنز حاصل کیے جبکہ اس سے قبل لیم ڈاسن نے دو اوورز میں 27 رنز دیے ہیں۔
اب تک کے چار پی ایس ایل ٹورنامنٹس میں سے تین میں لیگ مرحلے کے بعد پہلی اور دوسری پوزیشنز بالترتیب پشاور اور کوئٹہ کی رہی ہیں۔
لیکن اس سال ہونے والی پی ایس ایل میں ان ٹیموں کے درمیان ہونے والے دونوں مقابلے کوئٹہ کی ٹیم نے جیتے۔
کرکٹ کے اعداد و شمار پر گہری نظر رکھنے والے مظہر ارشد نے ٹویٹ کرتے ہوئے بتایا کہ ماضی میں کوالیفائر اور الیمینیٹر مرحلے میں ان دونوں ٹیموں نے تین بار مقابلہ کیا ہے اور ہر بار جیتنے والی ٹیم کا مارجن ایک رن تھا۔

 

 

 

دبئی میں 15 فروری کو ہونے والے مقابلے میں پشاور زلمی کے 155 رنز کے جواب میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی ٹیم نے 161 رنز بنائے اور چھ وکٹوں سے کامیابی حاصل کی۔
اس کے بعد چار مارچ کو ابو ظہبی میں ہونے والے میچ میں پشاور کی ٹیم نے 165 رنز بنائے لیکن کوئٹہ نے نہایت آسانی کے ساتھ 18ویں اوور میں میچ صرف دو وکٹوں کے نقصان پر ختم کر دیا۔
لیگ مرحلے کے بعد پشاور زلمی کے حسن علی نے اب تک ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ 21 وکٹیں حاصل کی ہیں جبکہ ان کے ساتھی بولر وہاب ریاض نے 13 وکٹیں حاصل کی ہیں اور وہ پانچویں نمبر پر ہیں۔
کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے سہیل تنویر 15 وکٹوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر موجود ہیں۔
بیٹنگ کے شعبے میں کوئٹہ کے شین واٹسن تین نصف سنچریوں کے ساتھ پہلے نمبر پر ہیں اور انھوں نے اب تک 352 رنز بنائے ہیں۔

پشاور کی جانب سے اب تک سب سے زیادہ رنز امام الحق نے بنائے ہیں جن کے کھاتے میں 257 رنز ہیں۔
اگر ٹورنامنٹ کی تاریخ کو دیکھا جائے تو اسلام آباد یونائیٹڈ کے ساتھ ان دونوں ٹیموں کا پلڑا ہمیشہ بھاری رہا ہے۔
ان تینوں نے دو دو بار فائنل میں رسائی حاصل کی ہے اور پشاور زلمی نے 2017 میں ہونے والے ٹورنامنٹ کے فائنل میں کوئٹہ کو باآسانی 58 رنز سے شکست دی تھی۔
پشاور زلمی ڈیرن سیمی (کپتان)، کامران اکمل، امام الحق، مصباح الحق، صہیب مقصود، کیرون پولارڈ، لییم ڈوسن، ثمین گل، وہاب ریاض، حسن علی، اور ٹائمل ملز پر مشتمل ہے۔
جبکہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی ٹیم سرفراز احمد (کپتان)، احمد شہزاد، شین واٹسن، احسن علی، ریلی روسو، عمر اکمل، ڈیوئن براوو، محمد نواز، سہیل تنویر، محمد حسنین، اور فواد احمد پر مشتمل ہے۔