مدارس کے خلاف کارروائی برداشت نہیں کی جائے گی‘

 

 

پاکستان میں مدارس کی تنظیم وفاق المدارس العربیہ نے مدارس کو حکومتی تحویل میں لینے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ یہ مدارس پاکستان کی نظریاتی چھاؤنیاں ہیں اور حکومت بین الاقوامی دباؤ میں آکر ان کے خلاف کارروائی نہ کرے۔

 

کراچی میں وفاق المدارس العربیہ پاکستان کا اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد کیا گیا، جس میں فیصلہ کیا گیا کہ مدارس کے خلاف کسی قسم کی کوئی کارروائی برداشت نہیں کی جائے گی۔ اجلاس میں سندھ میں مولانا امداد اللہ یوسف زئی کی سربراہی میں کمیٹی بھی بنائی گئی۔

وفاق المدراس العربیہ کے ناظم اعلیٰ محمد حنیف جالندھری نے پریس کانفرنس کی اور کہا کہ اگر دشمن نے پاکستان پر حملہ کیا تو فوج کے ساتھ مدارس کے طلبہ بھی شانہ بشانہ لڑیں گے لہذا حکومت بین الاقوامی دباؤ میں نہ آئے۔

’جس طرح ملک کے دفاع اور خود مختاری و سلامتی کے لیے ہر قربانی ہر وقت دینے کے لیے تیار ہیں اسی طرح دینی مدارس کی آزادی اور خود مختاری کے اور تحفظ کے لیے ہر وقت ہر قربانی دینے کے لیے بھی تیار ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ دینی مدارس کے خلاف اقدامات پاکستان کے خلاف اقدامات ہیں۔ یہ مدارس ملک کے تحفظ کی گارنٹی اور نظریاتی چھاؤنیاں ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ حکومت مدارس کے بارے میں دباؤ کا جرات مندی سے مقابلہ کرے۔
یاد رہے کہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے پلوامہ میں دہشت گردی کے بعد وفاقی حکومت نے کالعدم جماعۃ دعوۃ اور جیش محمد کے مدارس اور اس کے زیر انتظام فلاحی اداروں کو اپنے کنٹرول میں لے کر محکمہ اوقاف کو حوالے کر دیا ہے۔ سندھ میں جماعۃ دعوۃ، جیش محمد اور تحریک غلبہ اسلام کے 18 مدارس اور مساجد اوقاف نے سنبھالی ہیں جبکہ پنجاب میں صرف جماعۃ دعوۃ کے 160 مدارس اور سکول کنٹرول میں لیے گئے ہیں۔

قاری محمد حنیف کا کہنا تھا کہ حکومت نے یہ اقدامات کرنے سے قبل ان سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ حریف نہیں حلیف ہیں، انہیں اعتماد میں لینا چاہیے تھا۔
’کالعدم تنظیم اور مدرسہ دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ مدراس کو کالعدم تنظیموں کے ساتھ نہ جوڑا جائے۔ ماضی کا جو تجربہ ہے وہ یہ بتا رہا ہے کہ نام کالعدم تنظیم کا لیا جاتا ہے اور کارروائی مدارس کے خلاف ہوتی ہے۔ مدارس اگر الگ ہیں اور اُن میں تعلیم ہو رہی ہے، اس میں کوئی غیر قانونی چیز نہیں، تو اس کو اسی نظر سے دیکھنا چاہیے۔‘

پاکستان میں قومی ایکشن پلان کے نکات میں مدارس کی رجسٹریشن بھی شامل تھی لیکن مدارس کی تنظیموں اور صوبائی حکومت میں اس پر اتفاق نہیں ہو سکا۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے مدارس کی فنڈنگ پر بھی سوالات اٹھاتے رہے ہیں۔ یہ سوال رجسٹریشن کے سوال نامے میں شامل تھا۔

قاری محمد حنیف کا کہنا تھا کہ’حکومت ثبوت لائے، جس مدرسے نے غیر ملکی پیسے لیے ہیں، ہم خود اس کو بند کر دیں گے۔ ایسی فرضی باتیں نہ کی جائیں۔ یہ مدارس عوام کی مدد سے چلتے ہیں۔ میں ایک ایک پائی کا حساب رکھتا ہوں۔ حکومت ہم سے تب پیسے مانگے جب وہ ہمیں پیسے دیتی ہو۔ وہ ان ہی اداروں سے مانگے جنہیں وہ پیسے دیتے ہیں۔ انہیں کوئی حق نہیں ہے ہم سے حساب مانگنے کا۔ ہاں ملک کے قانون کے خلاف ہمارے پیسہ ہے تو اس کا ثبوت لائیں۔‘

وفاق المدارس کے رہنماؤں نے بتایا کہ اس وقت ملک میں مدارس میں 35 لاکھ طالب علم اور طالبات زیر تعلیم ہیں، لوگوں کا ان پر اعتماد ہے اسی لیے وہ اپنے بچوں کو مدارس میں بھیج رہے ہیں۔