کبھی کبھی الفاظ کم پڑ جاتے ہیں

 

 

ہر زبان اپنے آپ میں مکمل ہوتی ہے۔ خیالات اور جذبات کے اظہار کے لیے سبھی زبانوں میں الفاظ موجود ہیں۔ پھر بھی متعدد احساسات ایسے ہوتے ہیں جنہیں بیان کرنے کے لیے ہمارے پاس الفاظ کم پڑ جاتے ہیں۔
ذائقے کے بارے میں بات کرتے ہوئے ہم کھٹا، میٹھا، کڑوا جیسے الفاظ کا استعمال کرتے ہیں۔ متعدد بار ایسا بھی ہوتا ہے کہ درست ذائقہ بتانے کے لیے معقول الفاط نہیں ملتے۔ ہو سکتا ہے کہ ہماری زبان میں ایسے الفاط کی کمی ہو۔ لیکن دیگر زبانوں میں ان کے لیے معقول الفاظ ہو سکتے ہیں۔

دراصل رنگ، خوشبو، ذائقہ وغیرہ بیان کرنے کے لیے ہم جس طرح کے الفاظ کا استعمال کرتے ہیں ان سے ہماری تہذیب کی عکاسی ہوتی ہے۔

 

ایسا بھی سمجھا جاتا ہے کہ انگریزی زبان کی لغت میں سب سے زیادہ الفاظ موجود ہیں۔ لیکن حالیہ ریسرچ یہ ثابت کرتی ہے کہ ماحول کو محسوس کر کے اسے بیان کرنے میں جس طرح کے الفاظ کا استعمال ہوتا ہے اس سے ہماری تہذیب کا پتہ چلتا ہے۔

یہ ریسرچ یورپ، شمالی اور جنوبی امریکہ، ایشیا، افریقہ اور آسٹریلیا کی بیس زبانوں پر کی گئی۔ ریسرچ میں شامل افراد سے میٹھے پانی کا ذائقہ بتانے، خوشبو والا کاغذ سونگھ کر اس کی مہک بتانے اور رنگین کاغذ دیکھ کر اس کا رنگ بتانے کے لیے کہا گیا۔ کسی کے پاس خوشبو کے لیے صحیح الفاظ تھے تو کسی کے پاس رنگ کے لیے۔ اور کسی کے پاس میٹھے پانی کے لیے عمدہ لفظ تھا۔

لیکن تینوں کے لیے صحیح الفاظ بتانے والا کوئی نہیں تھا۔
اس ریسرچ کی سربراہ آصفہ ماجد نے بر صغیر کی ایک خانہ بدوش برادری جہائے پر بھی ریسرچ کی۔ انہوں نے پایا کہ اس برادری کے لوگ چونکہ جنگلوں میں رہتے ہیں، اس لیے وہ ہر طرح کی خوشبو کو بہتر جانتے ہیں۔ ان کی زبان میں مختلف طرح کی بو کے لیے بے شمار الفاظ موجود ہیں۔ اس معاملے میں ان کی زبان میں انگریزی سے بھی زیادہ الفاظ موجود ہیں۔ تاہم رنگوں اور ذائقوں کے لیے ان کے پاس بہت کم الفاظ ہیں۔

آسٹریلیا میں عام طور پر انگریزی بولی جاتی ہے۔ لیکن وہاں چند افراد امپالا زبان بولتے ہیں۔ ریسرچ میں ان افراد کو بھی شامل کیا گیا۔ اس ریسرچ میں کل 313 افراد شامل کیے گیے اور سبھی کو مختلف گروپس میں تقسیم کر کے ان کا ٹیسٹ کیا گیا۔

اس ریسرچ میں پایا گیا کہ فارسی زبان میں ذائقوں کے لیے بہت الفاظ ہیں۔
ریسرچ میں سامنے آیا کہ جن تہذیبوں میں کھانے پینی کی روایت زیادہ ہے ان کی زبان میں ذائقوں کے لیے زیادہ الفاظ موجود ہیں۔ اسی طرح جو آبادیاں جنگلات میں رہتی ہیں وہ رنگوں اور خوشبوؤں کو بہتر پہچانتی ہیں۔

اشاروں کی زبان استعال کرنے والوں میں بھی اس طرح کی کشمکش دیکھنے کو ملتی ہے۔ مثال کے طور پر بالی کے کاٹا کولوک گاؤں میں تقریباً 1200 افراد اشاروں کی زبان بولتے ہیں۔
اسی طرح جو لوگ ایک ہی طرح کے گھروں میں رہتے ہیں ان کی زبان میں بہت سے ڈھانچوں کو بیان کرنے کے لیے الفاظ نہیں ہوتے ہیں۔ ریسرچ میں موسیقی سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شامل تھے۔ ان کی زبان میں کئی طرح کی آوازوں کے لیے الفاظ تھے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو لوگ موسیقی کی دنیا میں رہتے ہیں وہ بات چیت کے لیے اپنی ایک الگ لغت تیار کر لیتے ہیں۔