فاٹا انضمام: کیا قبائلیوں کو پاکستانی قوانین کے تحت انصاف مل سکے گا؟

 

 

حکم خان اس تاریخی دن کا حصہ تھے جب قبائلی علاقوں کے لیے پاکستان کے مروجہ قانون کے تحت قائم عدالتوں میں پہلے دن ان کے مقدمے کی سماعت تھی۔
حکم خان کا کہنا تھا: ’ابھی تو ابتدا ہے، امید ہے کہ یہ کورٹ اور کچہری ان کے اپنے علاقے میں بھی قائم ہو جائے گی۔‘
ضلع خیبر کے دور افتادہ علاقے وادی تیراہ سے زمین کے ایک تنازعے کے مقدمے کے لیے بزرگ شہری حکم خان تین سے چار گھنٹے کا سفر طے کر کے پشاور پہنچے جہاں انھیں ایک اور تاریخ دے دی گئی۔
حکم خان پھر بھی مطمئن تھے، ان کا کہنا تھا کہ یہ عدالتی نظام قبائلی علاقے کے اس کالے قانون ایف سی آر سے کہیں بہتر ہے۔

 

 

پشاور کے حیات آباد کے علاقے میں فیڈرل جوڈیشل کمپلیکس میں قائم یہ عدالت ضلع خیبر کے لیے ہے۔ یعنی ضلع خیبر کے دور دراز علاقے جیسے وادی تیراہ، لنڈی کوتل، باڑہ اور دیگر علاقوں سے انصاف کے حصول کے لیے لوگوں کو پشاور آنا پڑے گا۔ گھر کی دہلیز پر انصاف کا حصول فی الحال مشکل ہے۔

حکم خان جوڈیشل کمپلیکس میں اپنی پیشی کے انتظار میں تھے لیکن انھیں یہ بتایا گیا کہ آج عملہ نہ ہونے کی وجہ سے شاید آپ کو اگلی پیشی پر پھر آنا پڑے گا۔
حکم خان کو پشاور پہنچنے میں تین سے چار گھنٹے لگتے ہیں۔ ان سے جب پوچھا کہ انھیں اتنا سفر طے کر کے پشاور آنا پڑتا ہے تو انھوں نے جواب دیا کہ ’تکلیف ضرور ہے لیکن وقت کے ساتھ یہ عدالتیں ہمارے اپنے علاقے میں بھی قائم ہو جائیں گی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقوں اور خیبر پختونخوا کے انضمام کے بارے میں قبائلی علاقوں میں رائے منقسم ہے۔ حکم خان کہتے ہیں کہ کیونکہ بعض لوگ اس کے حق میں ہیں اور بعض اس کے خلاف اس لیے فوری طور پر شاید عدالت کا اپنے علاقوں میں قیام مشکل نظر آتا ہے۔

حکم خان کے مطابق انضمام کے لیے حکومت نے مقامی افراد سے مشاورت نہیں کی حالانکہ قبائل نے اس سرحد کی حفاظت 65 سالوں تک کی ہے۔ لیکن انھوں نے کہا کہ لوگ اب بھی خوش ہیں اور جب اپنا صوبہ ہو جائے گا تو سارے مسئلے حل ہو جائیں گے۔

پیر کو ضلع خیبر کے حوالے سے سینیئر سول جج کی عدالت نے مقدمات کی سماعت کی اور ایک مقدمے میں متعلقہ فریق کو نوٹس بھی جاری کیا ہے۔
یہ ایک تاریخی موقع ہے جہاں قبائلی علاقوں میں پاکستان کا مروجہ قانون لاگو ہو گیا ہے۔ اب قبائلی علاقوں میں لوگوں کو ایف سی آر کے تحت حراساں نہیں کیا جا سکے گا۔
دیگر سات قبائلی اضلاع کے لیے عدالتیں متصل شہروں میں قائم کی گئی ہیں۔
باجوڑ کی عدالت ضلع دیر زیریں میں تمرگرہ کے مقام پر، کرم ضلع کی عدالت ٹل ضلع ہنگو میں، جنوبی وزیرستان کی عدالت ضلع ٹانک ،شمالی وزیرستان کی عدالت بنوں اورکزئی ضلع کی عدالت ہنگو، اور مہمند ضلع کی عدالت چارسدہ میں شبقدر کے مقام پر قائم کی گئی ہے۔

ان عدالتوں کے لیے ابتدائی طور پر 28 جج تعینات کیے گئے ہیں۔ ان میں سات سیشن جج، 14 ایڈیشنل سیشن جج اور سات سینیئر سول ججوں کی تعیناتی کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے۔ سول ججوں اور جوڈیشل مجسٹریٹس کی تعیناتی ابھی باقی ہے۔

عدالتوں کے قیام اور ججوں کی تعیناتی میں تاخیر کی وجہ سے متعدد مقدمات التوا کا شکار ہوئے جس میں لوگوں میں ایک بے یقینی کی صورت حال بھی پائی جاتی تھی۔ انضمام کے بعد جب عدالتی نظام قائم نہیں کیا گیا تھا تو بڑی تعداد میں لوگوں نے پشاور ہائی کورٹ میں اپیلیں دائر کر دی تھیں تاکہ انھیں کچھ ریلیف مل سکے۔

فاٹا لائرز فورم کے سابق صدر اعجاز مہمند نے بی بی سی کو بتایا کہ میرے خیال میں مئی 2018 میں جب 25 ویں ترمیم ہوئی تو اس کے بعد سینکڑوں کی تعداد میں لوگوں نے اپیلیں دائر کی تھیں۔ اسی طرح متعدد وکلا نے قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی اپیلیں ہائی کورٹ میں دی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک تاریخی فیصلہ ہے جس سے لوگوں کو فائدہ ہو گا۔ جس وجہ سے لوگ بھی ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کی قبائلی علاقوں تک رسائی کے فیصلے سے خوش ہیں۔
انضمام کے مخالفت کرنے والے ملک جرگے کا نظام چاہتے ہیں۔
حکومت نے اب قبائلی علاقوں کے روایتی نظام جرگے کے بارے میں فیصلہ کرنا ہے۔ اسی طرح ابھی جوڈیشیل مجسٹریٹس کی تعیناتی کا عمل بھی ہونا ہے اور پولیس کے نظام کے بارے میں بھی فیصلے کرنا باقی ہیں۔