ورلڈ کپ: کوہلی کو دھونی کا ساتھ چاہیے‘

 

 

موہالی میں آسٹریلیا نے انڈیا کے ساڑھے تین سو سے زیادہ رنز کے پہاڑ کو بونا ثابت کر کے نہ صرف سیریز میں واپسی کی، بلکہ اکثر انڈین کپتان وراٹ کوہلی پر تنقید کرنے والوں کو بھی کچھ کہنے کا موقع دے دیا۔

انڈیا کی ون ڈے تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا جب ٹیم انڈیا کو 350 رنز کا ہدف کھڑا کرنے کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سے پہلے اتنے رنز بنانے پر انڈیا ہمیشہ فاتح رہا تھا۔

 

 

 

تنقید کرنے والوں کو موقع مل گیا کہ اتنے بڑے سکور کا دفاع نہ کر پانے پر کیا کپتان وراٹ کوہلی کی ٹیم انڈیا کی عالمی کپ کے لیے تیاریاں پوری ہیں؟ اور کیا بطور کپتان کوہلی ابھی قدم نہیں جما پائے؟
موہالی میں جب آسٹریلیا کے خلاف انڈین ٹیم کسی کسی طرح میچ بچانے کے لیے جوجھ رہی تھی، یہاں تک کہ عام طور پر پِچ کے قریب نظر آنے والے کپتان وراٹ کوہلی باؤنڈری لائن پر فیلڈنگ کر رہے تھے، ایسی مشکل میں اکثر سابق کپتان مہندر سنگھ دھونی سے صلاح مشورہ کرنے والے کوہلی مقابلے کے دوران الگ تھلگ سے دکھائی دیے۔

آسٹریلیا کے خلاف پانچ میچوں پر مشتمل ون ڈے سیریز کے آخری دو مقابلوں میں سابق کپتان اور وکٹ کیپر مہندر سنگھ دھونی کو آرام دیا گیا ہے۔ مبصرین کئی بار کہہ چکے ہیں کہ جب دھونی ٹیم میں موجود ہوتے ہیں تو کوہلی کا کام آسان ہو جاتا ہے۔

دھونی وکٹ کے پیچھے کھڑے ہو کر مسلسل حکمت عملی تیار کرتے ہیں۔ وہ بولروں سے مسلسل بات کرتے رہتے ہیں، ان کا حوصلہ بڑھاتے ہیں۔ اس کے علاوہ وکٹ کیپنگ کرتے ہوئے دھونی دوسری ٹیم کے بلے بازوں کو اپنی مائنڈ گیمز سے بھی پریشان کرتے ہیں۔

جب کوہلی کے ہاتھوں میں بلا ہوتا ہے تب انھیں کسی کی صلاح کی ضرورت نہیں ہوتی۔ وہ اپنی بیٹنگ کے دم پر کسی بھی وقت میچ کا نقشہ بدلنے کی قوت رکھتے ہیں لیکن جب ان کے بولر دوسری ٹیم کے سامنے اچھا پرفارم نہیں کرتے تو اس وقت وہ بے بس نظر آتے ہیں، اور ان کا کوئی داؤ کام نہیں آتا۔

عثمان خواجہ لگاتار سنچری کی طرف بڑھ رہے تھے جب جسپریت بُمراہ نے انھیں 91 کے سکور پر آؤٹ کر دیا لیکن وراٹ نے اگلے اوور میں انھں بولنگ سے ہٹا دیا۔
بُمراہ کے اوور میں گلین میکسویل نے دو چوکے لگائے لیکن اس کا مطلب نہیں کہ اہم وکٹ لینے والے بولر کو اگلا اوور نہ دیا جائے۔ اس کے بعد جب بُمراہ کو پھر موقع ملا تو تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔
موہالی میں ٹیم انڈیا کو وکٹوں کی بہت ضرورت تھی۔ اس کے باوجود کوہلی نے پارٹ ٹائم بولروں کو بہت جلد گیند تھما دی۔
یہ حکمت عملی اس لیے بھی ماہرین کے گلے سے نہیں اتری کیونکہ اس وقت ایرن فِنچ اور عثمان خواجہ بڑے آرام سے رن بنا رہے تھے۔
یُجویندر چہل اور کُلدیپ یادو اس میچ میں دھونی کی صلاح کے بغیر بےاثر نظر آئے۔ 12 اوور، 72 رنز، بنا کسی وکٹ۔

بیدی نے خبر رسان ادارے پی ٹی آئی سے بات کرتے ہوئے کہا، ’میں تبصرہ کرنے والا کون ہوتا ہوں، لیکن ہم سبھی حیران تھے کہ دھونی کو آرام کیوں دیا گیا اور وکٹ کے پیچھے، بیٹنگ اور فیلڈنگ میں ان کی کمی محسوس ہوئی۔ وہ (کوہلی) ایک طرح سے آدھا کپتان ہے۔‘

انھوں نے مزید کیا، ’دھونی اب پہلے جیسے پھرتیلے نہیں، لیکن ٹیم کو ان کی ضرورت ہے۔‘
موہالی میں دھونی کی جگہ لینے والے رِشبھ پنت سے جب وکٹ کے پیچھے گیند چھوٹی تب تب ناظرین کے سٹیڈیم میں دھونی-دھونی چلانا شروع کر دیا تھا۔
بیدی نے کہا، ’پنت ابھی جنگلی گھوڑا ہے۔ کسی کو ان پر لگام لگانی ہو گی۔ ایسا کون کرے گا؟ شاید سپورٹ سٹاف ایسا کر سکیں۔ وہ بار بار غلطیاں دہرا رہے ہیں اور سٹمپ کے پیچھے بھی انھیں کافی کام کرنے کی ضرورت ہے۔‘

بیدی نے کہا کہ دھونی کی موجودگی میں ٹیم ٹھہراؤ کے ساتھ کھیلتی ہے۔ کپتان کو بھی ان کی ضرورت محسوس ہوتی ہے اور ان کے بنا وہ غیر مطمئن نظر آتے ہیں، جو اچھی بات نہیں ہے۔ بیدی نے یہ کہا کہ انڈین ٹیم کو عالمی کپ سے پہلے ون ڈے ٹیم میں تجربات نہیں کرنے چاہیے تھے۔

بیدی نے یہ بھی کہا کہ 23 مارچ کو شروع ہونا والا آئی پی ایل، عالمی کپ سے پہلے انڈیا کے لیے مسائل پیدا کر سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا، ’ان میں سے کوئی بھی آئی پی ایل کے دوران زخمی ہو سکتا ہے۔‘