لاہور قلندرز: مایوس کن کارکردگی پر کھلاڑیوں سے جواب طلبی ہو گی‘

 

 

لاہور قلندرز کی ٹیم پاکستان سپر لیگ کے پلے آف مرحلے سے باہر ہو گئی ہے۔
یہ پہلی بار نہیں ہوا ہے لیکن آخر کیا وجہ ہے کہ لاہور قلندرز اب تک ہونے والے چاروں سیزن میں پلے آف میں جگہ بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہے۔
لاہور قلندرز وہ فرینچائز ہے جو نئے کھلاڑیوں کی تلاش اور انھیں بڑی کرکٹ کے لیے آسٹریلیا بھیجنے پر بے پناہ اخراجات برداشت کرتی ہے۔

 

 

نئے ٹیلنٹ کی تلاش میں وہ ملک کے مختلف حصوں میں ہونے والے ٹرائلز کے لیے بھاری معاوضوں پر سابق ٹیسٹ کرکٹرز کی خدمات بھی حاصل کرتی ہے اور جب پی ایس ایل کی ڈرافٹنگ کا وقت آتا ہے تو اس کی کوشش ہوتی ہے کہ جتنا ممکن ہو سکے بہترین غیر ملکی کرکٹرز کو حاصل کرے۔

لاہور قلندرز نے پہلے سال ویسٹ انڈیز کے جارحانہ بیٹسمین کرس گیل کی خدمات حاصل کیں۔ ان کے علاوہ کیمرون ڈیل پورٹ اور ڈوائن براوو جیسے تجربہ کار کرکٹر بھی اس کا حصہ تھے لیکن چھ ٹیموں میں اس کا نمبر آخری رہا۔

دوسرے سال لاہور قلندرز نے نیوزی لینڈ کے برینڈن مککلم کو نہ صرف حاصل کیا بلکہ انھیں اظہر علی کی جگہ کپتان بھی بنا دیا، لیکن نتیجہ پہلے سیزن جیسا ہی رہا۔
تیسرے سال بھی لاہور قلندرز کی مایوسی ختم نہیں ہوئی اور برینڈن مککلم کی قیادت میں وہ چھ ٹیموں میں آخری نمبر پر آئی۔
برینڈن مککلم کی اپنی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی اور وہ 10 میچوں میں کوئی نصف سنچری نہ بنا سکے۔
لاہور قلندرز نے رواں سیزن میں کپتانی محمد حفیظ کے سپرد کی لیکن بدقسمتی سے وہ صرف دو میچ کھیلنے کے بعد انگوٹھے میں فریکچر کی وجہ سے ایونٹ سے باہر ہو گئے۔
لاہور قلندرز نے اے بی ڈی ویلیئرز کو بڑی امیدوں کے ساتھ حاصل کیا تھا۔
ڈی ویلیئرز نے لاہور آنے کا اعلان کر کے ان کو خوشخبری سنائی تھی لیکن جیسے ہی پی ایس ایل کے میچ لاہور سے کراچی منتقل ہوئے ڈی ویلیئرز کی طرف سے بھی یہ خبر آئی کہ وہ کمر کی تکلیف میں مبتلا ہو گئے ہیں اور کراچی نہیں آئیں گے۔ یہ اعلان لاہور قلندرز کے لیے بہت بڑا دھچکہ تھا۔

اے بی ڈی ویلیئرز کے علاوہ کوری اینڈرسن اور کارلوس بریتھ ویٹ بھی پورے سیزن کے لیے دستیاب نہ تھے، جبکہ فخر زمان کے لیے بھی پہلی بار کپتانی کا تجربہ کامیاب نہ رہا۔
لاہور قلندرز کے مالک فواد رانا اپنی ٹیم کی مسلسل ناکامی پر خاصے دلبرداشتہ ہو چکے ہیں اور انھوں نے لاہور کے لوگوں سے اپنی ٹیم کی مایوس کن کارکردگی پر معافی بھی مانگی ہے۔
فواد رانا جو پاکستان سپر لیگ کے میچوں میں اپنی ٹیم کا حوصلہ بڑھانے کے لیے پیش پیش نظر آتے ہیں کہتے ہیں کہ ان کی ٹیم ہار ہار کر تھک چکی ہے۔
محمد حفیظ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جب ٹیم کا کپتان ہی ان فٹ ہو جائے تو پھر آپ کیا توقع رکھ سکتے ہیں۔ فواد رانا نہ یہ بھی کہا کہ ٹیم کی مایوس کن کارکردگی پر یقیناً کھلاڑیوں سے جواب طلبی ہو گی۔

تجزیہ کار اور مبصرین یہ خیال ظاہر کر رہے ہیں کہ چاروں سیزن میں ایک جیسی کارکردگی کے بعد اب لاہور قلندرز کو اپنی حکمت عملی ازسرنو ترتیب دینی ہو گی اور ایسے کھلاڑیوں کو حاصل کرنا ہو گا جو اسے پورے ایونٹ میں دستیاب ہوں۔

ماہرین اور مبصرین کوچ عاقب جاوید کی تبدیلی کی طرف بھی اشارہ کر رہے ہیں جو ابتدا ہی سے لاہور قلندر سے وابستہ ہیں۔
لیکن ان کی کوچنگ کے طریقۂ کار پر عدم اطمینان ظاہر کرتے ہوئے یہ کہا جا رہا ہے کہ کپتان اور کھلاڑی تبدیل کرنے کے باوجود مطلوبہ نتائج سامنے نہ آنے کے بعد اب لاہور قلندرز کو کوچنگ سٹاف میں تازہ سوچ اور خیالات لانے چاہئیں۔