شاہد آفریدی: نئے لڑکوں کو پرانے کرکٹرز پر ترجیح نہ دی جائے

 

 

سابق ٹیسٹ کرکٹر شاہد آفریدی نے پاکستانی کرکٹ ٹیم کی سلیکشن پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صرف ایک یا دو اچھی کارکردگیوں پر کرکٹرز کو پاکستانی کیپ پہنایا جانا درست نہیں ہے۔
شاہد آفریدی کا کہنا ہے کہ پاکستان کی کیپ ہر کسی کے لیے بہت آسان کردی گئی ہے۔ انھوں نہ کہا کہ نوجوان کرکٹرز کو پہلے اکیڈمی اور اے ٹیم کی سطح پر کھلا کر تجربہ دیا جائے اور پھر انھیں بین الاقوامی کرکٹ میں لایا جائے۔

ان کا کہنا ہے کہ انھیں پاکستان سپر لیگ میں معیاری بیٹسمین نظر نہیں آئے۔ البتہ آفریدی کو اچھے بولرز نظر آئے ہیں، لیکن وہ چاہتے ہیں انھیں اتنی جلدی چانس دینے کے بجائے ابھی مزید کھیلنے دیا جائے۔

 

 

’ہمارے پاس اس وقت پرانے کرکٹرز موجود ہیں، مثلاً جنید خان جنھوں نے بہت ہی عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے یا پھر وہاب ریاض کی مجموعی کارکردگی اچھی ہے۔ لہذا آپ ان تجربہ کار بولرز پر نئے لڑکوں کو ترجیح نہیں دے سکتے کیونکہ ورلڈ کپ بہت نزدیک ہے۔‘

شاہد آفریدی نے سرفراز احمد سمیت چھ کرکٹرز کو آسٹریلیا کے خلاف ون ڈے سیریز میں آرام دیے جانے کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ سیریز بنگلہ دیش، زمبابوے یا کسی کم رینکنگ ٹیم کے خلاف ہوتی تو یہ آرام بنتا تھا، لیکن یہ سیریز بڑی ٹیم کے ساتھ ہے جس کے خلاف اچھی کارکردگی دکھانے سے اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے۔

آفریدی نے کہا کہ سرفراز احمد بہترین قائدانہ صلاحیتوں کے حامل کپتان ہیں جو فرنچائز اور انٹرنیشنل کرکٹ میں ٹیم کو ساتھ لے کر چلتے ہوئے اپنی کرکٹ سے بھرپور لطف اندوز ہوتے ہیں۔ پاکستانی ٹیم کا سب سے بڑا امتحان ورلڈ کپ ہے لہذا تمام پاکستانیوں کو چاہیے کہ وہ سرفراز احمد کو سپورٹ کریں۔

انھوں نے پاکستان سپر لیگ سے کنارہ کشی اختیار کرنے سے متعلق کہا کہ انھوں نے اس طرح کا کوئی فیصلہ نہیں کیا اور وہ اگلے سال بھی پی ایس ایل میں نظر آئیں گے۔ تاہم انھوں نے اس بات پر افسوس ظاہر کیا کہ مکمل فٹ نہ ہونے کی وجہ سے وہ اس بار اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہے۔

یاد رہے کہ شاہد آفریدی نے پشاور زلمی اور کراچی کنگز کے بعد اس سیزن میں ملتان سلطانز کی نمائندگی کی اور آٹھ میچوں میں 10 وکٹیں حاصل کیں، لیکن بیٹنگ میں ان کا سب سے بڑا انفرادی سکور صرف 16 رنز ناٹ آؤٹ رہا۔