ہمیں کچھ کھانے پسند اور باقی ناپسند کیوں ہوتے ہیں؟

 

 

ہمیں کچھ کھانے پسند اور باقی ناپسند کیوں ہوتے ہیں؟ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ ہمارے مختلف ذائقوں کی وضاحت کے بہت سے اسباب ہیں۔
یہ اسباب جنیاتیات سے نفسیات تک ہیں۔ ساتھ ساتھ ہماری ارتقاء سے گزرتی بیالوجی۔
ان میں سے کچھ پر ایک قریبی نظر ڈالتے ہیں۔
ذائقہ اورخوشبو الگ الگ معاملے ہیں اور ہمارا ڈی این اے اصل مجرم ہے۔ ہمارا جنیٹک کوڈ یہ تعین کرنے میں مدد کرتا ہے کہ ہمارا دماغ سینسریل پیغامات پر کیسے عمل کرے گا۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم میں سے ہر کوئی کھانے کے ذائقہ پر مختلف ردعمل ظاہر کرے گا۔ سنہ 2004 میں کیلی فورنیا یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے یہ پتہ لگایا کہ ہمارے آلفیکٹری ریسیپٹرز، ہمارے جینوم کے ان حصوں میں واقع تھے جہاں جینیاتی تبدیلیاں نارمل کے مقابلے میں زیادہ تھیں۔

یہ تغیرات شاید انفرادی طور پر لوگوں میں مختلف رویے کا باعث بنتی ہیں اور اسی کی مدد سے وضاحت ہوتی ہے کہ ہر کوئی ایک ہی کھانے کو پسند یا نا پسند کیوں کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے

 

 

ہمارے ذائقے کی حس زندگی بچانے والی تھی۔ اس زمین کے پہلے انسانوں کو اپنے لیے بہترین کھانا چننے اور برے سے گریز کرنے میں مدد کے لیے ایک طریقہ بنانا پڑا تھا۔
اس کی ایک اچھی مثال ہماری تلخ ذائقہ پہچاننے والی صلاحیت ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ ممکنہ طور پر پودوں میں نقصان دہ زہریلے مواد کے خلاف، ایک دفاعی طریقہِ کار کے طور پر بنائی گئی تھی۔
اور اس کے ساتھ ہی میٹھا ذائقہ ہمیں پودوں سے آسانی سے دستیاب گلوکوز (اور توانائی) کے ذرائع تلاش کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ ابتدائی ’شوگر کی زیادتی‘ جو بقا سے منسلک ہے، کیوں کہ ان دنوں میں کھانے کی چیزیں اتنا باآسانی دستیاب نہیں تھیں جتنا آج کل ہیں۔

آسٹریلیا کی نیشنل سائنس ایجنسی، کومن ویلتھ سائنس اینڈ انڈسٹریل ریسرچ آرگنائزیسشن میں ذائقوں کے ماہر، نکولس کہتے ہیں کہ ’اسی لیے زیادہ افراد ترش ذائقے کو پسند نہیں کرتے۔‘
ہمارے دماغ ہمارے ذائقے کی سمجھ بوجھ کا تعین کرتے ہیں۔ ماہرِ نفسیات کہتے ہیں کہ زیادہ تر ہم کھانے کی اشیا کو پسند یا ناپسند کرنا سیکھتے ہیں۔ یہ عمل تبھی شروع ہو جاتا ہے جب ہم ماں کی کوکھ میں ہوتے ہیں۔

ایک دو ہزار سال پرانی فرانسیسی تحقیق سے یہ علم ہوا کہ ایک بچہ ماں کے پیٹ میں ذائقوں کو سمجھنا شروع کرتا ہے۔ مثال کے طور پر ایسے بچے جن کی مائیں لہسن کھاتی ہیں وہ اس خوشبو کو زیادہ پسند کریں گے نسبتاً ان بچوں کے جنھیں ماں کی کوکھ میں ان سے متعارف نہیں کرایا گیا۔

ایریزونا سٹیٹ یونیورسٹی کی ماہرِنفسیات الیزبتھ فیلپس کہتی ہیں کہ ’دو سال کی عمر تک ہم ہر چیز کھائیں گے۔‘ فلپ کہتی ہیں اس کے بعد ہم نئے کھانوں کے بارے میں ایک فوبیا تخلیق کر لیتے ہیں۔
’والدین شاید یہ سوچتے ہوں کہ ان کے بچوں کو فلاں فلاں کھانے پسند یا ناپسند ہیں لیکن درحقیقت یہ کچھ نئی چیز ہوتی ہے جسے وہ پسند نہیں کرتے۔ اور یہ ناپسند پوری زندگی بھی رہ سکتی ہے اور یہ کسی وابستگی کی وجہ سے بھی ہو سکتی ہے۔ کوئی کھانا جس نے کبھی آپ کو بیمار کردیا ہو، آپ شاید پوری زندگی اسے دیکھنا بھی پسند نہ کریں۔‘

ہمیں کیسے کھانے پسند ہیں اس میں ہماری جنسی سیاست کا بھی کردار ہے۔
سنہ 2015 میں کینیڈا کی یونیورسٹی آف مانیٹوبا کے محقیقین نے معلوم کیا کہ لوگ صحت مند خوراک کو نسوانیت اور غیر صحت مند کو مردانگی کے ساتھ جوڑتے ہیں۔
ایک اسسٹنٹ بزنس پروفیسر اور اس تحقیق کے مصنفین میں سے ایک لوکو زو کہتے ہیں کہ ’شرکاء نے اشیا کے ذائقے کی بہتر درجہ بندی کی جب ان کی صحت کا تعلق جنس کے ساتھ ملا۔‘
ثقافت اور ماحول بھی اس بات کا تعین کرنے میں ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں کہ ہم کیا کھاتے ہیں اور ہم کیا کھانا چاہتے ہیں اور اس میں صنف کو کسی مخصوص زاویے سے دیکھنا بھی شامل ہے۔
یہ سب کہنے کے بعد لوگ اس چیز سے نفرت کرنا شروع کر سکتے ہیں جسے وہ پسند کرتے ہوں یا کسی چیز کو پسند کرنا شروع کرسکتے ہیں جس سے وہ پہلے نفرت کرتے ہوں۔
تو یہ کیسے تبدیل ہوتا ہے؟ آپ جتنے مختلف قسم کے کھانوں سے متعارف ہوتے ہیں، آپ کے لیے اپنے کھانے کے طریقہِ کار کو تبدیل کرنا اتنا ہی آسان ہوتا ہے۔
اپنے دماغ کو بہکا کر کسی چیز کی طرف راغب کرنا بھی مددگار ہوتا ہے، مثال کے طور پر سبزیوں میں میٹھا ڈالنا یا کسی کھانے یا پینے کی چیز کا رنگ تبدیل کرنا۔
سنہ 1980 میں ذائقوں کو چکھنے کے ایک مطالعہ میں ظاہر ہوا کہ جن لوگوں کی آنکھوں پر پٹی باندھی گئی تھی انھیں کسی مشروب کا ذائقہ پہچاننے میں دقت پیش آئی، لیکن جب وہ اسے دیکھ سکتے تھے تو انہوں نے اسے باآسانی پہچان لیا۔

اور جب لیموں کے ذائقے والی ایک مشروب کا رنگ نارنجی کر دیا گیا تو تقریباً 50 فیصد سے زیادہ افراد اس کے ذائقے کو نارنجی سمجھے، لیکن جب اس کا رنگ سبز تھا تب کسی نے اسے نارنجی ذائقے والی نہیں کہا۔