ویکسین کے بارے سات‘ غلط فہمیاں جنہیں دور کرنا ضروری ہے

پاکستان میں کئی سالوں سے جاری پولیو مہم کو کئی مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ کبھی حکومتی وسائل میں کمی تو کبھی دہشتگردوں کے حملے۔
مگر ریاست کی جانب سے پولیو مہم پر کامیابی سے عمل کے چیلنجز کے علاوہ، ملک میں بہت سے والدین مختلف ’خدشات‘ کی بنا پر اپنے پچوں کو یہ قطرے پلاتے ہی نہیں۔ اصل میں یہ خدشات نہیں ہوتے بلکہ اس مہم کے خلاف پھیلائی گئی غلط معلومات ہوتی ہیں۔

پاکستان میں پولیو مہم کے حوالے سے بہت ساری غلط فہمیاں موجود ہیں جیسے کہ کچھ لوگ اسے مسلمانوں کی آبادی کنٹرول کرنے کے لیے مغربی سازش قرار دیتے ہیں۔ ایسے خیالات کی مدد کے لیے ایسے غیر منطقی اور بےجا جواز پیش کیے جاتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جائے۔

مثال کے طور پر پولیو مہم سے منسلک اقوام متحدہ کی ایک اہلکار بتاتی ہیں کہ اسامہ بن لادن کو نشانہ بنانے کے لیے امریکی کارروائی کے بعد پاکستان میں لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد اپنے پچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کرنے لگی۔

اس کی وجہ وہ یہ بتاتی ہیں کہ کیونکہ اس کارروائی میں کچھ لوگوں نے اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد کے مکان میں موجودگی کو یقینی بنانے کے لیے ویکسنیشن کا بہانہ کر کے وہاں سے بچوں کے ڈی این اے نمونے لے لیے، اسی لیے اب ہر کوئی یہ سمجھنے لگا ہے کہ پولیو کے قطرے پلانے کے دوران بھی لوگوں کے ڈی این اے اکھٹے کیے جا رہے ہیں تاکہ غیر ملکی طاقتیں پاکستانی عوام کو مؤصر انداز میں نشانہ بنا سکیں۔

مگر پولیو وہ واحد بیماری نہیں جس کی ویکسنیشن کے بارے میں غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں اور نہ ہی پاکستان وہ واحد ملک ہے جہاں ایسے معاملات میں لوگ سائنس کو کھڑکی کے باہر پھینک دیتے ہیں۔ دنیا بھر میں مختلف بیماریوں کی ویکسنیشن کے حوالے سے بہت سی غیر مصدقہ اطلاعات پر لوگ یقین رکھتے ہیں۔

مندرجہ ذیل ایسی سات غلط فہمیاں اور ان کی حقیقت بیان کی گئی ہے جو کہ ویکسنیشنز کے بارے میں دنیا بھر میں پائی جاتی ہیں۔

گذشتہ چند دہائیوں میں مغربی ممالک میں ویکسنیشن سے حفاظتی اقدامات میں کمی آنے کی وجہ برطانوی جراح اینڈیو ویکفیلڈ سے وابستہ ہے۔
سنہ 1997 میں انھوں نے ایک مشہور طبی جریدے ’دی لینسٹ‘ کے لیے ایک مضمون لکھا۔ جس میں انہوں نے دعوی کیا کہ خسرہ، کن پیڑے اور شدید بخار کی ویکسین ’ایم ایم آر‘ برطانوی بچوں میں آٹ ازم نامی بیماری کا سبب بن رہی ہے۔

تاہم اس حوالے سے ہونے والی تحقیقات میں ویکسین اور آٹ ازم کے مابین کسی تعلق کی نفی کی گئی ہے۔ دی لینسٹ نے بعد ازاں اس تحقیق کو مسترد کیا اور ویکفیلڈ کو برطانوی میڈیکل رجسٹری سے خارج کر دیا گیا۔
تاہم ان کا یہ دعوی برطانیہ میں حفاظتی ویکسین لگوانے کی شرح میں کمی کا باعث بنا۔ سنہ 1996 میں یہ شرح 92 فیصد تھی جو کہ سنہ 2002 میں 84 فیصد رہ گئی۔ اب یہ شرح 91 فیصد ہے مگر یہ اب بھی ڈبلیو ایچ او کی بتائی گئی 95 فیصد کی شرح سے کم ہے۔

دو سال تک کی عمر کے بچوں کے لیے کم کز کم 11 ویکسین موجود ہیں. لیکن کچھ والدین کو پریشانی ہے کہ ویکسین کا بہت زیادہ استعمال ان کے بچوں کے مدافعتی نظام کے لیے ٹھیک نہیں۔
ایک عام خدشہ ہے کہ ویکسینز انسانی جسم میں ان وائرس اور بیکٹیریا کو متعارف کراتی ہے جو ایک خاص مرض کی وجہ بنتے ہیں۔
تاہم سائنسدان اس کے متبادل نسخے استعمال کرتے ہیں تاکہ یہ جسم میں بیماری کا محرک نہ بن سکیں۔
اس کے بجائے ویکسینز جسم کو ’اصل خطرے‘ سے نمٹنے کے لیے تیار کرتی ہیں۔
ڈاکٹر پال اے اوفٹ نے ویکسینز اور نومولود بچوں کے مدافعتی نظام میں تعلق پر اپنے ایک مشہور تجزیے میں لکھا کہ ’بچے اپنی پیدائش سے پہلے ہی اپنے جسم میں بیرونی محرکات کو جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔‘

’پیدائش کے چند گھنٹوں کے اندر ہی وہ ویکسینز کے خلاف مدافعتی دفاع کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔‘
بحث یہ ہے کہ بہتر سماجی و معاشی صورتحال،بہتر خوراک اور صفائی ستھرائی ویکسین جتنی ہی مؤثر ہیں۔
یہ بات سچ ہے کہ ویکسینز کے متعارف ہونے سے پہلے ہی کچھ بیماریوں سے ہونے والی اموات کی شرح کم ہو رہی تھی۔ لیکن انفیکشن کے کم ہونے میں ویکسینز نے بھی کردار ادا کیا۔
’یو ایس سینٹر آف ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (سی ڈی سی)‘ کے مطابق سنہ 1960 میں خسرہ سے سالانہ اموات 5300 سنہ 2012 تک کم ہو کر صرف 450 رہ گئیں۔ جبکہ خسرہ کی پہلی ویکسین سنہ 1963 میں آئی۔
لیکن ویکسین نے صرف بقا کی شرح کو بہتر نہیں کیا بلکہ ڈرامائی طور پر پانچ سال کے اندر ہی بیماری کے کیسز کو بھی کم کیا۔
اور اس حوالے سے کافی اچھے شواہد موجود ہیں جو بتاتے ہیں کہ ویکسین کی کمی بیماری کے دوبارہ لوٹ آنے کی وجہ ہو سکتی ہے۔
ستر کی دہائی میں جاپان اور سویڈن میں ایک اور وبائی مرض کالی کھانسی کی وجہ سے اموات میں خاصہ اضافہ دیکھا گیا جس کی وجہ یہ تھی کہ زیادہ تر بچوں کو حفاظتی ویکسین نہیں دی گئی تھی۔

ویکسین کی مخالفت کرنے والے افراد کے پاس سب سے بڑی دلیل یہی ہے۔
کوئی ویکسین 100 فیصد موثر نہیں ہوتی اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق بچوں کو دی جانے والی حفاظتی ویکسین 85 فیصد سے 95 فیصد بچوں میں ہی موثر ہوتی ہے۔
ہر شخص ویکسین پر مختلف قسم کا ردِعمل دیتا ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ حفاظتی ویکسین لگوانے والے تمام افراد مدافعتی نظام قائم نہیں کر سکتے۔
ویکسین لگوانے والے افراد کی ویکسین کا استعمال نہ کرنے والوں سے زیارہ بیمار ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ویکسین نہ لگوانے والے تعداد میں بہت زیادہ ہیں۔
ویکسین استعمال نہ کرنے والوں میں بیماری کی شرح کافی زیادہ ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے ہیلتھ اکنامسٹ میلود کادر کے مطابق سنہ 2013 میں ویکسین کی عالمی مارکیٹ کی قدر 24 ارب امریکی ڈالر تھی۔
اسی سال یہ ادویات کی عالمی مارکیٹ کی مجموعی قدر کا تین فیصد سے بھی کم تھا۔
حالیہ برسوں میں ویکسین کی مارکیٹ کی قدر میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کی وجوہات میں چین جیسے صنعتی ممالک میں ویکسین پروگراموں کا پھیلاؤ اور دولت مند افراد کا اس حوالے سے تحقیق کے لیے چندہ دینے کا رجحان شامل ہے۔ مائیکرو سافٹ کے بانی بل گیٹس اس کی سب سے بڑی مثال ہیں۔

لیکن حفاظتی ویکسین لگوانے کافائدہ مجموعی طور پر انسانیت کو ہے کیوں کہ بیمار ہونا اس سے کہیں زیادہ مہنگا ہے۔
سنہ 2016 میں جان ہوپکنز یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق دنیا کے سب سے کم آمدن والے 94 ممالک میں ویکسین پر خرچ کیے جانے والے ہر ڈالر سے صحت پر آنے والے اخراجات میں 16 ڈالر کو بچایا جاتا ہے۔

ایک اور خدشہ جس کی وجہ سے والدین اپنے بچوں کو ویکسین لگواتے ہوئے ہچکچاتے ہیں وہ ویکسین میں فارمل ڈی ہائیڈ، پارہ یا ایلومینیم جیسے مادوں کا استعمال ہے۔
یہ مادے ایک مخصوص مقدار سے زیادہ استعمال کی صورت میں نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔
لیکن ویکسین میں موجود ان کی مقدار نقصان دہ نہیں۔ یو ایس فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کے مطابق ایک عام ویکسین کی 0.5 ملی لیٹر خوراک میں پارے کی مقدار 25 مائیکرو گرام ہوتی ہے۔
ادارے کے مطابق یہ مقدار 85 گرام ٹونا مچھلی میں موجود پارے کی مقدار کے برابر ہے۔

ایسے اعتقاد ابھی تک موجود ہیں جن کے مطابق ویکسینز شہری آبادیوں کو نشانہ بنانے کی سازش کا حصہ ہیں۔
شمالی نائجیریا میں پولیو کے خلاف مہم اس وجہ سے روک دی گئی کیوں کہ ان کا ماننا تھا کہ یہ لڑکیوں میں بانجھ پن اور ایڈز کی وجہ بن رہی ہے۔ پولیو ورکرز پر حملے بھی کوئی نئی بات نہیں۔
نائجیریا کے علاوہ، پاکستان اور افغانستان وہ ممالک ہیں جہاں پولیو وائرس موجود ہے، ان ممالک میں بھی اسی طرح کی فرضی باتیں مشہور ہیں۔
ویکسین پروگرامز کے مقاصد کے حوالے سے موجود قیاس آرائیاں مکمل طور پرغلط بھی نہیں ہیں۔ مارچ 2011 میں امریکی ادارے سی آئی اے نے پاکستان میں موجود القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کے ڈی این اے نمونے حاصل کرنے کے لیے ہیپاٹئٹس بی کی جعلی دیکسینیشن مہم چلائی تھی۔

بعد ازاں یہ راز افشاں ہوگیا اور پاکستان جیسا ملک جہاں ویکسین پلانے کی شرح پہلے ہی کم ہے، میں اس حوالے سے خدشات مزید مستحکم ہو گئے۔