راجی: لڑکیوں کے ان سوالات کا جواب جنھیں پوچھنے سے وہ ہچکچاتی ہیں

‘کیا ہمیں ماہواری کے دوران ٹریننگ کرنی چاہیے؟’
‘لڑکیاں بائیک کیوں نہیں چلا سکتی؟’
‘لڑکیاں ہر وہ کام کیوں نہیں کر سکتی جو لڑکے کر سکتے ہیں؟’
اس طرح کے بہت سے سوالات صبا خالد کو اس وقت سننے کو ملتے ہیں جب وہ کسی سکول میں جاکر لڑکیوں کی فکری اور معاشرتی خود مختاری کے بارے میں بات کرتی ہیں۔
’عورت راج‘ کی سربراہ صبا خالد سندھ کے دور افتادہ علاقوں میں جا کر خواتین کو درپیش مختلف مسائل کے بارے میں آگاہی دیتی ہیں لیکن ان کا انداز تھوڑا مختلف ہوتا ہے۔

وہ کارٹون فلمز اور موبائل ایپلیکیشن کے ذریعے خواتین کے مسائل کو اجاگر کرتی ہیں جس کے بعد لڑکیاں ان مسائل پر بات کرنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔
وہ لڑکیوں سے براہِ راست سوالات پوچھنے کے بجائے شناخت ظاہر کیے بغیر ایسے سوالات پرچیوں کی صورت میں لیتی ہیں۔
صبا نے بتایا کہ وہ ایک سکول گئیں جہاں انھیں ماہورای کے بارے میں ایک سوال موصول ہوا۔ ‘اس دوران لڑکیاں چھپ چھپ کر ہنس رہی تھیں اور ان کو شرم آ رہی تھی لیکن ہم یہی شرم تو ختم کرنا چاہ رہے ہیں۔’
انھوں نے کہا کہ لڑکیوں کو اس طرح کے موضوعات پر بات کرتے ہوئے شرمانے کی بجائے ان کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ صحت کے مسائل ہیں جو اس وقت تک حل نہیں ہو سکتے جب تک ان پر بات نہ ہو۔
صبا کہتی ہیں کہ عورت راج کا واحد مقصد یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں خواتین کو بااختیار بنایا جائے۔
اور صبا یہ کام تعلیم اور تفریح کے ذریعے کرنا چاہتی ہے جس کے لیے وہ ٹیکنالوجی کا استعمال بھی کرتی ہے۔
انھوں نے مزید بتایا ‘جب ہم نے یہ سب تحقیق کی کہ اس بارے میں مہم کیسے چلائی جائے تو ہمیں یہ پتہ چلا کہ لڑکیوں کو کارٹونز بہت پسند ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ جو کارٹونز دستیاب تھے وہ کسی سماجی مسئلے کو بنیاد بنا کر نہیں بنائے گئے تھے۔ ’جب کہ ہم نے بہت مشکل موضوعات چنے تھے جن میں بچیوں کی قبل از وقت شادی، ماہواری کے مسائل اور بچوں کے ساتھ زیادتی جیسے موضوعات شامل تھے۔’

ان کا کہنا تھا کہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے انھوں نے لڑکیوں کی جانب سے کیے گئے سوالات کی روشنی میں اس طرح کے سماجی مسائل پر اپنے کارٹونز تخلیق کیے۔
ان کارٹونز کو دیکھنے کے بعد لڑکیوں کے ذہنوں میں بہت سارے سوالات اٹھتے تھے جن کے جوابات صبا اور ان کی ٹیم دینے کی کوشش کرتی ہیں۔
لیکن وہ کہتی ہیں کہ ان سوالات کی تعداد اتنی زیادہ ہوتی تھی کہ ہر سوال کا علیحدہ جواب دینا مشکل ہو جاتا۔
‘ہم نے سوچا کیوں نہ کوئی ایسی ٹیکنالوجی اور خود کار طریقہِ کار بنائیں کہ لڑکیاں کہیں سے بھی سوالات بھیجیں اور ہم ان سب کے جواب دے سکیں۔ ‘
اس مقصد کے لیے راجی کی تخلیق کی گئی۔
یہ ایک موبائل ایپلیکیشن ہے جس کے ذریعے سوالات کے جوابات ماہرین سے لے انھیں پوچھنے والوں تک پہنچایا جاتا ہے۔
راجی انسانوں اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ملاپ سے بنائی گئی ایپلیکیشن ہے۔
اس میں مواد انسانوں کی طرف سے آتا ہے اور پھر پروسیسنگ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ذریعے ہوتی ہے۔ آپ اسے اپنے موبائل فون میں انسٹال کیجیے اور اپنے مسئلے اس سے پوچھیے۔
اس کی اچھی بات یہ ہے کہ آپ کوئی چیز ٹائپ کیے بغیر آواز کی مدد سے بھی کوئی سوال پوچھ سکتے ہیں۔
صبا کہتی ہیں کہ اردو زبان میں ہونے کی وجہ سے راجی ابھی امتحان کے مراحل سے گزر رہی ہے مگر وقت کے ساتھ ساتھ اس میں بہتری لائی جا رہی ہے۔
صبا نے مزید کہنا تھا کہ ‘کچھ لڑکیوں کو ٹیکنالوجی تک رسائی نہیں ہوتی۔ اس صورت میں ہم ان سے کلاس میں جا کر بات کرتے ہیں۔ مل کر ایک چھوٹی سی سرگرمی کرتے ہیں جس میں وہ ہمیں اپنا نام ظاہر کیے بغیر اپنے سوالات ایک پرچی میں لکھ کر دے دیتی ہیں جسے ہم اپنے سسٹم میں ڈال دیتے ہیں۔’

وہ کہتی ہے کہ بہت ساری لڑکیاں مختلف مسائل سے دوچار ہیں لیکن وہ کسی کو بتا نہیں پاتیں۔
صبا کا خواب ہے کہ راجی ایسی صورت حال میں پیدا ہونے والا خلا پر کرے اور ایسی لڑکیوں کو بتایا جا سکے کہ مختلف حالات اور درپیش مسائل سے کس طرح نمٹا جائے۔