آسکرز 2019: کون کون گولڈن لیڈی گھر لے گیا اور کس نے کیا پہنا؟

2019 کے اکیڈمی ایوارڈ کی تقریب میں فلم ’گرین بک‘ نے بہترین فلم کا ایوارڈ جیت لیا ہے
گرین بک نے بہترین فلم سمیت مجموعی طور پر تین ایوارڈ حاصل کیے۔ بہترین سکرین پلے کے علاوہ بہترین معاون اداکار کا ایوارڈ بھی اسی فلم کے لیے دیا گیا۔
بہترین فلم کے بارے میں عام خیال یہی تھا کہ ’روما‘ یہ ایوارڈ جیت لے گی تاہم ’روما‘ تین دیگر ایوارڈ جیتنے میں کامیاب رہی۔
’گرین بک‘ کے ہدایتکار نے ایوارڈ وصول کرتے ہوئے کہا کہ ان کی فلم لوگوں کو ایک دوسرے سے پیار کرنا سکھاتی ہے۔
مجموعی طور پر سب سے زیادہ زمروں میں ایوارڈ جیتنے والی فلم چار ایوارڈز کے ساتھ ’بوہیمیئن ریپسوڈی‘ رہی۔

اسی فلم کے لیے ریمی ملک کو بہترین اداکار کا ایوارڈ ملا۔ انھیں یہ ایوارڈ فلم میں گلوکار فریڈی مرکری کا کردار نبھانے کے لیے دیا گیا۔
ریمی ملک کو یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ وہ صرف دوسرے عرب نژاد اداکار ہیں جنھوں نے آسکر جیتا ہے۔ اس سے قبل اداکار عمر شریف کو فلم ’لارنس آف عربیہ‘ کے لیے آسکر ایوارڈ ملا تھا۔
برطانوی اداکار اولیویا کولمین کو بہترین اداکارہ کا ایوارڈ ان کی فلم ’فیورٹ‘ پر دیا گیا۔
بہترین فلم کی طرح بہترین اداکارہ کے ایوارڈ کا نتیجہ بھی توقعات کے برعکس رہا۔ عمومی خیال یہی تھی کہ فلم ’دی وائف‘ کے لیے گلین کلوز یہ ایوارڈ جیتیں گی تاہم ایسا نہ ہوا۔
یہ گلین کی آسکرز کے لیے ساتویں نامزدگی تھی اور وہ ایک مرتبہ بھی ایوارڈ جیتنے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہیں۔
اولیویا آسکر وصول کرنے کے بعد جذباتی دکھائی دیں اور تقریر کے دوران آبدیدہ بھی ہو گئیں۔
انھوں نے اپنی تقریر میں اپنے ساتھی اداکاروں کا خاص طور پر شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ بہت دباؤ والا لمحہ ہے۔ یہ کتنی مزاحیہ بات ہے کہ میں نے آسکر جیت لیا ہے۔‘
ڈائریکٹر الفانسو کوارون کو ان کی فلم ’روما‘ پر ’بہترین ہدایت کار‘ کا ایوارڈ ملا۔ یہ ان کا چوتھا آسکر ہے۔
الفانسو کوارون نے ایوارڈ وصول کرنے کے بعد کہا کہ وہ اکیڈمی کے مشکور ہیں کہ ان کی فلم کو اس ایوارڈ کے ذریعے پذیرائی بخشی گئی۔
الفانسو کو بہترین ہدایتکار کے علاوہ اسی فلم کے لیے بہترین سنیماٹوگرافی پر بھی آسکر کا حقدار قرار دیا گیا جبکہ انھوں نے غیر ملکی زبان کی بہترین فلم کا ایوارڈ بھی لیا۔
مہرشالا علی کو بہترین فلم کا ایوارڈ جیتنے والی فلم ’گرین بک‘ میں ان کے کردار پر بہترین معاون اداکار کا ایوارڈ ملا۔
گذشتہ تین برسوں میں مہرشالا علی کا یہ دوسرا آسکر ایوارڈ ہے۔
انھوں نے سنہ 2017 میں فلم ’مون لائٹ‘ کے لیے بھی بہترین معاون اداکار کا ایوارڈ ملا تھا۔

آسکرز 2019 کی تقریب میں بہترین معاون اداکارہ کا ایوارڈ ریجینا کنگ کے نام رہا۔
انھیں یہ ایوارڈ فلم ’اف بِیل سٹریٹ کُڈ ٹاک‘ میں ان کی اداکاری پر دیا گیا۔
ریجینا کنگ اپنی والدہ کو اپنے ہمراہ تقریب میں لائیں تھیں جنھیں انھوں نے ایوارڈ جیتنے کے بعد اپنی تقریر میں خراج تحسین بھی پیش کیا۔
لیڈی گاگا، مارک رونسن اور اینڈریو وائٹ کو ’شیلو‘ نامی گانے پر بہترین نغمے کا ایوارڈ ملا۔ یہ گانا فلم ’اے سٹار اِز بارن‘ کا ہے۔
ایوارڈ وصول کرنے پر لیڈی گاگ نے ایک جذباتی تقریر کی جس کے بعد مارک رونسن نے لیڈی گاگا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ کو سلام پیش کرتے ہیں۔‘
فلم ’وائس‘ کی ٹیم کو بیسٹ میک اپ اور ہیر سٹائلنگ کی کیٹگری میں ایوارڈ ملا۔
روتھ ای کارٹر کو فلم ’بلیک پینتھر‘ میں بیسٹ کاسٹیوم ڈیزائن کا ایوارڈ ملا۔ بلیک پینتھر اب تک بیسٹ پروڈکشن ڈیزائن کا ایوارڈ بھی جیت چکی ہے۔
اداکار بلی پورٹر بھی ایک منفرد لباس میں دکھائی دیے۔

ہر سال کی طرح آسکرز کی تقریب میں گذشتہ سال ہم سے بچھڑ جانے والے اداکاروں اور فلم سازوں کو بھی یاد کیا گیا۔