سنہ 1989 کی آسکر ایوارڈز کی تقریب اکیڈمی اور موشن پکچر کی انڈسٹری کے لیے باعث ندامت بنی

سنہ 2019 کی آسکر ایواڈز کی تقریب میزبان کی عدم موجودگی میں منعقد ہونے جا رہی ہے۔ سنہ 1989 کے بعد پہلی مرتبہ ایسا ہو گا کہ اس تقریب کا کوئی میزبان نہیں ہو گا۔
تین دہائیوں کے بعد دوبارہ ایسا ہونے جا رہا ہے۔ ماضی میں اس تقریب کے متعلق کہا گیا تھا کہ اس نے بدترین اکیڈمی ایوارڈز کی ہر لسٹ میں ٹاپ کیا تھا۔
اس رات سکرین پر جو کچھ دیکھا گیا بہت سے اس یاد کو دوبارہ دہرانا نہیں چاہتے۔
اس ’بھیانک واقعے‘ کی یادیں دھندلا چکی ہیں جبکہ آسکرز کے نوجوان شائقین نے اس کی صرف تکلیف دہ کہانیاں ہی سنی ہوں گی۔

جب بالآخر اس واقعے کی ویڈیو یو ٹیوب پر آئی تو ایک دن میں لاکھوں لوگوں نے اُس ویڈیو کو دیکھا۔
ہم آپ کو فوٹیج تو نہیں دکھا سکتے لیکن الفاظ کے استعمال سے اس بھیانک واقعے کی منظرکشی ضرور کر سکتے ہیں۔

ورائٹی میگزین کے کالم نگار آرمی آرچرڈ آسکرز کے استقبالیے پر کھڑے ہیں (اُس سال آسکرز شرائن آڈیٹوریم میں منعقد ہوئے) اور وہ ’ہالی ووڈ کے عظیم ترین لوگوں میں سے ایک‘ کا تعارف کرواتے ہیں جو کہ سنو وائٹ نکلتی ہیں (22 سالہ آئلین بومین نے سنو وائٹ کا کردار نبھایا)۔

انھوں نے 1937 میں ڈزنی کی شہزادی کی کہانیوں کی عکاسی کرنے والی فلم جیسا ہی ملبوس پہن رکھا ہے۔
سنو وائٹ ’ذرا دیر سے‘ پہنچنے کی وضاحت کرتی ہیں اور تھیٹر کے سامنے کھڑے ہونے کے باوجود پوچھتی ہیں کہ وہ تھیٹر میں کیسے داخل ہو سکتی ہیں۔ آرمی آرچرڈ انھیں ’ہالی ووڈ کے ستاروں کا پیچھا‘ کرنے کو کہتے ہیں۔

یہ لوگ ہالی ووڈ کے بڑے اداکار نہیں بلکہ چوڑی دار پاجامہ زیب تن کیے لوگ ہیں جن کے جسم کے اوپر کے حصے پر پلاسٹک کا جھلملاتا ہوا بڑا سا ستارہ لگا ہوا ہے۔ سنو وائٹ ان لوگوں کے ساتھ تھیٹر کے اندر چلی جاتی ہیں۔

صرف 20 سیکنڈ گزرنے کے بعد ہی لوگوں کے چہروں پر زبردستی کی ہنسی دیکھ کر اندازہ ہو جاتا ہے کہ ان کے لیے شو کو برداشت کرنا مشکل ہو رہا ہے۔

زیادہ تر ’ستارے‘ سٹیج پر ہی موجود ہیں۔ یہ ستارے جب داد بٹورنے کے لیے حاضرین کی طرف رخ کر کہ جھکتے ہیں تو چند لوگ خوش اخلاقی کا تقاضا سمجھ کر تالیاں بجا دیتے ہیں۔

کسی وہیل مچھلی کی تیزی سے چیخنے کی مانند دھن سنائ دیتی ہے جس کے ساتھ ہی سنو وائٹ سٹیج کے پیچھے سے داخل ہوتی ہیں۔
اُنھیں اداکاروں، ہدایت کاروں اور پروڈیوسر کی نشستوں کی قطار کے بیچ ایک مخصوص رستے سے گزر کر سامنے جانے کے لیے ایک لمبی ڈھلوان سے نیچے جانا پڑتا ہے۔
پہلے ہی نشر ہونے والے منظر میں سامنے والی قطار میں بیٹھے لوگوں کے چہروں کو دیکھ کر لگتا ہے کہ انھیں یہ سب ناگوار گزر رہا ہے۔
سنو وائٹ ان میں سے کچھ ’ستاروں‘ سے ملنے جاتی ہیں مگر وہ اُن سے جتنا فاصلہ رکھ سکتے ہیں اتنا فاصلہ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ (ما سوائے رابن ولیمز کے جو کُھل کر مسکرا رہے ہیں)۔

سنو وائٹ سامنے پہنچ چکی ہیں اور بالکل مِیشیل فائفر کے سامنے کھڑی ہیں اور انھیں دیکھ کر گانا گانا شروع کر دیتی ہیں۔

وہ میشیل کا ہاتھ پکڑنے کی کوشش کرتی ہیں۔ میشیل اپنا ہاتھ چُھڑوا لیتی ہیں۔ میشیل کا یہ ردعمل ظاہر کرتا ہے کہ انھیں اس پوری سرگرمی میں کوئی دلچسپی نہیں اور وہ اس کا حصہ نہیں بننا چاہتیں۔
یہ ردعمل دنیا بھر میں تقریب دیکھنے والوں کو اشارہ دیتا ہے کہ ایک منٹ میں تھیٹر کے اندر لوگ کیسا محسوس کر رہے ہیں۔ (سنو وائٹ کا کردار نبھانے سے انکار کرنے والی اداکارہ لورنا لُفٹ نے بعد میں مشیل فائفر کے تاثرات ’اگر تم اسی وقت میرے سے دور نہیں ہو گی تو میں تمہیں جان سے مار دوں گی‘ دیکھ کر کہا کہ اُسی لمحے انھیں احساس ہوا کہ کردار ٹھکرانے کا ان کا فیصلہ درست تھا۔)

گانا چلتا رہتا ہے اور سنو وائٹ ٹوم ہینکس، سِگورنی ویور، ڈسٹن ہوف مین اور گلین کلوز کو بھی اپنے پرفارمنس میں شرکت کرانے کی کوشش کرتی ہیں۔

ان سب کے چہرے پر بھی زبردستی کی مسکراہٹ ہوتی ہے۔ (اس بارے میں شو کے مصنف برُوس ولانچ نے کہا ’وہ سنو وائٹ کو ایسے دیکھ رہے تھے جیسے وہ طاعون ہو`)

سنو وائٹ سٹیج کے درمیان میں جاتی ہیں اور پردے اٹھنے پر بہت سارے کھجور کے درخت نظر آتے ہیں۔ سالسا موسیقی بجنے لگتی ہے اور سٹیج پر موجود سب لوگ رقص کرنے لگتے ہیں

جیپرڈی اور ویل آف فارچون جیسے گیم شو بنانے والے مروو گرِفن جعلی کوکنی لہجے یعنی لندن کے ورکنگ کلاس افراد کی جانب سے بولے جانے والے انگریزی لہجے میں ’آئی ہیو گاٹ اے لوولی بنچ آف کوکونٹس` گانا شروع کر دیتے ہیں۔ سٹیج پر لگے ہوئے میز کے گرد پرانے تجربہ کار اداکار بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں اور ان میں سے کچھ تو کھڑے ہی نہیں ہو سکتے۔

ان میں سے دو تین کو تو یہ بھی نہیں پتا کہ وہ وہاں کر کیا رہے ہیں۔ ستاروں سے لیس پاجامہ زیب تن کیے ہوئے ویٹرز انھیں ایک ایک کر کے سٹیج سے لے جاتے ہیں۔ یہ من گھ،ت نہیں ہے، ہمارا یقین کیجیے۔

گرِفن سنو وائٹ کو ان کی ڈیٹ روب لو سے ملواتے ہیں۔ روب پہلے سے ہی جانتے ہیں کہ آنے والے چند منٹ ان کے کریئر کو شدید نقصان پہنچائیں گے۔ وہ سنو وائٹ کی طرف اِس طرح چل کر آتے ہیں جیسے بڑے گناہ کا مرتکب مجرم پھندے کی طرف چل کر جا رہا ہو۔

روب لو اور سنو وائٹ نے مل کر ایک گانا گایا جو اس حوالے سے تھا کے کیمرے ریکارڈ کرتے رہیں البتہ سب لوگ اس کے برعکس صرف یہ امید کر رہے تھے کہ وہ کیمرے بند ہو جائیں، ہمیشہ کے لیے۔

سر پر بڑے بڑے ناریل رکھے تین خواتین سٹیج پر آتی ہیں۔ ان میں سے ایک خاتون سنو وائٹ کی جگہ گانا شروع کر دیتی یں اور شکر ہے وہ واقعی گا سکتی ہیں اور حاضرین کو سنو وائٹ کی آواز کو مزید برداشت نہیں کرنا پڑتا۔

پس منظر میں میز جن کے ساتھ کرسیاں لگی ہوئی تھیں اور جن کے اوپر لیمپ پڑے ہوئے تھے، رقص شروع کر دیتے ہیں۔ دراصل میز اور ان کے ساتھ لگی کرسیاں رقص کرتے ہوئے لوگوں کا کاسٹیوم تھے اور رقص کے دوران سر پر لگے لیمپ بھی ہلنے لگ جاتے ہیں۔

پردہ اٹھتا ہے اور سنو وائٹ اور روب لو چائینیز تھیٹر میں بنائے گئے باکس آفس کے سامنے کھڑے دکھائی دیتے ہیں اور سنو وائٹ اب بھی گا رہی ہوتی ہیں۔

سنو وائٹ کے ہاتھ کو چومنے سے پہلے روب لو ناپسندیدگی سے انھیں دیکھتے ہیں۔ وہ دونوں مل کر پردہ واپس گراتے ہیں اور پیچھے سے لال لباس میں ملبوس افراد نمودار ہوتے ہیں جو آتے ہی سنیما کے حیرت انگیز جادو سے متعلق گانے پر رقص کرنے لگتے ہیں۔

ایک اور پردہ اٹھتا ہے (دِکھنے میں تو شرائین آڈیٹوریم کا سٹیج فاسٹ اینڈ فیوریس فلم کی رن وے سے بھی زیادہ لمبا لگتا ہے) اور اس کے ساتھ ہی سنو وائٹ دوبارہ نموندار ہوتی ہیں۔

اِس بار اُس کی 10 میٹر چوڑی سکرٹ پر مور کے سنہری پر لگے ہوئے ہیں اور اُس نے سر پر بہت بڑے سائیز کے باکس آفس کا سٹینڈ لگا رکھا ہے۔ جی ہاں، سر پر۔

سٹیج کے درمیان میں سیڑھیاں لائی جاتی ہیں جو سنو وائٹ کو لوگوں کی نظروں سے چھپا دیتی ہیں اور اس طرح حاضرین مزید آزمائش سے بچ جاتے ہیں۔ لِلی ٹوملن باکس آفس سٹینڈ سے باہر آتی ہیں اور سیڑھیوں سے اترتی ہیں۔

سیڑھیوں سے نیچے اترتے ہوئے ان کا جوتا اتر جاتا ہے مگر وہ چلتی رہتی ہیں اور کہتی ہیں ’میں نے اُن (منتطمین) سے کہا تھا کہ میں آسکرز (میں پرفارم) کرنے کے لیے پُر جوش ہوں گی اگر وہ صرف ایک داخلی راستہ ہی بنا دیں۔‘

اس فقرے پر ہنسنے کی تھوڑی بہت آوازیں آتی ہیں۔ پیچھے روب لو گرتے پڑتے لِلی کا جوتا پھینکنے کی کوشش کرتے ہیں مگر جوتا سٹیج سے نیچے گر جاتا ہے۔ روب لو سٹیج سے بھاگ جاتے ہیں۔ لِلی کہتی ہیں ’ڈیڑھ ارب لوگوں نے یہ (منظر) دیکھا ہے اور اس وقت وہ اسے سمجھنے کی کوشش کر رہے ہوں گے کہ ہوا کیا ہے۔‘

لِلی مزید کہتی ہیں ’شو (جوتے) میں خوش آمدید‘ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نہ صرف جوتے والا ڈرامہ پہلے سے کی گئی منصوبہ بندی میں شامل کیا گیا تھا بلکہ اسے کمزور سے چٹکلے پر مرکوز رکھا گیا تھا۔ بالآخر فلمی تاریخ کے 11 منٹ پر مشتمل سب سے لمبا دورانیہ اختتام کو پہنچا۔

ایک فلاپ رقص بعد میں بھی پیش کیا گیا جس میں بوب ہوپ اور لوسیل بال ایک دس منٹ لمبے گانے پر پرفارم کرتے ہیں۔ اس میں حصہ لینے والے جوان اداکار مائیکل جیکسن کی آواز کی نقل اتارتے ہیں اور ان اداکاروں کے پاجامے اتنے بڑے ہیں کہ ان کے گلے تک آ رہے ہیں۔

یہ رقص نہ صرف بھیانک تھا بلکہ اس کا دورانیہ بھی کافی زیادہ تھا۔ لیکن لوگوں نے تقریب کے بارے میں اپنا ذہن بنا لیا تھا اس لیے اس رقص کے ہونے نہ ہونے سے فرق نہیں پڑا۔
نیو یارک ٹائمز کی جنینٹ مسلن لکھتی ہیں ’61 ویں اکیڈمی ایوارڈ کی تقریب کے آغاز سے ہی ایسا تاثر ملا جیسے 62 ویں تقریب ہونی ہی نہیں ہے۔‘
عام طور پر آسکرز کے بعد کی صبح عمومی طور پر پروڈیوسر کے فون پر مبارکبادوں کا سلسلہ بندھا رہتا ہے لیکن ایلن کار کے گھر پر خاموشی تھی۔
لیکن ایلن کار کو دو انتہائی اہم چیزوں کے بارے میں پیغامات ضرور موصول ہوئے۔
پہلا والٹ ڈزنی کمپنی کی طرف سے بغیر اجازت کہ ان کے کردار سنو وائٹ کو استعمال کرنے کے خلاف کیس دائر کیا گیا تھا۔
اس کے علاوہ سابق اکیڈمی صدر گریگری پیک، پال نیو مین، جولی اینڈریوز اور بِل وِلڈرز سمیت 17 ہالی ووڈ کے ستاروں کی طرف سے شرائن میں ہونے والی تقریب میں ’اکیڈمی اور پوری موشن پکچر انڈسٹری کو بدنام کرنے‘ کی ایک خط میں مزمت کی گئی تھی۔

خط کے متن میں مزید کہا گیا کہ ’موشن پکچرز کے بہترین کام کو اتنے ذلت آمیز انداز میں سراہنا قابلِ قبول ہے نہ ہی مناسب۔‘
اس سب کے باوجود ایک اندازے کے مطابق امریکہ میں چار کروڑ 27 لاکھ لوگوں نے یہ تقریب دیکھی۔ (2018 میں تقریباً تین کروڑ لوگوں نے آسکرز دیکھے)۔