جمال خاشقجی قتل: ٹرمپ انتظامیہ کا یہ بتانے سے انکار کے قاتل کون ہے؟

 

 

ٹرمپ انتظامیہ نے امریکی کانگریس کی اس درخواست کو مسترد کر دیا ہے جس میں دریافت کیا گیا تھا کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کو کس نے قتل کیا۔
سینٹرز نے اکتوبر میں وائٹ ہاؤس کو اس معاملے کے تحقیقات کرنے اور اس بارے میں مزید معلومات فراہم کرنے کی درخواست کے تھی۔
ٹرمپ انتظامیہ کے ایک اہلکار کے مطابق امریکی صدر اس معاملے پر درخواست رد کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
جمال خاشقجی کو گزشتہ برس اکتوبر میں استنبول میں سعودی سفارتخانے میں داخل ہونے کے بعد قتل کر دیا گیا تھا۔
جمال خاشقجی سعودی حکومت کے شدید مخالف تھے اور اپنی زندگی میں انہیں تنقید کا نشانہ بناتے رہے۔ مبینہ طور پر جمال خاشقجی کی لاش کے ٹکڑے کر دیے گئے تھے جن کو ابھی تک برآمد نہیں کیا جا سکا۔

 

 

امریکی انٹیلیجنس حکام نے مبینہ طور پر کہا ہے کہ اس طرح کے آپریشن کے لیے ولی عہد محمد بن سلمان کی منظوری کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن سعودی حکام کے مطابق جمال خاشقجی کا قتل ’روگ` سعودی ایجنٹس نے کیا جو ولی عہد محمد بن سلمان کے احکامات پر عمل نہیں کرتے۔

ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے جاری ایک بیان کے مطابق صدر ٹرمپ کانگریس کی جانب سے اس قسم کی درخواست کو مسترد کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
تاہم سیکرٹری خارجہ مائیک پومپیو نے سینٹر رہنماؤں کو اس معاملے میں افراد کے خلاف لیے گئے اقدامات کے بارے میں آگاہ کیا ہے۔ لیکن سینٹرز کے مطالبے کے مطابق دستاویزات میں جمال خاشقجی کے قتل کے اصل زمہ داروں کی نشاندہی نہی کی گئی۔

امریکہ نے جمال خاشقجی کے قتل کی منصوبہ بندی اور اسکی عمل درآمد میں ملوث شاہ سلمان کے سابق مشیر سعود القہانی سمیت 17 سعودی اہلکاروں کو سزائیں بھی سنائی ہیں۔
تاہم امریکی سینٹرز کی جانب سے امریکی صدر پر جمال خاشقجی کے قتل کے لیے براہ راست ولی عہد شاہ سلمان کی مذمت نہ کرنے پر شدید تنقید کی جاتی رہی ہے۔