نقطے کی تاریخ کیا ہے؟

نقطے کا کیا مقصد ہے؟
ہم اسے پہنتے ہیں، سنتے ہیں، پڑھتے ہیں اور گھورتے ہیں۔ یہاں تک کے ہم اسے ہواؤں کے دوش پر اور لہروں کی طے میں بھیجتے ہیں۔
آپ نے شاید غور نہ کیا ہو لیکن اس چھوٹے سے نشان کے بہت سے پہلو ہیں۔
یہاں اس چھوٹے لیکن ناگزیر نشان کے چند دلچسپ حقائق پیش کیے جا رہے ہیں۔

نقطہ متعارف کروانے سے قبل الفاظ بغیر کسے وقفے کے لکھے جاتے تھے۔ کچھ اس طرح سے: ( wordsusedtorunintoeachother)
پھر تقریباً 200 قبل مسیح میں لائبریری آف ایلگزینڈریا کے پانچویں لائبریرئن نے جن کا نام ایرسٹوفینز تھا مہربانی کی اور تھکے اور پریشان قاریئن کے لیے ایک راستہ نکالا، کہ کب سانس لینی ہے۔ وہ راستہ تھا تحریر میں نقطے ڈالنے کا۔

نہ صرف یہ بلکہ انھوں نے قاریئن کو الفاظ کے درمیان مثالی وقفے کے بارے میں بھی بتایا اور اس کے لیے انھوں نے کچھ لکیریں لگائی تاکہ نقطہ دکھائی دے سکے۔
کسی تحریر میں لمبے وقفے کے لیے جسے کالن کہا جاتا ہے، ایک نقطہ تحریر کے نیچلے حصے پر ڈال دیا گیا۔
چھوٹے وقفے کے لیے کوما کا استعمال کیا گیا اور تحریر کے بالکل برابر (·) اس طرح سے نقطہ ڈال دیا گیا۔
اور اگر آپ سوچ رہے ہیں کہ یہ تو جدید رموز اوقاف کا نشان کوما ہے، تو آپ بالکل صحیح ہیں۔
ویسے تو اس کا استعمال بہت کم ہی ہوتا تھا لیکن ای میلز اور ویب سائٹس کے آنے کے بعد سب کچھ بدل گیا۔
ایک اندازے کے مطابق 2018 کے اختتام تک دنیا بھر میں

بلین ای میل اکاؤنٹس سے ہر روز کوئی 205 بلین ای میلز بھیجی اور موصول کی جا چکی ہیں۔

جس کا مطلب ہے بہت سے ڈاٹ کام۔
سنہ 1850 کی دہائی میں پولکا پیٹرن بالکل ویسے ہی فیشن بن گیا جیسے اس وقت ڈانس کے لوگ دیوانے تھے۔
ڈاٹی پیٹرن کے معروف مداحوں میں مارلن منرو بھی شامل ہیں جن کی سنہ 1951 میں پولکا ڈاٹ بکنی پہنے ایک تصویر بہت مشہور ہوئی۔
باب ڈیلن نے اپنے گانے ’جسٹ لائک ٹام تھمبز بلیو‘ کی ویڈیو میں ہری پولکا ڈاٹ شرٹ پہنی تھی۔
ٹوور ڈی فرانس میں ’کنگ آف دی ماؤنٹینز‘ کا خطاب پانے والے سائکلسٹ کو پولکا ڈاٹ جرسی دی جاتی ہے، جو سفید رنگ کی ہوتی ہے اور اس پر سرخ ڈاٹ ہوتے ہیں۔
یہ ٹائٹل سائکلنگ روڈ ریس میں بہترین کھلاڑی کو دیا جاتا ہے، جسے باقاعدہ طور پر ماؤنٹینز کلاسیفیکیشن کہا جاتا ہے۔
سپین میں ایک غار کی دیوار پر ماہرین آثارِ قدیمہ نے سرخ نقطے دریافت کیے، جو کم از کم 40 ہزار سال پرانے ہیں۔ اس طرح یہ یورپ میں سب سے قدیم کیوو آرٹ ہیں۔
ان نقطوں نے نیندرتھل قوم کی صلاحیتوں، سوچ اور مہارت کے بارے میں ہماری پہلے سے قائم رائے کو چیلنج کرنے پر ہمیں مجبور کیا ہے۔
ماقبل تاریخ کے عہد کے دیگر لوگ پتھروں پر تصاویر بنا کر، اکثر نقطوں سے اپنے بارے میں بیان کرنے کو ترجیح دیتے تھے جسے نقش حجر کہا جاتا ہے، یعنی پتھروں پر نقاشی۔
یہ پوری دنیا میں پائے جاتے ہیں، ہوائی کے ساحلوں سے چلی کے صحراؤں تک، اور نمیبیا کے دور دراز دیہاتوں سے منجمد سربیا تک۔
مارس کوڈ سگنل کا ابتدائی استعمال بحری جہاز ٹائٹینک سے بھی کیا گیا تھا۔ جب اس ڈوبنے والے بحری جہاز کا انجن روم پانی سے بھر گیا تو وہاں سے ایک ایسا ہی پیغام بھیجا گیا تھا۔
تاہم اس ڈوبنے والے بحری جہاز میں موجود سگنل آپریٹرز کا ابتدائی طور پر پیغام نظر انداز ہو گیا تھا، جو ڈاٹ اور ڈیشز میں تھا۔ یہ پیغام ایک دوسری کشتی سے بھیجا گیا تھا اور اس پیغام میں برف کے حوالے سے خبردار کیا گیا تھا۔

اگر یہ تھوڑی سی توجہ دیتے اور اس پیغام کو آگے کپتان کو بھیج دیتے تو شاید وہ برفیلی چٹان سے بچ جاتے۔

آسٹریلوی آدی باسیوں کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ دنیا کی سب سے قدیم جاری رہنے والی تہذیب ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ وہ جدت سے خوفزدہ نہیں تھے۔
تاریخی اعتبار سے وہ رسمی طور پر سینڈ پینٹگز اور اپنے جسموں پر ڈاٹز (نقطوں) کا استعمال کرتے تھے، اور وہ 1970 کی دہائی تک ان نقطوں کو کینوس پر نہیں لا پائے تھے۔ بعد میں انھیں 1970 کی دہائی کے آغاز میں سفید فام آرٹ سکول کے ٹیچر جن کا نام جیفری بارڈن تھا نے حوصلہ دیا۔

یہ پینٹنگز اس طرح سے سامنے آئیں کہ انھیں 20ویں صدی کی لاسٹ گریٹ آرٹسٹک موومنٹ کہا گیا۔
ورلڈ ریکارڈ ’کنیکٹ دی ڈاٹس‘ پزل کو میلبرن کے آرٹسٹ اور ڈیزائنر تھاٹس پیووٹ نے بنایا تھا۔
اس میں مونا لیسا کو پیش کیا گیا تھا اور اسے 6239 نقطوں یعنی ڈاٹس سے بنایا گیا تھا۔
پیووٹ نے سخت محنت سے اپنی زندگی کے

گھنٹوں میں اس پزل کو مکمل کیا۔

سنہ 1886 میں فرانسیسی فنکار جارج سیرت اور پال سگنیک نے ایک تکنیک بنائی جسے ’پوائنٹلزم‘ کے نام سے جانا جانے لگا۔
اس تکنیک کے ذریعے چھوٹے اور مختلف رنگوں کے ڈاٹس کو اس طرح سے جوڑا جاتا کہ اس سے کوئی تصویر بن جائے۔
قریب سے آپ کو صرف چھوٹے نقطے ہی دکھائی دیتے ہیں لیکن جب آپ تھوڑا پیچھے ہٹتے ہیں تو بے ساختہ منھ سے نکلتا ہے۔۔۔۔ یہ ہوئی نہ بات!
سیرت کی ’دی برڈج ایٹ کووبووا‘ اس تکنیک کی سے سب اہم مثال سمجھی جاتی ہے۔
اس آرٹسٹ کا مشہور جملہ ہے ’بعض کہتے ہیں کہ انھیں میری پینٹنگز میں شاعری دکھائی دیتی ہے، میں ان میں صرف سائنس دیکھتا ہوں۔‘
بریل ایک قوت لامسہ سے متعلق لکھنے کا نظام ہے جو نابینا افراد استعمال کرتے ہیں۔ اس میں ابھرے ہوئے نقطوں کا امتزاج ہے جس کی مدد سے رموز اوقاف

حروف کو پڑھا جا سکتا ہے۔

اس کے بنانے والے لوئس بریل جو بچپن میں ایک حادثے میں اپنی قوت بینائی سے محروم ہو گئے تھے، لیکن وہ اپنے پڑھنے لکھنے کے شوق سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں تھے۔
پندرہ سال کی عمر میں بریل نے فرانسیسی حروف کے لیے ایک کوڈ بنایا، جبکہ انھوں نے میوزک نوٹیشن میں بھی ایک نظام کو شامل کیا، جو اب تک بڑی حد تک تبدیل نہیں کیا جا سکا ہے۔
بریل کے حروف عام طور پر بڑے ہوتے ہیں اور زیادہ جگہ لیتے ہیں اس لیے بریل کی کتابیں دیگر کتابوں کی نسبت زیادہ بڑی ہوتی ہیں۔
اچھی بات یہ ہے کہ بریل نقطوں والا ایک ٹیبلیٹ مارکیٹ میں بس آنے کو ہی ہے۔
یہ تصویر 14 فروری 1990 کو وئیجر 1 خلائی مشن نے زمین سے ریکارڈ دوری سے لی تھی۔
اپنا مشن ختم کرنے کے بعد جب وئیجر1 نظام شمسی کو چھوڑنے ہی والا تھا تو خلائی ادارے ناسا نے اس سے سیارے زمین کی ایک آخری تصویر لینے کو کہا۔
اس تصویر میں زمین خلا میں ایک چھوٹے سے نقطے کی صورت میں دکھائی دے رہی ہے۔