سی ای ایس 2019: کیا سانس سونگھنے والے آلات آپ کی غذا بہتر بنا سکتے ہیں؟

امریکی ریاست لاس ویگس میں منعقدہ سی ای ایس ٹیکنالوجی میلے میں دو ایسے آلات نمائش کے لیے پیش کیے گئے ہیں جو انسانی سانس میں موجود گیسوں کے تجزیے کی روشنی میں یہ بتا سکتے ہیں کہ آپ اپنی غذا کیسے بہتر بنا سکتے ہیں۔

لومن اور فوڈ ماربل نامی آلات باآسانی جیب میں سما سکتے ہیں اور صارف ان میں پھونک مار کر کے نتائج دیکھ سکتے ہیں۔
دونوں آلات ایک سمارٹ فون ایپ سے منسلک ہوتے ہیں جو صارف کو بتاتی ہے کہ ان کی غذا ہضم کرنے اور کیلوریز جلانے کا نظام کتنے موثر انداز میں کام کر رہا ہے۔
تاہم ایک محقق کا کہنا ہے کہ اسں ایجاد کی سائنسی ماہرین سے باقاعدہ توثیق ابھی باقی ہے۔
لومن آلہ بنانے والی کمپنی عوامی چندہ جمع کرنے والی ویب سائٹ ’انڈی گوگو‘ کے ذریعے ابھی تک لگ بھگ 20 لاکھ امریکی ڈالر اکٹھے کر چکی ہے۔ یہ آلہ انہیلر سے مشابہہ ہو گا جو صارف کی سانس میں موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار جانچنے کا کام کرے گا۔اس آلے کی موجد کمپنی کا کہنا ہے کہ ان کی ایجاد غذا کے جزوِ بدن بننے کے عمل یعنی میٹابولزم کی نگرانی کرے گی۔
آلے کے خالق ڈرور سیڈر کہتے ہیں کہ اب آپ کو اس بات کا اندازہ لگانے کے ضرورت نہیں کہ آپ نے جو چائنیز کنگ پاؤ چکن کھایا ہے اس میں شوگر کی مقدار کتنی تھی یا ورزش کے دوران آپ نے کتنی کیلوریز خرچ کی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ایپ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ کیا صارف کے جسم میں موجود چربی پگھل رہی ہے یا نہیں۔ علاوہ ازیں یہ اس بات کا تعین کرتی ہے کہ کون سی غذائیں اس عمل کے لیے بہتر ہیں۔ بعد ازاں نتائج اخذ کرتے ہوئ آلہ صارف کے لیے سب سے بہتر غذا تجویز کرتا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ امریکہ میں’سینکڑوں‘ صارف اس آلے کی آزمائش کر چکے ہیں تاہم اس حوالے سے ہونے والی تحقیق کی ابھی اس شعبے کے ماہرین سے تصدیق ہونا باقی ہے۔
آئندہ گرمیوں میں یہ آلہ بازار میں 299 امریکی ڈالر کے عوض فروخت کے لیے پیش کیا جائے گا تاہم جو صارف پہلے ہی اس کا آرڈر دے چکے ہیں انھیں یہ 250 امریکی ڈالر میں ملے گا اور پہلے برس کے دوران اس ایپ کی رکنیت بلامعاوضہ ہو گی تاہم مستقبل میں رکنیت فیس بھی ہو سکتی ہے۔

اس کے برعکس دسمبر میں سامنے آنے والا فوڈ ماربل نامی آلہ کسی نظامِ انہضام میں ہائیڈروجن کی مقدار کی پیمائش کرتا ہے اور اس کو بنانے والی کمپنی کا دعویٰ ہے کہ تقریباً دس لاکھ کے قریب پہلے سے آرڈر کیے گئے آلے صارفین کو بھیجے جا چکے ہیں۔

فوڈ ماربل کی موجد لیسا ریٹلج نے بی بی سی کو بتایا کہ سانس میں ہائیڈروجن کی موجودگی نظامِ انہضام میں ممکنہ خرابی کی علامت ہو سکتی ہے ’اور ایسا اس وقت ہوتا ہے جب آپ کی انتوں میں تبخیر کا عمل ہوتا ہے اور اس دوران ہائیڈروجن پیدا ہوتی ہے جو سانس کے ذریعے خارج ہوتی رہتی ہے۔‘

اس ایجاد کا مقصد ان افراد کی مدد کرنا ہے جو پیٹ کے درد یا اس کے بھاری پن، گیس کی بیماری، یا معدے کی خرابی کی علامات میں مبتلا ہوتے ہیں۔ ان کو ایسی غذائیں کے بارے میں معلومات دی جاتی ہے جو ہائیڈروجن بناتی ہیں اور اس کے نتیجے میں صارف اپنے لیے بہتر غذائی پلان بنا سکتے ہیں۔

اگرچہ بعض اوقات اس طرح کے ٹیسٹ معالج بھی استعمال کرتے ہیں تاہم کچھ لوگ اس کے مکمل درست ہونے یا نہ ہونے کہ حوالے سے سوال کرتے رہے ہیں۔
کنگز کالج لندن میں غذائی امور کی پروفیسر کیون وہیلن کہتی ہیں کہ ’اس بارے میں بہت کم سائنسی تحقیق ہوئی ہے کہ آیا ایسے توثیق شدہ ٹیسٹ جو کہ ہسپتال میں کیے گئے ہوں آپ کی رہنمائی کر سکیں کہ آپ کون سی غذاؤں کے بارے میں حساس ہیں‘ اور ایسا اس وجہ سے ہے کہ مختلف عناصر بشمول غذا کے ہضم ہونے کا وقت جو کہ ہر بار ایک سا نہیں ہوتا، سانس کے ٹیسٹ پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’دستی مشینیں جو کہ صارف خود سانس میں گیس کی موجودگی کا ٹیسٹ کرنے اور یہ جاننے کے لیے کہ وہ کون سی غذاؤں کے حوالے سے حساس ہیں کبھی سائنسی تحقیق کے لیے استعمال نہیں ہوئیں۔‘