پاکستان بمقابلہ نیوزی لینڈ: چوتھا دن ولیمسن کے نام، کیویز کی برتری 198 رنز

 

 

نیوزی لینڈ کے کپتان کین ولیمسن اور ان کے ساتھی ہینری نکولز کے درمیان اب تک 212 رنز کی ناقابل شکست شراکت کے ساتھ کیویز نے میچ پر اپنی گرفت مضبوط کر لی ہے اور اب انھیں پاکستان پر 198 رنز کی سبقت حاصل ہو گئی ہے۔

ایک موقعے پر کیویز کی چار وکٹیں 60 رنز پر گر گئی تھیں لیکن چوتھے دن کے اختتام تک نیوزی لینڈ نے چار وکٹوں پر 272 رنز بنا لیے ہیں اور اب دباؤ پاکستان پر آگیا ہے۔
ولیمسن نے ٹیسٹ میچوں میں اپنی 19ویں سنچری مکمل کر لی ہے اور دوسری جانب نکولز بھی 90 کے سکور پر موجود ہیں۔
پاکستان نے ان دونوں کو آؤٹ کرنے کے متعدد مواقعے ضائع کیے جب پہلے نکولز کے ایک ایل بی ڈبلیو پر پاکستان نے ریویو نہیں لیا جبکہ دوسری جانب یاسر شاہ نے دو مواقعوں پر ولیمسن کے کیچ گرا دیے جب ایک بار وہ 80 پر اور ایک بار وہ 106 رنز پر کھیل رہے تھے۔

چائے کے وقفے تک نیوزی لینڈ کا سکور 199 رنز تھا اور او موقع پر ایسا لگ رہا تھا کہ آخری سیشن میں کیوی بلے باز تیز کھیل پیش کریں گے لیکن وہ 35 اوورز میں 73 رنز ہی بنا سکے۔

آج صبح جب کھیل کا آغاز ہوا تو میچ کے چوتھے روز نیوزی لینڈ نے اپنی دوسری اننگز کا 26 رنز دو کھلاڑی آؤٹ سے دوبارہ آغاز کیا۔
دن کے چھٹے اوور میں نائٹ واچ مین سومرول چار رنز بنا کر یاسر شاہ کی 200ویں ٹیسٹ وکٹ بن گئے جب لیگ سپنر نے ان کو ایل بی ڈبلیو کر دیا۔ اس وکٹ کے ساتھ یاسر دنیائے کرکٹ کی تاریخ میں ٹیسٹ کرکٹ میں 200 وکٹ لینے والے تیز ترین بولر بن گئے۔

ان کے بعد آنے والے راس ٹیلر نے جارحانہ انداز اختیار کیا لیکن وہ 14 گیندوں پر 22 رنز بنا کر شاہین شاہ آفریدی کی دوسری وکٹ بن گئے۔
اس وقت کیویز کے 60 رنز تھے اور لگ رہا تھا کہ شاید پاکستان میچ پر آہستہ آہستہ اپنی گرفت مضبوط تر کر لے گا لیکن اس کے بعد کپتان ولیمسن اور نکولز نے انتہائی عمدہ بیٹنگ کی اور پاکستان کے تمام تر حربوں کو ناکام بنا دیا۔

اس سے قبل تیسرے روز کے اختتام تک پاکستان نے اپنی پہلی اننگز میں نیوزی لینڈ پر 74 رنز کی سبقت حاصل کر لی تھی۔
دوسری اننگز میں پاکستان کو پہلی کامیابی اننگز کے چوتھے اوور میں ملی جب شاہین شاہ آفریدی نے جیت راول کو ایل بی ڈبلیو کر لیا۔ جلد ہی یاسر شاہ نے ٹام لیتھم کی وکٹ حاصل کر لی جن کا حارث سہیل نے زبردست کیچ لیا۔ انھوں نے 10 رنز بنائے تھے۔

اس سے قبل پاکستان کی پوری ٹیم 348 رنز پر آؤٹ ہوئی جس میں خاص بات اظہر علی اور اسد شفیق کی ڈبل سنچری کی شراکت تھی۔ ان دونوں نے اپنی اپنی انفرادی سنچری بھی مکمل کی لیکن دوسری جانب کیوی سپنر نے زبردست کارکردگی دکھاتے ہوئے کم بیک کیا اور پاکستان کی آخری سات وکٹیں صرف 62 رنز کے عوض حاصل کر لیں۔

ٹیسٹ سیریز سے قبل دونوں ٹیموں کے درمیان تین ٹی 20 اور تین ہی ایک روزہ میچوں کی سیریز بھی کھیلی گئی تھی جس میں پاکستان نے نیوزی لینڈ کو ٹی 20 میچوں کی سیریز میں تین صفر سے شکست دی جبکہ ون ڈے سیریز ایک، ایک میچ سے برابر رہی تھی۔

خیال رہے کہ تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز 1-1 سے برابر ہے۔
ابوظہبی میں ہی کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میچ میں نیوزی لینڈ نے پاکستان کو چار رنز سے شکست دی تھی جبکہ دبئی میں کھیلے گئے دوسرے ٹیسٹ میچ میں پاکستان نے ایک اننگز اور 16 رنز سے زیر کر کے سیریز برابر کر دی تھی۔

پاکستان لیگ سپنر یاسر شاہ نے نیوزی لینڈ کی دوسری اننگز کے دوران ٹیسٹ کرکٹ میں 82 سال سے قائم ریکارڈ توڑ دیا جب انھوں نے نائٹ واچ مین ولیم سومرویل کی وکٹ حاصل کر لی۔
اس وکٹ کے ساتھ یاسر شاہ نے اپنے 33ویں ٹیسٹ میچ میں 200 شکار حاصل کر لیے۔ یاسر سے پہلے یہ ریکارڈ آسٹریلیا کے سپنر کلیری گریمٹ کے پاس تھا جنھوں نے 36 میچوں میں 200 وکٹیں حاصل کی تھیں۔

یاسر شاہ کے اعزاز پر ٹوئٹر پر بھی صارفین کا تبصرہ چلتا رہا اور وہ انھیں مبارکباد کی پیغامات دیتے رہے۔
کرکٹ کے اعداد و شمار جمع کرنے والے مظہر ارشد نے یاسر کے ریکارڈ پر تبصرہ کیا کہ تین ٹیسٹ کے فرق سے ریکارڈ بنانا ایسا ہی ہے جیسے یوسین بولٹ 200 میٹر کی ریس کا عالمی ریکارڈ دو سیکنڈ کے واضح فرق سے توڑ دیں۔

یاسر شاہ نے اس سے پہلے نو ٹیسٹ میچوں میں 50 وکٹیں اور 17 میچوں میں 100 وکٹیں بھی حاصل کی۔