پاور بیٹ: مائیکروسافٹ اور انیل کمبلے کا کرکٹ کے بلے بازوں کے لیے ایک انمول تحفہ

 

 

کیا آپ نیٹ پریکٹس کرتے ہوئے کسی بلے باز کو دیکھ کر یہ بتا سکتے ہیں کہ اس بلے باز نے کتنی گیندوں کو مڈل کیا؟ کتنی مرتبہ شاٹ لگاتے ہوئے اس کے ہاتھوں میں بلا گھوما؟ یا پھر اس کے بلے کی سپیڈ کیا رہی؟

یہ سب چیزیں انسانی آنکھ سے معلوم کرنا ایک عام شخص کے لیے تو مشکل ہے ہی لیکن اکثر اوقات کوچز کو بھی یہ سب جاننے میں دشواری ہوتی ہے۔
یہی سب چیزیں جاننے کے لیے انڈین کرکٹ ٹیم کے سابق بولر، کپتان اور کوچ انیل کمبلے ایک نیا آئیڈیا لے کر میدان میں اترے ہیں۔

 

 

 

انیل کمبلے کی کمپنی، سپیکٹیکوم نے مائیکروسافٹ کے ساتھ مل کر ‘پاور بیٹ‘ ڈیزائن کرنے کا معاہدہ کیا ہے، اور اس بلے کا استعمال کرتے ہوئے اس کی ہر حرکت کو ٹریک کیا جا سکتا ہے۔
اس پاور بیٹ کی مدد سے گیند کتنی سختی سے، کس سمت میں بلے کے ساتھ ٹکرائی اور بلا کتنا مُڑا ہوا تھا؟جیسی چیزیں ریکارڈ کی جا سکیں گی۔
سابق انڈین کوچ انیل کمبلے کہتے ہیں: ’آپ نے مبصرین اور ماہرین کو یہ کہتے سنا ہو گا کہ بیٹسمین کتنا طاقتور ہے یا گیند کو کتنا اچھا ٹائم کرتا ہے، لیکن ہم اس بارے میں بہت کم معلومات رکھتے ہیں۔ لہذا میں نے سوچا کہ اگر ہم بلے پر ایک عدد سینسر لگا دیں، جو ہمیں یہ سب بتا دے جیسے ہم بلے کے دل کی دھڑکن سن رہے ہوں تو یہ بہت اچھا ہوگا۔‘

بیٹ کے پیچھے لگی اس چپ میں جائیرو سینسرز لگے ہوئے ہیں۔ یہ چپ بلیوٹوتھ کی مدد سے معلومات کو فون پر بھیجتی ہے جہاں ایک ایپلیکیشن بلے باز کی شاٹ کی قوت کا تعین کرتی ہے۔
انیل کمبلے کا کہنا ہے کہ ’کوچ اگر آپ کو گیند مڈل کرنے کے لیے کہتا ہے تو آپ کیسے معلوم کر سکتے ہیں کہ آپ کیسا کھیل رہے ہیں؟ یہ ٹیکنالوجی آپ کو یہ جاننے میں مدد دے سکتی ہے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’اگر کوچ وہاں موجود نہیں ہے تو پھر بھی آپ اسے خود کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔ آپ ان کرکٹرز کی بھی مزید معلومات حاصل کرسکتے ہیں جو آپ کے ہیرو ہیں کہ وہ کیسی بیٹنگ کر رہے ہیں۔‘

خیال رکھیے گا کہ آپ یہ سب نیٹ پریکٹس کے دوران تو کر سکتے ہیں لیکن کسی میچ کے دوران آپ موبائل فون کو پِچ پر لے کر نہیں جا سکتے۔
مگر گھبرائیں نہیں میچ میں بڑے پیمانے پر اس ٹیکنالوجی کا استعمال کرنے کا حل بھی موجود ہے۔
اس کام کے لیے ایک آلہ بنایا گیا ہے، جس میں ایک انٹینا، باکس اور کیبل کی مدد سے بلے باز کے بارے میں میچ کے دوران معلومات جمع کی جا سکیں گی۔
اس اینٹینا کی نوک زمین پر رہتی ہے اور باکس اور کیبل زیرِ زمین پوشیدہ رہتے ہیں۔ بلے کے پیچھے لگی اس چپ سے جمع کیے گئے اعداد و شمار اس انٹینا اور کیبل کے ذریعہ کلاؤڈ پر بھیجے جاتے ہیں، جہاں ایک الگورتھم اس ڈیٹا پر کام کرتا ہے۔

ٹیکنالوجی کمپنی مائیکروسافٹ اس سے قبل فٹ بال اور فارمولا ون جیسے کھیلوں میں ریئل ٹائم اعداد و شمار کو اکھٹا کرنے اور اس کا تجزیہ کرنے کے لیے آرٹیفیشل انٹیلی جنس یعنی مصنوعی ذہانت کا استعمال کر چکی ہے۔ اس کا دعویٰ ہے کہ پہلی بار اس ٹیکنالوجی کو کرکٹ میں استعمال کیا جا رہا ہے۔

مائیکروسافٹ کی بزنس ڈیویلپمنٹ ایگزیکٹیو نائب صدر پیگی جانسن کہتی ہیں کہ ’ہم نے سوچا کہ ہم کرکٹ جیسے روایتی کھیل کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال کرسکتے ہیں اور یوزر اینگیجمنٹ اور کھیل میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کے بارے میں کھلاڑی اور کوچ کو بہتر معلومات فراہم کر سکتے ہیں۔‘

کیا گیند نے بلے کو چھوا؟ ٹیکنالوجی اسے پکڑنے میں مدد کرسکتی ہے۔ کمپنی محسوس کرتی ہے کہ یہ امپائرز کے لیے بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
فی الحال یہ ٹیکنالوجی انڈیا میں کچھ مقامی پریمیئر لیگز میں استعمال کی جائے گی اور اسے بین الاقوامی سطح پر متعارف کرانے میں کچھ وقت لگے گا۔