مصنوعی جِلد اب ہر پاکستانی کی پہنچ میں

 

 

مارگریٹ حرا کی شادی کو دو سال سے کچھ زیادہ کا عرصہ ہوا تھا جب ان کے شوہر نے انھیں آگ لگا دی۔ اُن دونوں میں جہیز پر جھگڑا چل رہا تھا اور ان کے شوہر انھیں گھر والوں سے مزید اشیا منگوانے کا تقاضا کر رہے تھے۔

مارگریٹ کا جسم 50 فیصد سے زیادہ جل چکا تھا، جس میں ان کے چہرے کا آدھا حصہ بھی شامل تھا۔ ہسپتال پہنچنے پر مارگریٹ خوش قمست رہیں اور ان کی جان بچ گئی، تاہم جھلسنے کے بعد ان کی زندگی ہمیشہ کے لیے بدل چکی تھی۔

مارگریٹ کے مطابق: ’جب مجھے ہوش آیا تو میں ہسپتال میں تھی۔ کچھ روز بعد جب گھر آئی تو کئی دن تک مجھے آئینہ دیکھنے کی ہمت نہیں پڑی۔‘
ان کی زندگی کے اگلے تین سال انتہائی دشوار تھے۔ ان کے شوہر اپنے جرم کی پاداش میں جیل میں تھے۔ ایک بیٹا تھا جو اب چھ برس کا ہو چکا ہے۔
مگر مارگریٹ حرا نے صحت یاب ہو کر ہمت نہ ہاری اور اب وہ گزشتہ دو برس سے ’ڈیپیلیکس سمائل اگین‘ پراجیکٹ سے میک اپ کی تربیت حاصل کرنے کے بعد وہیں ملازمت کر رہی ہیں اور اپنے بیٹے کی کفالت وہ خود کر رہی ہیں۔

 

 

 

پاکستان میں سینکڑوں خواتین ہر سال اسی قسم کے جرائم کا نشانہ بنتی ہیں۔ مارگریٹ کو زندگی دوبارہ سے شروع کرنے کا موقع مل گیا لیکن بیشتر خواتین کو یہ موقع ہی نہیں ملتا۔
ڈاکٹروں کے مطابق پاکستان میں ایسے افراد میں اموات کی شرح نسبتاً زیادہ ہے جن کا جسم پچاس فیصد سے زیادہ جل جاتا ہے۔ اس کی ایک وجہ بنیادی سہولیات کی کمی ہے۔ ان سہولیات میں سب سے اہم انسانی جلد کا نعمل بدل یا مصنوعی جلد ہے۔

لاہور میں یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز (یو ایچ ایس) کے وائس چانسلر پروفیسر جاوید اکرم کے مطابق جھلس جانے والے زیادہ تر افراد میں اموات انفیکشن اور جسم سے پانی اور نمکیات کے تیزی سے اخراج وغیرہ کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ قدرتی جلد کے جل جانے کے بعد اس کے نیچے کے اعضا جراثیم کے لیے افشا ہو جاتے ہیں۔

’انفیکشن کو روکنے کے لیے انسانی جلد کے اس بیالوجیکل نعم البدل کی پیوندکاری ایسے مریض کی زندگی بچانے کے لیے انتہائی موزوں ذریعہ ہے۔ اس طریقے سے انفیکشن اور اہم سیال کے ضائع ہونے سے بچایا جا سکتا ہے۔‘

تاہم پاکستان میں اب تک ’اے سیلولر ڈرمل میٹرکس‘ یا انسانی جلد کا بائیولوجیکل نعم البدل تیار نہیں کیا جا رہا تھا اور اسے درآمد کرنا پڑتا تھا۔ درآمد شدہ جلد کا نعم البدل انتہائی مہنگا ہونے کی وجہ سے زیادہ تر لوگوں کی پہنچ سے باہر تھا۔

ڈاکٹر جاوید اکرم کہتے ہیں کہ تقریباً ایک مربع انچ درآمد شدہ بیالوجیکل مصنوعی جلد کے پیوند کی قیمت لگ بھگ 900 امریکی ڈالر یعنی تقریباً ایک لاکھ پاکستانی روپے سے زیادہ پڑتی ہے۔
لیکن اب چند پاکستانی ڈاکٹروں نے دعوٰی کیا ہے کہ انہوں نے مقامی سطح پر بیالوجیکل مصنوعی جلد تیار کر لی ہے۔
ڈاکٹر جاوید اکرم کے مطابق مقامی طور پر تیار کی جانے والی جلد کے پیوند کی قیمت ایک ہزار پاکستانی روپے سے کم ہے۔
لاہور کے جناح ہسپتال کے برن سنٹر میں قائم ایک لیبارٹری میں ڈاکٹر رؤف احمد ان دنوں مصنوعی جلد کی تیاری کر رہے ہیں۔ انہوں نے مائیکروبیالوجی میں پی ایچ ڈی کر رکھی ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ جلد کے دو اقسام کے مصنوعی نعم البدل ہو سکتے ہیں۔ ایک بیالوجیکل یا حیاتیاتی اور دوسرا سینتھیٹک یعنی کیمیاوی ترکیب سے بنائی گئی۔
سِنتھیٹیک جلد کا نقصان یہ ہے کہ ایک تو اس کا انسانی خلیوں کے ساتھ جُڑنا مشکل ہوتا ہے، دوسرا اس کی حیت کو زیادہ لمبے عرصے تک قائم رکھنا بھی مشکل ہوتا ہے۔ لگ جانے کے بعد اس کے خراب ہونے کے امکانات بھی ہوتے ہیں۔

جلد کا جو نعم البدل ڈاکٹر رؤف نے تیار کیا ہے وہ بیالوجیکل جلد ہے۔ یہ قدرتی جلد کے قریب ترین ہوتا ہے یعنی ’تقریباً قدرتی جلد جیسا ہی ہوتا ہے۔‘
سفید چغا پہنے ڈاکٹر رؤف لیبارٹری میں چند ٹیسٹ ٹیوبوں پر جھکے ایک محلول میں جلد کے ایک ٹکڑے پر کام کرنے میں مگن ہیں۔ مصنوعی جلد سرجری کے دوران بچ جانے والی اضافی انسانی جلد یا پھر گائے یا بھینس کی جلد سے بھی تیار کی جا سکتی ہے۔

ڈاکٹر رؤف کے مطابق پہلے مرحلے میں مختلف کیمیکلز کی مدد سے جلد کے اوپری حصے سے تہہ ہٹائی جاتی ہے یعنی تکنینی اصطلاح میں اسے ڈی ایپی ڈرملائز کیا جاتا ہے۔ اگلے مرحلے میں اسے ڈی سیلولیرائز کیا جاتا ہے۔

’ان دونوں مراحل کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اس میں موجود ہر قسم کے وائرس وغیرہ کو ہٹا دیا جائے اور اسے مدافعتی (سسٹم کی طرف سے) مسترد ہونے سے بچایا جا سکے۔‘
اگلے مرحلے میں اسے سٹیرلائز کیا جاتا ہے تا کہ اسے جراثیم سے پاک رکھا جائے۔ ان تمام مرحلوں کو مختلف مشینوں کی مدد سے سر انجام دیا جاتا ہے۔
یو ایچ ایس کے وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اکرم کا کہنا ہے کہ انہوں نے جینیاتی امراض پر تحقیق کی غرض سے ملک کی مختلف لیبارٹریوں پر مشتمل ایک شراکت قائم کر رکھی ہے۔ ’اس طرح ہمیں مختلف لیبارٹریوں میں موجود میشنیں استعمال کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔‘

ڈاکٹر رؤف کے مطابق اس کی وجہ دیگر عوامل کے ساتھ ساتھ وہ کیمیکلز یا کیمیائی مادہ ہیں جنہیں استعمال کر کے یہ جلد تیار کی جاتی ہے۔ ان کی لیبارٹری کی مختلف اداروں کے ساتھ شراکت داری ہے جہاں سے وہ کیمیکلز حاصل کرتے ہیں۔

’پاکستان کے لحاظ سے میں نے کوشش کی کہ ایسے کیمیکلز استعمال کیے جائیں جو کام بھی وہی دیں اور مہنگے بھی نہ ہوں۔‘
وہ مصنوعی بیالوجیکل جلد کا ایک پیوند آٹھ دن میں تیار کر پاتے ہیں۔ پاکستان میں ہمارے پاس بلڈ بینکس کی طرح جلد کا بینک نہیں ہے ’ورنہ ہم زیادہ جلدیں تیار کر سکتے ہیں۔‘
چھوٹے پیمانے پر تیار ہونے والی جلد برن سنٹر کی حد تک تو استعمال میں لائی جا سکتی ہے مگر کاروباری بنیاد پر نہیں۔
ڈاکٹر رؤف کا دعوٰی ہے کہ انہوں نے مقامی طور پر تیار کی جانے والی جلد کا موازنہ یورپ اور امریکہ سے درآمد شدہ جلدوں سے کیا ہے اور ’وہ باالکل اسی معیار کی ہے، بلکہ کچھ پہلوؤں پر ان جلدوں سے بہتر بھی ہے۔‘

ڈاکٹر جاوید اکرم نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اسے یو ایس ایف ڈی اے یعنی امریکہ کے ادارے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن سے منظور کروا چکے ہیں۔ ’ہم نے ابتدائی طور پر اسے تقریباً 18 مریضوں پر کامیابی سے استعمال کیا ہے۔‘

اگلے مرحلے میں اسے پہلے جانوروں اور پھر بڑے پیمانے پر انسانوں پر آزمایا جائے گا۔ اس کے بعد یہ کاروباری سطح پر تیار کیے جانے کے لیے دستیاب ہو گی۔
ڈاکٹر جاوید کا ماننا ہے کہ کاروباری سطح پر اس کی تیاری ہی سب سے کٹھن مرحلہ ہو گا۔ اس کی وجہ ان کے مطابق ’امپورٹ مافیا‘ ہے۔ ایک تلخ تجربے سے وہ پہلے گزر چکے ہیں۔
’جو کپمنی سالانہ اربوں روپے کی ادویات درآمد کر رہی ہو وہ کبھی نہیں چاہے گی کہ اس کا وہ کاروبار بند ہو جائے۔‘
ان کی مشکل تب زیادہ بڑھ جاتی ہے کہ پاکستان میں کوئی ایسا طریقہ کار موجود نہیں جس کے ذریعے اِن ایجادات کو کم قیمت پر کاروباری سطح پر تیار کروایا جا سکے۔
ڈاکٹر جاوید کے مطابق یہ وہ نجی کمپنیاں ہیں جو ادویات درآمد کرتی ہیں۔ جب مقامی سطح پر کوئی کم قیمت دوا بننا شروع ہو جائے تو قدرتی طور پر درآمد کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔
اس لیے یہ کپمنیاں کوشش کرتی ہیں کہ ایسی کوئی دوا مقامی سطح پر تیار ہونے ہی نہ دی جائے۔ اس کے لیے مختلف حربے استعمال کیے جاتے ہیں۔
اس امر کو ڈاکٹر جاوید اکرم اپنے گزشتہ تجربے کی مثال سے واضح کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے اشتراک نے اب تک 27 فارماسوٹیکل یا دوا پر مبنی پروٹین تیار کر رکھیں ہیں۔ ان میں انٹر فیرون انجکشن بھی شامل ہے جو ہیپاٹائٹس سی کے مریضوں کو دیا جاتا ہے۔

انہوں نے جو انٹرفیرون مقامی سطح پر تیار کیا تھا اس کی قیمت محض 1200 روپے جبکہ جو درآمد کیا جا رہا تھا اس کی قیمت 12 ہزار روپے پڑتی تھی۔
’ایک کمپنی جو سالانہ 40 ارب روپے کا انٹر فیرون درآمد کر رہی ہو اس کے لیے چند کروڑ روپے میں کوئی اچھا سا وکیل کرنا کوئی مشکل نہیں ہے۔‘
ڈاکٹر جاوید کا کہنا تھا کہ کبھی عدالتوں میں کیس تو کبھی منظوری کے چکروں میں پھنسا کر آخرکار ان کے سستے انٹرفیرون کو ختم کروا دیا گیا۔
’آخر میں ہم سے کہا گیا کہ آپ اس کا فارمولا ہمیں بیچ دیں۔ مگر بات پھر وہیں آ جاتی۔ وہ اپنی مرضی سے اس کی زیادہ قیمت مقرر کرتے۔ یہ ہمارا مقصد نہیں تھا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنا کام کر دیا۔ اب یہ حکومت کا کام تھا کہ وہ اس سستی بیالوجیکل مصنوعی جلد کو کاروباری سطح پر تیار اور دستیاب کروائے۔
اس قدر بڑے پیمانے کا کام حکومتی سطح پر ہی ممکن ہے۔ ’اگر حکومت ایسا نہیں کرتی تو پھر پاکستان میں اسی سائنسی تحقیقات کرنے کا کوئی فائدہ ہی نہیں۔‘
ڈاکٹر جاوید اکرم کہتے ہیں انہیں امید تھی کہ ’نئے پاکستان میں حکومت اس جانب توجہ دے گی۔‘
ان کا اور ان کے ساتھیوں کا مقصد صرف یہ تھا کہ ’پاکستان میں کسی غریب کو جان بچانے کے لیے مصنوعی جلد کے حصول کے لیے بھیک نہ مانگنی پڑے۔‘



Chat Con