سکردو کی دائی شہربانو: اپنے تکلیف دہ تجربے کے بعد میں نے دائی بننے کا فیصلہ کیا‘

پاکستان کے شمالی علاقوں میں چند برس پہلے جب شدید برفباری شہر کو جانے والے راستے بند کر دیتی تھی تو یہاں جنم لیتی نئی زندگیوں کی سانسیں رکتی محسوس ہوتیں۔ یہاں بچے کی پیدائش ماں اور بچے کی زندگی کے مشکل ترین لمحات بن جاتے تھے۔

تاہم اب حالات کچھ بدل رہے ہیں اور اس کی وجہ یہاں باقاعدہ تربیت حاصل کرنے والی وہ دائیاں یا مِڈ وائف ہیں جو گھر گھر جا کر حاملہ خواتین کی مدد کر رہی ہیں۔ یہ دائیاں ہمالیہ، قراقرم اور ہندوکش کی ان وادیوں کی ‘سُپر ویمن’ ہیں۔

سکردو کے ایک گاؤں کی تنگ گلیوں سے ہوتے ہم پتھروں سے بنے ایک گھر کے دروازے پر پہنچے۔ اندر دائیں جانب ایک کمرے سے نومولود بچے کے رونے کی آواز آ رہی تھی۔ یہ سکینہ ہے جو ایک ہفتہ پہلے پیدا ہوئی ہیں۔

شہر بانو اس ننھی سی پری کو گود میں لیے سکینہ کی ماں گل کو بتا رہی ہیں کہ انھوں نے کیا کھانا ہے لیکن بچی کو ڈبے، گائے یا بکری کا دودھ نہیں پلانا، اسے ماں کے دودھ کی ضرورت ہے۔
اس بارے میں مزید پڑھیے

گل پہلی بار ماں بنی ہیں۔ انھیں حمل اور زچگی کے دوران ہسپتال جانے کی ضرورت نہیں پڑی اس کی وجہ ان کے مطابق شہر بانو ہیں۔
سکردو میں دریائے سندھ کے کنارے موجود گاؤں ‘گول’ کی رہائشی شہر بانو نے کبھی حساب تو نہیں رکھا لیکن وہ کہتی ہیں کہ پچھلے دس سالوں میں 100 سے زیاد بچے ان کے ہاتھوں سے پیدا ہوئے ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ انھوں نے اپنے تکلیف دہ تجربے کے بعد دائی بننے کا فیصلہ کیا۔ ‘جب میرے ہاں بچے کی پیدائش ہوئی تو پورے گاؤں حتیٰ کہ آس پاس کے گاؤں میں بھی کوئی دائی نہیں تھی، میں تین دن تک تکلیف میں رہی مگر میری مدد کے لیے کوئی دائی نہیں تھی۔ تب میں نے فیصلہ کیا کہ میں خود دائی کی تربیت حاصل کروں گی اور میرے بعد میرے گاؤں کی کوئی اور عورت اس تکلیف سے نہیں گزرے گی جس سے میں گزری ہوں۔‘

شہر بانو نے گلگت بلتستان کے ایک سرکاری ہسپتال سے تقریبا ڈیڑھ سال تک تربیت حاصل کی، وہ دس سال تک بغیر کسی تنخواہ کے ان دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں حاملہ خواتین کی مدد کرتی رہی ہیں۔
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق پاکستان میں 61 فیصد بچے گھروں میں پیدا ہوتے ہیں۔ یونیسف کی ایک رپورٹ کے مطابق صرف 39 فیصد حاملہ خواتین کے پاس زچگی کے وقت تربیت یافتہ دائی موجود ہوتی ہے جبکہ ملک کے دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں یہ تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔

شہر بانو بتاتی ہیں: ‘ایک رات برف پڑ رہی تھی کہ مجھے ایک دوسرے گاؤں کے لوگوں نے بلایا کہ ان کے گھر جانا ہے۔ میں اس حاملہ خاتون کے چیک اپ کے لیے موسم کی پروا کیے بغیر نکل پڑی، اس دوران میں راستے میں گِری اور پھر ایک سال تک میں بیمار رہی لیکن اس رات میں نے اس خاتون کی ڈیلیوری کرائی کیونکہ اسے میری ضرورت تھی۔‘

وہ کہتی ہیں کہ گلگت بلتستان کی حکومت نے ایک ماہ قبل انھیں سرکاری نوکری دی ہے، اب ان کے پاس ایک ڈسپنسری اور ادویات بھی ہیں۔ ‘کوئی مجھے 100 روپے دے دیتا تھا، تو کوئی چائے پلا دیتا لیکن میں نے خود کبھی پیسے نہیں مانگے، میرے علاقے کے لوگ بہت غریب ہیں، میں نے اپنے ذاتی پیسوں سے بلڈ پریشر چیک کرنے کا آلہ خریدا، دوائیاں نہیں تھیں لیکن میں دوائی کا نام بتا دیتی تاکہ خاتون خرید لے۔‘

سکردو کے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر مبشر کے مطابق سکردو میں دو لاکھ سے زیادہ آبادی کے لیے 48 دائیاں اور نو کمیونٹی مِڈ وائیوز ہیں۔
ان کے بقول ‘ہم نے اب بڑے پیمانے پر لیڈی ہیلتھ ورکرز اور دائیوں کی تربیت کا آغاز کیا ہے، انھیں سرکاری نوکریاں دی جا رہی ہیں لیکن اس پروگرام پر مزید کام کی ضرورت ہے، ہمیں مزید فنڈز کی بھی ضرورت ہے تاکہ خواتین میں آگاہی پیدا کرنے کے لیے مہم بھی چلائی جا سکے۔‘

ڈاکٹر مبشر کہتے ہیں کہ خاص طور پر کے ٹو کے قریبی دیہاتوں میں پہنچنا مشکل ترین کام ہے لیکن حال ہی میں وہاں بھی تربیت یافتہ دائیوں کا تقرر کیا گیا ہے۔
شہر بانو کے پاس ایک ڈسپنسری بھی ہے لیکن وہ اب بھی گھر گھر جاتی ہیں اور خواتین کا چیک اپ کرتی ہیں، وہ انھیں متوازن غذا کھانے کا مشورہ دیتی ہیں اور انھیں بتاتی ہیں کہ انھیں حمل کے دوران کیا احتیاطی تدابیر اختیار کرنی ہیں تاکہ وہ اور بچہ دونوں صحت مند اور محفوظ رہیں۔

‘میں چیک کرتی ہوں کہ کیس نارمل ہے یا نہیں، اگر تو نارمل ہو تو میں خود ڈیلیوری کراتی ہوں لیکن اگر حاملہ خاتون میں کوئی پیچیدگی ہو تو میں ان کے اہل خانہ کو فوری طور پر ہسپتال لے جانے کا مشورہ دیتی ہوں۔‘

شہر بانو گاؤں سے نکلتے ہوئے کئی بچوں سے مل رہی تھیں اور انھیں سکول جاتے دیکھ کر کہنے لگیں کہ ’اب یہ بچے بڑے ہو رہے ہیں، انھیں دیکھ کر مجھے لگتاہے جیسے یہ سب میرے اپنے ہی بچے ہیں۔‘