امریکی وسط مدتی انتخابات: پانچ چیزیں جو سامنے آئیں

امریکہ کے وسط مدتی انتخابات کی گرد بیٹھنے لگی ہے اور آنے والے نتائج میں کانگریس کے دونوں ایوانوں کی کہانی ابھر کر سامنے آئی ہے۔
تقریباً توقعات کے مطابق وسط مدتی انتخابات میں صدر ٹرمپ کی رپبلکن پارٹی سینیٹ میں اکثریت برقرار رکھے گی تاہم ان کی حریف ڈیموکریٹک پارٹی ایوان نمائندگان میں سال 2010 کے بعد اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے۔

انتخابی نتائج زیادہ حیران کن کر دینے والے نہیں ہیں لیکن ان میں ایسا بہت کچھ ہے جس سے تجسس پیدا ہوتا ہے کہ آئندہ دو برس میں کیا ہو سکتا ہے۔
یہاں آپ کو انتخابات سے اخذ کیے گئے نتیجے کے بارے میں بتاتے ہیں۔
اس انتخابات میں ریکارڈ تعداد میں خواتین نے حصہ لیا اور غیر معمولی تعداد جیت گئی۔ منگل سے پہلے 107 خواتین کانگریس میں تھیں اور اب یہ تعداد بڑھ گئی ہے۔
انتخابات میں حصہ لینے والی خواتین میں اگر سب سے پہلے بات کی جائے تو وہ دو مسلمان خواتین ہیں۔ راشدہ طلیب مشی گن سے منتخب ہوئیں اور منی سوٹا سے الہان عمر کو پہلی مسلمان خواتین ہونے کا اعزاز حاصل ہو گیا ہے جنھوں نے ڈیموکریٹک پارٹی کی نمائندگی کرتے ہوئے کانگریس کے ایوان نمائندگان تک رسائی حاصل کر لی ہے۔

اس کے علاوہ نیویارک سے الگزینڈریا اوسیاسیو کورٹز نے کانگریس میں سب سے کم عمر خاتون ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ الگزینڈریا کے علاوہ دو خواتین پہلی آبائی امریکی خواتین کانگریس میں پہنچی ہیں جو نیو میکسیکو سے ڈبرا ہیلنڈ اور کنساس سے شریس ڈیوڈز ہیں۔

ہم نے پہلے قابل ذکر خواتین کے بارے میں بتایا تو یہاں جیرڈ پولس کے بارے میں بتانا بھی اہم ہے جو کہ امریکہ کی پہلے ہم جنس پرست گورنر ہیں۔
یہاں یہ نکتہ بھی قابل ذکر ہے کہ ڈیموکریٹ کی خواتین ارکان نے رپبلکن بیزاری کا اِظہار کرنے والے حلقوں میں اہم کردار ادا کیا اور یہاں ووٹرز کا ٹرن آؤٹ ایسے ہے کہ جیسے نئی توانائی منظرعام پر ابھر کر سامنے آئی۔

مقامی وقت 19:45 ایسٹرن سٹینڈرڈ ٹائم پر ڈیموکریٹ پارٹی کی جینفر ووکسٹن نے ورجینا کے حلقہ دس سے کامیابی کا دعویٰ کیا ہے اور یہاں 1980 سے رپبلکن جماعت کامیاب ہوتی آئی تھی۔
اس وقت یہ دعویٰ نیلی لہر یعنی ڈیموکریٹ کی کامیابی کی لہر پیدا ہونے کا لگا۔ لیکن ایسا مکمل طور پر نہیں ہو سکا تاہم ڈیموکریٹ نے ایوان نمائندگان میں فتح حاصل کی اور یہ توقع کے عین مطابق تھا جس میں زیادہ حیرانگی والی بات نہیں تھی۔

یہ ایسا نہیں کہ سونامی تھی جس کے بارے میں امید کی جا رہی تھی لیکن مستقل مزاج لہر تھی جس کے نتیجے میں ڈیموکریٹ کو اتنی کامیابیاں حاصل ہو سکیں کہ اس نے آٹھ برس بعد پہلی بار ایوان نمائندگان پر اپنا کنٹرول حاصل کر لیا۔

ڈیموکریٹ پارٹی کی اکثریت کا مطلب یہ ہے کہ صدر ٹرمپ کو اپنے ایجنڈا پر عمل درآمد کرنے میں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
زیادہ مقامی سطح کی بات کی جائے تو جماعت کے نوجوان نمائندوں نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا لیکن ابھی یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا 2020 کے انتخابات میں ڈیموکریٹ روشن خیال امیدوار پر کتنا انحصار کرے گی۔

انتخابی نتائج میں ملا جلا رجحان تھا جس میں ایوان نمائندگان میں ناکامی ہوئی تو صدر ٹرمپ کی رپبلکن پارٹی سینیٹ میں اکثریت برقرار رکھنے میں کامیاب ہوئی۔ اب ایوان نمائندگان صدر کے خلاف تحقیقات شروع کرا سکتا ہے جس میں ٹیکس گوشوارے طلب کر سکتا ہے اور ہو سکتا ہے کہ ان کے خلاف مواخذے کا انتخاب کرے۔

صدر ٹرمپ کے اقتدار کے پہلے دو برسوں میں ان کی جماعت کو کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل تھی جس کے نتیجے میں ان کو تقریباً مشکلات کا سامنا نہ ہونے کے برابر تھا لیکن اب ایسا نہیں ہو گا۔
یقیناً ٹرمپ کو اس مخالفت کا سامنا کرنا ہو گا جس کا ان کو اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں سامنا ہو گا۔
لیکن صدر ٹرمپ نے انتخابات میں کامیابی بھی حاصل کی ہے۔ جس میں سینیٹ میں نہ صرف رپبلکن اپنی برتری کو برقرار رکھنے میں کامیاب ہوئے ہیں بلکہ اس میں مزید اضافہ بھی ہوا ہے اور اسی وجہ سے صدر ٹرمپ نے شاندار کامیابی قرار دیا ہے۔

ان وسط مدتی انتخابات کو ان کی صدارت کے دو سال پر ‘ریفرینڈم’ کے طور پر دیکھا جا رہا تھا جس میں امریکی ٹی وی سی بی ایس کی جانب سے منگل کو جاری کیے جانے والے ایک سروے کے مطابق ان انتخابات میں ووٹ ڈالنے والے لوگوں کے لیے ٹرمپ فیکٹر 65 فیصد تھا جس میں 39 فیصد ان کے مخالف اور 26 فیصد حامی تھے۔

صدر ٹرمپ نے انتخابی مہم کے آخری دنوں میں ان ریاستوں کا دورہ کیا جو سینیٹ کے انتخاب کے لیے اہم تھیں اور موثر انداز انتخاب میں انفرادی امیدواروں کے ساتھ خود کو بھی اتنا بڑھا چڑھا کر پیش کیا کہ یہ انتخاب ان کے بارے میں بھی ہے۔

بظاہر ان کی حکمت عملی نے انڈیانا اور ٹینیسی کی ریاستوں میں موثر کردار ادا کیا۔ جہاں زیادہ تر علاقوں میں لوگوں نے صدارتی انتخابات میں صدر ٹرمپ کی حمایت کی تھی اور اس بار بھی اس کو دہرایا۔
یہ انتخاب اگر کہا جائے تو دیہی علاقوں اور شہروں کے مضافاتی علاقوں کا تھا اور نتائج میں اس تقسیم کی تصدیق ہو گئی جو کہ ملک میں ابھر رہی ہے۔
ڈیموکریٹس کو ایوان نمائندگان میں اکثریت دینے والے ووٹرز کا تعلق شہروں کے مضافات میں رہنے والے پڑھے لکھے طبقے سے ہے جو عرصے سے رپبلکن کے حمایتی رہے لیکن صدر ٹرمپ کی پالیسیوں اور فن خطابت سے مطمئن نہیں ہیں۔

ورجینا کے کئی علاقوں کے بارے میں اگر بات کی جائے تو واشنگٹن اور رچمنڈ کے مضافات کے علاقے ڈیموکریٹس کے پاس چلے گئے۔
اسی طرح کے رجحانات ملک بھر میں دکھائی دیے جس میں ٹیکساس ، پنسلوینیا اور الینوائے میں غیر متوقع نتائج سامنے آئے۔
یہ ایک قسم کا اشارہ ہو سکتا ہے کہ رپبلکن جماعت کو 2020 کے انتخابات میں کس قسم کی مشکل صورتحال کا سامنا ہو سکتا ہے۔
کالج سے فارغ التحصل لوگوں نے 2016 کے انتخابات میں صدر ٹرمپ کو ووٹ دیا تھا۔ اور اب لگتا یہ ہے کہ وہ ایسا دوبارہ نہیں کریں گے تو اس صورتحال میں رپبلکن جماعت ان ووٹرز کو دوبارہ اپنی جانب لانے کے لیے کیا کرے گی۔

گورنرز کے انتخابات میں کچھ دلچسپ پیش رفت سامنے آئی ہے۔ 2016 میں بھاری اکثریت کے ساتھ صدر ٹرمپ کی حمایت کرنے والی کچھ ریاستوں نے اس بار ان کی جماعت کا ساتھ نہیں دیا ہے۔
12 ملین آبادی والی ریاست النائے نے (جہاں ملک کا تیسرا بڑا شہر شکاگو ہے) ڈیموکریٹک امیدوار جح بی پریتزکر کو کامیابی دلوائی۔ ادھر کینساس میں ٹرمپ کے اتحادی کرس کوبیخ تو انتخاب میں اپنے مخالف کے قریب بھی نہ تھے۔

مگر صدر ٹرمپ کے لیے کچھ اچھی خبریں بھی ہیں۔ جورجیا اور فلوریڈا میں ٹرمپ کے حامی کامیاب رہے حالانکہ ان کی انتخابی مہموں میں نسل پرستی کا عنصر بار بار سامنے آیا۔ یہ گورنر 2020 کے صدارتی انتخاب میں ٹرمپ کی حمایت کر سکیں گے۔

آئیووا اور اوہائیو میں بھی رپبلکن گورنر اپنا عہدہ برقرار رکھنے میں کامیاب رہے۔ گورنر صدارتی انتخاب میں چندہ اکھٹا کرنے اور رضا کار فراہم کرنے میں مددگار ہوتے ہیں اس لیے ان کا 2020 میں کردار اہم ہو سکتا ہے۔