راشدہ طلیب اور الہان عمر: امریکی کانگریس کی تاریخ میں پہلی مسلمان خواتین

مشی گن سے منتخب ہونے والی راشدہ طلیب اور منی سوٹا سے الہان عمر کو پہلی مسلمان خواتین ہونے کا اعزاز حاصل ہو گیا ہے جنھوں نے ڈیموکریٹک پارٹی کی نمائندگی کرتے ہوئے کانگریس کے ایوان نمائندگان تک رسائی حاصل کر لی ہے۔

یہ دونوں خواتین صدر ٹرمپ کی امیگریشن پالیسیوں اور مسلمانوں کے خلاف کی گئی گفتگو کی شدید مخالف ہیں۔
امریکہ میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ریکارڈ تعداد میں امریکی مسلمان امیدواروں نے حصہ لیا تھا جن کی تعداد تقریباً سو کے قریب تھی۔
ریاست مشی گن کے شہر ڈیٹروئٹ سے منتخب ہونے والی رکن کانگریس راشدہ طلیب کے والدین فلسطینی پناہ گزیں کی حیثیت سے امریکہ آئے تھے۔
انتخاب سے قبل امریکی اخبار ’نیو سٹیٹسمین امریکہ‘ سے ٹیلیفون پر بات کرتے راشدہ طلیب نے کہا کہ ’یہ وہ لمحہ تھا جس میں میں نے سوچا کہ میں رِنگ سے باہر رہوں یا رِنگ میں اتر کر لڑائی لڑوں۔‘
انھوں نے اس انٹرویو میں کہا کہ وہ اپنے حلقے مشی گن ریاست کے رہنے والوں کو یہ احساس دینا چاہتی تھیں کہ کوئی ہے جو ان کی لڑائی لڑ سکتا ہے۔

42 سالہ راشدہ ڈیٹروئٹ میں پیدا ہوئیں اور وہ 14 بہن بھائیوں میں سب سے بڑی ہیں۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم اپنے شہر کے پبلک سکول سے حاصل کی اور پھر ’ویسٹرن مشی گن یونیورسٹی‘ سے قانون کی ڈگری مکمل کی۔

سنہ 2008 میں وہ اپنی ریاست کی اسمبلی کی پہلی مسلمان رکن منتخب ہوئی تھیں۔
راشدہ طلیب کی اپنی ویب سائیٹ کے مطابق اس اسمبلی میں انھوں نے مفت ہیلتھ کلینک اور ریاست کے معمر شہریوں کو کھانے کی فراہمی کے لیے کے ’میلز آن ویلز‘ پروگرام کا اغاز کیا۔
حجاب پہننے والی الہان عمر نے اپنا بچپن کینیا کے تارکین وطن کے کیمپ میں گزارا تھا جہاں ان کا خاندان صومالیہ سے نقل مکانی کر کے پہنچا تھا۔ اس کے بعد وہ ایک سپانسرشپ کی مدد سے امریکی ریاست منی سوٹا پہنچیں۔

سنہ 2016 میں 36 سالہ الہان عمر پہلی صومالی امریکن قانون ساز بن گئیں۔ دو سال پہلے اپنی جیت کے بعد انھوں نے انٹرویو میں کہا تھا کہ ‘یہ جیت اس آٹھ سالہ بچی کے لیے ہے جو تارکین وطن کے کیمپ میں تھی۔ یہ جیت اس لڑکی کے لیے ہے جسے زبردستی کم عمری کی شادی کرنی پڑی تھی۔ یہ جیت ہر اس شخص کے لیے ہے جسے خواب دیکھنے سے روکا گیا۔’

پیو ریسرچ سینٹر کی رپورٹ کے مطابق تقریباً 48 فیصد امریکی مسلمانوں نے کہا کہ گذشتہ ایک سال کے دوران انھیں امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس میں سے تین چوتھائی نے کہا کہ وہ امتیازی سلوک کا نشانہ بنے، جبکہ 74 فیصد نے کہا کہ صدر ٹرمپ کا رویہ ان کے ساتھ دوستانہ نہیں ہے۔