سکھوں نے پاکستان میں کیبل پر چلنے والے انڈین چینلوں کو کھولنے کا مطالبہ کر دیا

پاکستان کے ان علاقوں میں جہاں سکھوں کے گردوارے نہیں ہیں یا کم ہیں وہاں بیشتر سکھ اپنی مذہبی تسکین کے لیے کیبل پر دکھائے جانے والے چینلز پر انحصار کرتے ہیں لیکن گذشتہ ماہ ان چینلز پر پابندی عائد کر دی گئی جس کے بعد سکھوں نے اپنے مذہبی چینل کھولنے کا مطالبہ کیا ہے۔

پشاور میں بیشتر سکھ خاندان خاص طور پر خواتین شام چار بجے اور صبح چار بجے کے بعد کیبل پر اپنے مذہبی پروگرام دیکھ کر روحانی تسکین حاصل کرتی ہیں۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے گذشتہ ماہ ایک درخواست کی سماعت کے دوران کہا تھا کہ کیبل پر چلنے والے تمام انڈین چینلز بند کر دیے جائیں جس کے بعد ایسے تمام چینلز کو بند دیا گیا تھا۔

سکھ کمیونٹی کی جانب سے چیئرمین پیمرا کو ایک خط میں کہا گیا ہے کہ انڈیا کے ایسے چینلوں کو کھولا جائے جن پر ان کے مذہبی پروگرام نشر کیے جاتے ہیں۔ ’ان چینلوں پر عبادت سے متعلق پروگرام نشر کیے جاتے ہیں۔ ان میں بھجن اور روحانی موسیقی سے متعلق پروگرام شامل ہوتے ہیں۔ ان چینلوں میں پی ٹی سی پنجابی، چاردیکالا اور ٹائم ٹی وی شامل ہیں۔‘

پشاور اور قبائلی علاقوں میں سکھوں کے رہنما بابا جی گرپال سنگھ نے بی بی سی کو بتایا کہ ان چینلوں سے ان کی مذہبی وابستگی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے لیے ہر جگہ گردوارے نہیں ہیں جہاں سب لوگ جا کر عبادت کر سکیں اس لیے بیشتر علاقوں میں لوگ ان ٹی وی چینلز کے ذریعے اپنے مذہبی مقامات دیکھتے اور سنتے ہیں جس سے انھیں روحانی سکون ملتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ حکومت اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے اپیل کرتے ہیں کہ صرف پشاور ہی نہیں بلکہ پاکستان کے تمام شہروں میں ان چینلوں کو کھولا جائے جن پر ان کے مذہبی پروگرام نشر ہوتے ہیں۔
بابا جی گرپال سنگھ نے کہا کہ کیبل آپریٹرز نے یہ چینلز گذشتہ ماہ 26 اکتوبر کو بند کردیے تھے جس کے بعد لوگوں نے ان کیبل آپریٹر سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ یہ چینلز سپریم کورٹ کے حکم کے بعد بند کیے گئے ہیں۔

اس بارے میں جب کیبل آپریٹر جہانگیر خان سے رابطہ کیا تو انھوں کا کہنا تھا کہ اس علاقے میں سکھوں کی آبادی زیادہ ہے اور وہ اپنے مذہبی چینل شوق سے دیکھتے ہیں تاہم وہ حکومت کی اجازت کے بغیر یہ چینلز نہیں دکھا سکتے۔