ایران کا ہزاروں سال پرانا اے سی یعنی بادگير

 

 

صابری کے قدرتی ایئر کنڈیشنر سے مراد ان کا ‘بادگیر’ ہے۔ وہ کہتے ہیں: ‘ہم اسی کے سائے تلے بیٹھے ہیں۔’
ریگستان میں آباد یزد شہر میں شدید گرمی پڑتی ہے اور یہاں کا درجۂ حرارت 40 ڈگری سیلسیئس سے تجاوز کر جاتا ہے اور ایسے گرم موسم میں چائے کا خیال آنا کسی عجوبے سے کم نہیں۔
لیکن بادگیر والے مکان کے آنگن بیٹھنے کے بعد تپتا سورج بھی مدھم معلوم ہوتا ہے۔
یہاں اس قدر آرام محسوس ہوتا ہے کہ اپنے میزبان کو الوداع کہنے کا خیال ہی نہیں آتا۔
یہاں بیٹھ کر آپ جب ارد گرد کی چیزوں کا مشاہدہ کرتے ہیں تو یہ محسوس ہوتا ہے کہ ہزاروں سال پہلے اس گرم آب و ہوا میں انسان نے اپنی سہولت کے لیے یہ تکنیک کیونکر ایجاد کر لی تھی۔
بادگیر یعنی ہوا کو کھینچنے والی یہ تعمیر کسی چمنی جیسی ہے اور یہ ایران کے ریگستانی شہروں کی قدیمی عمارتوں پر بنی نظر آتی ہے۔
یہ بادگیر ٹھنڈی ہوا کو کھینچ کر عمارت کے نیچے لے جانے کا کام کرتے ہیں اور ان سے گھروں کو ٹھنڈا رکھنے میں مدد ملتی ہے۔
اور ان سے گرمی کی وجہ سے خراب ہونے والی چیزوں کو بچانے کا کام بھی لیا جاتا ہے۔
تمام طرح کی تحقیق سے یہ پتہ چلا کہ بادگیر کی مدد سے درجۂ حرارت کو دس ڈگری تک کم کیا جا سکتا ہے۔
عہد قدیم میں مصر سے لے کر عرب اور بابل کی تہذیب و تمدن میں اس طرح کے فن تعمیر کی کوشش کی گئی جو موسم کی سختیوں کو دور کر سکے۔
اس طرح کی عمارتوں کو قدرتی طور پر ہوا دار بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔
اس قسم کے بادگیر یا ہوا دار عمارتیں مشرق وسطی سے لے کر مصر اور ہندو پاک میں نظر آتی رہی ہیں۔
بادگیر عمارتوں کے سب سے اونچے حصے میں تعمیر کے جاتے ہیں۔ اس لیے ان کی دیکھ بھال بڑا چیلنج ہے۔
ان کی ٹوٹ پھوٹ کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ ایران میں کئی عمارتوں پر تعمیر بادگیر 14 ویں صدی تک کے ہیں۔
فارسی شاعر ناصر خسرو کی شاعری میں بھی اس کا ذکر کیا گیا ہے، اور ان کا زمانہ تقریباً ایک ہزار سال پہلے کا ہے۔
جبکہ مصر میں حضرت عیسیٰ سے بھی 1300 سال پرانی بعض پینٹنگز میں اس کا نمونہ نظر آیا ہے۔
ڈاکٹر عبدالمنعم الشورباغی سعودی عرب کے شہر جدہ میں قائم عفت یونیورسٹی میں فن تعمیر اور ڈیزائن کے پروفیسر ہیں۔
وہ کہتے کہ ‘مشرق وسطیٰ کے ممالک سے لے کر پاکستان اور سعودی عرب تک بادگیر ملتے ہیں۔’
یہ خلافت عباسیہ کے دور کے محلوں کی مربع نما عمارتوں سے مماثل ہیں۔ اور اس قسم کے محل عراق کے اخیضر علاقے میں آٹھویں صدی میں تعمیر کیے گئے تھے۔
ایک نظریہ یہ بھی ہے کہ بادگیر کی ایجاد عرب ممالک میں ہوئی تھی اور جب عربوں نے ایران کو فتح کیا، تو ان کے ساتھ یہ فن تعمیر فارس بھی پہنچا۔
یزد شہر کی زیادہ تر عمارتوں پر بنے یہ بادگیر مستطیل ہیں اور چاروں جانب ہوا کی آمد کے لیے خانے بنے ہوئے ہیں۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ وہاں شش پہلو اور ہشت پہلو بادگیر بھی ملتے ہیں۔
یزد کی پرانی عمارت میں ایک کیفے کے ملازم معین کہتے ہیں کہ ‘بادگیر میں ہر طرف سے آنے والی ہوا کو کھینچنے کے خانے بنے ہوتے ہیں۔ جبکہ یزد سے کچھ فاصلے پر موجود قصبے میبد کے بادگیروں میں صرف ایک جانب ہی خانے ہوتے ہیں کیونکہ وہاں ایک ہی جانب سے ہوا آتی ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

 

بادگیر کی تعمیر اس حکمت کے ساتھ کی جاتی ہے کہ ماحول میں موجود ہوا کو کھینچ کر وہ نیچے کی جانب لے جائے اور ٹھنڈی ہوا کے دباؤ سے گرم ہوا عمارت سے نکل جاتی ہے۔
اس گرم ہوا کو باہر نکلنے کے لیے بادگیر کے دوسری جانب ایک کھڑکی نما جگہ کھلی چھوڑ دی جاتی ہے۔
یہاں تک کہ اگر سرد ہوا نہ بھی چل رہی ہو تو بادگیر گرم ہوا کو دباؤ بنا کر باہر نکالنے کا کام کرتا رہتا ہے جس سے گھر میں گرمی کم ہوتی رہتی ہے۔
یزد شہر میں قاجاری دور کی کئی عمارتیں اب بھی اچھی حالت میں ہیں۔
ان میں سے ایک مشہور لریحہ ہاؤس ہے۔ انیسویں صدی میں تعمیر شدہ یہ عمارت ایرانی فن تعمیر کا شاندار نمونہ ہے۔
اس کے درمیان ایک مستطیل آنگن ہے۔ موسم گرما اور موسم سرما کے مطابق عمارت کے علیحدہ حصے ہیں۔
عمارت کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا مقصد سردیوں میں سورج کی گرمی کا زیادہ سے زیادہ استعمال اور گرمیوں میں سورج سے بچنے کی کوشش ہے۔
بادگیر اس عمارت کے گرمی والے حصے میں بنایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے

 

بادگیر سے آنے والی ہوا ایک محراب دار روشن دان سے گزرتی ہوئی عمارت کے تہہ خانے تک جاتی ہے۔
تہہ خانے میں وہ چیزیں رکھی جاتی ہیں جو جلدی خراب ہو سکتی ہیں۔ اس عمارت کی 38 سیڑھیوں سے نيچے جائیں تو موسم گرما میں بھی سردی کا احساس ہونے لگتا ہے۔
اس حصے کو سرداب یعنی سرد پانی کہا جاتا ہے۔ یہاں سے نہروں کا پانی گزرتا ہے۔
سرد ہوا اور پانی مل کر اس حصے کو ریفریجریٹر جیسا یخ بنا دیتے ہیں۔ پہلے اس طرح کی کوٹھریوں میں برف رکھی جاتی تھی۔
آج اس طرح کا قنات کا نظام ختم ہو گیا اور اسی طرح تکنیکی ترقی کے سبب بادگیر بھی معدوم ہوتا جا رہا ہے اور اس کی جگہ اے سی نے لے لی ہے۔
یزد کے 85 سالہ باسی عباس فروغی کہتے ہیں کہ ان کے محلے میں بہت سے لوگوں نے اپارٹمنٹس میں رہنا شروع کر دیا ہے۔
‘پرانے گھر یا تو خالی پڑے ہیں یا باہر سے آنے والے لوگوں کو کرائے پر دے دیے گئے ہیں۔ جو گھر بڑے اور اچھی حالت میں تھے انھیں تہران اور شیراز سے آنے والے امرا نے خرید کر ہوٹل بنا دیے ہیں۔‘
یہ بھی پڑھیے

 

یزد کے پرانے محلے میں رہنے والی مسز فاروقی نے حال ہی میں اپنا گھر فروخت کیا ہے، اور وہ اب اپارٹمنٹ میں رہنے لگی ہیں۔
وہ اکثر پرانے دنوں کو یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں: ‘پہلے سارے محلے کے بچے ایک ساتھ جمع ہو کر کھیلتے تھے۔ لوگ بادگیر کے نیچے بیٹھ کر چین کا سانس لیا کرتے تھے۔ شام کے وقت وہیں کھانے اور پینے کا انتظام اور خوش گپیاں ہوتی تھیں۔‘

اب ان کے پرانے گھر میں ‘رویائے قدیم’ یعنی پرانے خواب کے نام سے ایک ہوٹل کھل گیا ہے۔
مسز فاروقی کہتی ہیں: ‘میں اب بھی کبھی کبھی اپنے پرانے گھر جاتی ہوں۔ وہ اب اچھا نظر آتا ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ اسے محفوظ رکھا گیا ہے۔’
اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو نے یزد شہر کو سنہ 2017 میں عالمی ورثہ قرار دیا۔
اس کے بعد ثقافتی ورثہ انسٹی ٹیوٹ نے اسے قرض دینا شروع کیا۔
جن لوگوں نے یہاں پرانے گھر خریدے انھوں نے انسٹی ٹیوٹ کی مدد سے ان کی مرمت کی اور ان میں ہوٹل کھولے۔
اس طرح بہت سے پرانے مکان محفوظ ہو گئے۔ لیکن مقامی ٹور ایجنسی کے مالک فرید استاداں کہتے ہیں کہ اب قرض ملنا مشکل ہو گیا ہے۔
حکومت کے پاس تاریخی وراثت کی دیکھ بھال کے لیے پیسے نہیں ہیں۔ پھر بھی انھیں امید ہے کہ تاریخی عمارتوں، خاص طور پر بادگیر کو بچایا جا سکتا ہے۔
بچپن کے دنوں کو یاد کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ انھیں اپنے دادا کے گھر کا موسم گرما یاد ہے جب وہ گرمی کی دوپہر بادگیر کے سائے میں گزارتے تھے۔
وہ کہتے ہیں: ‘وہ اور ہی دور تھا۔ بادگیر کی ہوا آج کے اے سی کا احساس کراتی تھی۔ اے سی کیا بلا ہے ہم جانتے ہی نہیں تھے۔’
استاداں کہتے ہیں کہ جب تک یہاں سیاح آتے رہیں گے حالات بہتر رہیں گے اور سیاحت کے پیسے سے یہاں کی عمارتوں کی دیکھ بھال ہوتی رہے گی۔
’یہاں آنے والے سیاحوں کی دلچسپی قدیمی عمارتوں اور بادگیروں میں ہے اور ہمیں بھی ان کا خیال رکھنا ہے۔ امید ہے کہ ہم اس میں کامیاب ہوں گے۔‘
۔