سعودی عرب نے پہلا ایٹمی تحقیقی ری ایکٹر بنانے کا اعلان کر دیا

 

 

سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے خبر دی ہے کہ سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ملک کے پہلے ایٹمی تحقیقی ری ایکٹر بنانے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔
نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق، ولی عہد محمد بن سلمان نے پیر کو اس سکیم کی بنیاد رکھی ہے۔
سعودی پریس ایجنسی نے اس بارے میں کوئی معلومات نہیں دیں کہ یہ کس طرح کا ری ایکٹر ہے۔

 

 

اس بارے میں کچھ بھی نہیں کہا گیا ہے کہ آیا یہ تحقیق، ترقی اور تعلیمی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
سعودی عرب، خام تیل کا سب سے بڑا برآمد کنندہ ہے، اور وہ اپنے تیل اور قدرتی گیس کے ساتھ اپنی توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کر رہا ہے۔
سعودی عرب اگلی دو دہائیوں میں 16 ایٹمی ری ایکٹر تعمیر کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، جس کا تخمینہ تقریبا 80 بلین ڈالر کا ہے۔
سعودی عرب کا یہ فیصلہ ایسے وقت کیا گیا ہے جب پہلے ہی مشرق وسطی میں جوہری افزودگی کے حوالے سے خدشات پائے جاتے ہیں۔
یاد رہے کہ شہزادہ محمد بن سلمان نے مارچ میں کہا تھا کہ اگر ایران نے جوہری ہتھیار بنائے تو سعودی عرب بھی بنائے گا۔
سی بی ایس کو دیے گئے انٹرویو میں انھوں نے ایران کے رہبرِ اعلی کو ہٹلر سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ’مشرق وسطی میں اپنا منصوبہ بنانا چاہتے ہیں۔‘