شطرنج کی دنیا کے جادوگر میگنس کارلسن جنھوں نے شطرنج کے کھیل کو مقبولِ عام کیا

 

 

دونوں کھلاڑیوں کے درمیان لندن میں معرکۃ الآرا میدان لگے گا۔ یہ لڑائی دیر تک جاری رہے گی۔
ان دونوں کے پرستاروں کی بہت زیادہ توقعات ہیں۔
یہ بات ذہن میں رکھیے گا کہ ہم کوئی گلیڈی ایٹر جیسی مکسڈ مارشل آرٹس کی کسی لڑائی کا ذکر نہیں کر رہے ہیں۔
یہ اس معرکے کا ذکر ہے جو 2018 کے شطرنج کے ورلڈ چیمپیئن شپ کے فائنل کے مقابلے کا ہے جو ناروے کے میگنس کارلسن اور امریکہ کے فیبریچیو کاروانا کے درمیان ہونے جا رہا ہے۔

 

 

دونوں کھلاڑی شاید اتنی توجہ نہ حاصل کر پائیں اور نہ اس مقابلے کی انتی مہنگی ٹکٹیں بکیں جتنی کہ عموماً پنجرے میں ہونی والی لڑائیوں کی بکتی ہیں، لیکن بہر حال یہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے۔
اس مقابلے کا آغاز 9 نومبر کو ہوگا اور فاتح کو گیارہ لاکھ ڈالرز کا انعام ملے گا۔
اور اس کھیل میں اتنے زیادہ پڑھاکو قسم کے چہروں کے باوجود، ورلڈ چیس فاؤنڈیشن کے جائزے کے مطابق، تقریباً ساٹھ کروڑ لوگ اسے کھیلتے ہیں۔ 1500 برس پرانی کھیل میں آج بھی اتنی دلچسپی ہونا کوئی کم بات نہیں ہے۔

اس کا مطلب ہے کہ امریکہ میں شطرنج کھیلنے والے کھلاڑیوں کی تعداد ٹینس اور گولف کھیلنے والے کھلاڑیوں سے زیادہ ہے۔ اس کھیل کو گذشتہ چند برسوں میں از سرِ نو کافی فروغ ملا ہے۔
قصہ مختصر، اس وقت شطرنج کی دنیا میں کارلسن کی فتح کے اور اس کی مسلسل برتری کے بعد ایک انقلاب آچکا ہے۔
27 برس کا یہ نارویجئین 2013 سے مسلسل چیمپیئن شپ جیتتا چلا آرہا ہے۔ اور اس طرح اس نے شطرنج کی عالمی سطح پر ساکھ بدل کے رکھ دی ہے۔

اول یہ کہ کارلسن کا نہ سابق سوویت یونین سے تعلق ہے اور نہ ہی مشرقی یورپ سے۔ یہ وہ خطہ ہے جہاں سے تعلق رکھنے والے کھلاڑی سرد جنگ کے زمانے میں اس کھیل پر چھائے رہے۔
درحقیقت کارلسن کی فتح سے پہلے مشرقی یورپ یا روس سے تعلق رکھنے والے علاقوں سے باہر صرف دو کھلاڑی چیمپئین بن سکے، ایک امریکہ کے بوبی فشر اور دوسرے انڈیا کے وشواناتھ آنند تھے۔
لیکن ان میں سے کوئی بھی، یہاں تک کے روس کے معروف کھلاڑی گیری کیسپروو، جنھوں نے 1990 کی دہائی میں کمپیوٹر کو شطرنج کے کھیل میں شکست دی تھی، کا بھی اتنا نام نہیں چمکا جتنا کہ کارلسن کا چمکا ہے۔
22 برس کی عمر میں ورلڈ چیمپئین بننے والے کارلسن نے وہ شہرت پائی جو شاید ہی شطرنج کے کسی کھلاڑی کو حاصل ہوئی ہو۔
مثال کے طور پر وہ مہنگی مہنگی گھڑیوں، سپورٹس کاروں اور یہاں تک کہ ہالینڈ کی کپڑے فروخت کرنے والی کمپنی جی سٹار را کے اشتہارات میں بطور ماڈل بھی آئے ہیں۔
2013 میں ان کی زندگی پر ایک دستاویزی فلم بنائی گئی جسے 56 ممالک میں دکھایا گیا۔ ناروے سے تعلق رکھنے والے کارلسن کو امریکہ کے جریدے ٹائم میگیزین نے دنیا کی سو بااثر شخصیات میں شمار کیا تھا۔
اور اس کے علاوہ کارلسن امریکہ کے ایک بہت مقبول اور بہت معروف کارٹون پروگرام ’دی سیمپسنز‘ میں بھی نظر آئے۔

پلے میگنس نامی ایک ادارے نے شطرنج کی تربیت اور فروغ کے لیے ایک ایپ بنائی۔ اس ادارے کی سربراہ کیٹ مرفی کا کہنا ہے کہ ’شطرنج کو عموماً بوڑھوں کا کھیل سمجھا جاتا تھا۔ مگر کارلسن کی کامیابی نے یہ تاثر بدل دیا۔ اور اب ایک بڑی تعداد میں نوجوان اس کھیل کی طرف راغب ہو رہے ہیں۔‘

کارلسن کو شطرنج سے کبھی محبت نہ تھی اگرچہ ان کے والد نے انھیں یہ کھیل پانچ برس کی عمر میں سکھا دیا تھا۔
ان کی اس کھیل میں دلچسپی اس وقت پیدا ہوئی جب ایک مرتبہ انھوں نے اپنی بڑی بہن کو شکست دے دی جو کہ عموماً اس کو سکھانے کے لیے اس کے خلاف شطرنج کھیلا کرتی تھیں۔
کارلسن نے 2016 میں ایک انٹرویو میں کہا کہ ’اس کو شکست دینا میرا بہت بڑا مقصد تھا۔ اور اسی کوشش کے دوران شطرنج میں میری دلچسپی بڑھ گئی۔‘
اور جب وہ نو برس کا ہوئے تو وہ اپنے والد کو بھی شکست دے دیا کرتے تھے۔
تیرہ برس کی عمر میں وہ گرینڈ ماسٹر قرار پائے، یہ ورلڈ چیمپئین شپ کے علاوہ سب سے اعلیٰ اعزاز ہے۔
ان کا نام کلاسیکل موسیقار موزارٹ کے نام پر ’موزارٹ آف چیس‘ پڑ چکا ہے۔
کارلسن کی ایک منفرد بات یہ بھی ہے کہ وہ شطرنج کا کھیل کھیلے جانے والے بڑے بڑے خطوں سے دور ناروے سے تعلق رکھتے ہیں۔
ورلڈ چیس فیڈریشن کی تاہ ترین رینکنگ کے مطابق، کارلسن کے علاوہ بہترین سو کھلاڑیوں میں صرف ایک اور کا ناروے سے تعلق ہے۔
جبکہ روس کے بیس کھلاڑی اس فرست میں شامل ہیں، چین کے نو، برطانیہ اور امریکہ کے سات سات، اور انڈیا کے چھ، اس طرح ہر ملک ناروے سے زیادہ بہتر ہے۔
یہ بات درست ہے کہ جب شطرنج کی نشاۃ ثانیہ ہورہی تھی اس وقت کارلسن نے کامیابی حاصل کی۔
انٹرنیٹ کی بدولت شطرنج کو جو عروج ملا وہ اس کھیل کو اس وقت بھی نہیں ملا تھا جب کیسپیروو کی شطرنج کی دنیا پر حکومت تھی۔
شطرنج کے ایک ویب سائٹ، چیس ڈاٹ کام نے دعویٰ کیا ہے کہ اس سائٹ کے آغاز سے لے کر اب تک اس سائیٹ پر شطرنج کا کھیل دو ارب مرتبہ کھیلا جا چکا ہے۔
چیس ڈاٹ کام کے چیف ایگزیکٹو پیٹر دوگرز کہتے ہیں کہ ’کیسپیروو ایک کمال کا کھلاڑی تھا اور شطرنج کا سفیر سمجھا جاتا تھا، لیکن میگنس کارلسن ٹیلی ویژن اور انٹرنیٹ سے استفادے کیلئے صحیح وقت پر صحیح کھلاڑی تھا۔‘

ایک بہت ہی واضح قسم کی جو تبدیلی آئی وہ آبادیات کے لحاظ سے تھی: بہترین دس کھلاڑیوں میں سے چھ مرد تیس برس سے کم عمر کے ہیں۔
جب کہ خواتین میں تو یہ تناسب اور بھی بہتر ہے: بہترین دس میں سے نو کھلاڑی تیس برس سے کم عمر کی ہیں اور انہی میں چین سے تعلق رکھنے والی ورلڈ چیمپئین ہُو یفان بھی شامل ہیں۔
دوگرز کہتے ہیں کہ ’اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ کمپیوٹرز نے اس کھیل کو تبدیل کر دیا ہے۔ آج کل کے زمانے میں ایک بچہ کہیں بھی اپنے لیپ ٹاپ پر سیکھ سکتا ہے اور محنت کرکے مزید بہتر ہو سکتا ہے۔
’لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ میگنس کارلسن نے ایک رول ماڈل کے طور پر اس کھیل کو مشہور کرنے میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔‘
لندن میں ہونے والے ٹورنامنٹ میں ایک اور دلچسپ بات یہ ہے کے اس میں امریکی کھلاڑی فیبریچیو کاروآنا، جو کہ دنیا میں اس وقت دوسرے نمبر کے کھلاڑی ہیں۔ حصہ لے رہے ہیں۔
وہ فشر کے بعد امریکہ میں پیدا ہونے والے پہلے کھلاڑی ہیں جو کسی چیمپئین کو چیلینج کر رہے ہیں اور شاید فشر کے بعد پہلے امریکی چیمپئین بھی ہو سکتے ہیں، کیونکہ فشر نے اپنے وقت میں یعنی سن 1972 میں اس وقت کے سویت یونین کے بورس سپیسکی کو شکست دے کر چیمپئین شپ جیتی تھی۔

آئیس لینڈ کے شہر ریکیاوک میں ہونے والا یہ مقابلہ صدی کا سب سے بڑا مقابلہ قرار دیا گیا تھا اور اس سے متاثر ہو کر ایک فلم بنی تھی اور اس پر ایک موسیقی کا پروگرام بھی ترتیب دیا گیا تھا۔
اس کامیابی کے بعد فشر کی آمدن محمد علی باکسر کے برابر ہو گئی تھی۔ کارلسن پر لکھی جانے والی کتاب کے مصنف صحافی برِن جوناتھا بٹلر کہتے ہیں کہ: ’اس نے یہ بھی دکھایا کہ شطرنج میں ذہانت اور جنونیت کتنے گہرے جڑے ہوئے ہیں۔‘

ان کی یہ بات 1972 کی کامیابی کے بعد فشر کی زندگی کے زوال کی طرف اشارہ ہے۔ انھوں نے سن 1975 میں اپنی چیمپئین شپ کا دفاع نہیں کیا اور 2008 تک ایک تنہائی والی الگ تھلگ زندگی بسر کی۔
انھیں اس دوران ایک اور وجہ سے شہرت ملی تھی جب انھوں نے امریکی پابندی کو توڑتے ہوئے یوگوسلاویہ میں ایک چیس ٹورنامنٹ میں حصہ لیا تھا۔
فشر نے گیارہ ستمبر کے حملے کی تعریف کر کے بھی اپنے ہم وطنوں کو اپنے خلاف مشتعل کیا تھا۔
بٹلر کا کہنا ہے کہ ’فشر شطرنج کے کھیل کا ایک آرٹسٹ تھا۔ لیکن میگنس ایک مشین کی طرح کھیلتا ہے، جو اس وقت مایوس کن ہو جاتا ہے جب لوگ زیادہ دلچسپی کے ساتھ شطرنج کی چالیں دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس کے باوجود بھی وہ ایک زبردست کھلاڑی ہے۔‘

کاروآنا پندرہ برس کی عمر میں گرینڈ ماسٹر بن گئے تھے۔ لندن میں کھیلے جانے مقابلے کی وجہ سے اب وہ ایک فینٹیسی ایڈوینچر فلم ’دی تھور‘ کی ٹیلی ویژن سیریز کی وجہ سے ’کیپٹن امیریکا تھور کے مقابلے میں‘ کہلا رہا ہے۔

’میگنس کو سن 2016 میں کاریاکِن کے مقابلے میں کافی دقت ہوئی تھی۔ اور اس وقت کاروآنا میرے خیال میں اس وقت کا بہتر کھلاڑی ہے۔ وہ میگنس کیلیے مشکلات پیدا کرے گا۔‘
یہ تقابلی جائزہ نارویجئین سپر ہیرو کی طرف بھی ایک اشارہ ہے۔
اتنی بڑی سطح کے مقابلے چھ گھنٹوں تک بھی جاری رہ سکتے ہیں اس لیے اس میں دیر تک لڑنے کی صلاحیت اب تک کارلسن کی کامیابی کا راز رہا ہے۔
پیٹر دوگرز کہتے ہیں کہ ’وہ اپنے مخالف کو تھکا تھکا کر ہراتا ہے۔‘
’لیکن اب دونوں کھلاڑی اس طرف توجہ دے رہے ہیں۔ اور کاروآنا سمیت دونوں اپنے آپ کو جسمانی طور پر فٹ رکھنے کیلیے محنت کر رہے ہیں۔‘
اسی لیے بعض پنڈت کہہ رہے ہیں کہ کارلسن یہ میچ ہار بھی سکتے ہیں۔ یہ دونوں آمنے سامنے 56 مرتبہ کھیل چکے ہیں۔
کارلسن کو ان میں برتری حاصل رہی، 23 مقابلے جیتے اور 22 ہار چیت کے بغیر ختم ہوئے۔ لیکن کارلسن کو اندازہ ہے کہ کاروآنا ایک قدرتی ذہین کھلاڑی ہے۔
جب کارلسن سے کاروآنا کے بارے سوال پوچھا گیا تھا تو اس نے کہا تھا کہ ’وہ ایک خراب ترین مد مقابل ہے۔‘
امریکی کھلاڑی کاروآنا شہرت کے لحاظ سے نارویجئین کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہے۔
اس کی برطانوی مینیجر مہرین ملک نے برطانوی اخبارات کو بتایا کہ ’اسے اپنی شہرت کیلیے کچھ کرنے پر آمادہ کرنا کافی مشکل ہے۔ انسٹاگرام پر ایک آدھ تصویر؟ بالکُل نہیں‘
’اسے سیلیبریٹی بننے کا نشوق ہی نہیں ہے یا یہ کہ دنیا اس کے بارے میں زیادہ جانے۔‘
لیکن اس اندز میں اسے جلد تبدیلی لانا پڑے گی خاص کر اگر وہ کارلسن کو شکست دے دیتا ہے۔