بڑے ڈیموں کے نقصانات کا ترقی پذیر ممالک کو اندازہ نہیں‘

 

 

جہاں ایک جانب پاکستان میں ڈیموں کی تعمیر کے لیے سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے چندہ جمع کرنے کی مہم زور و شور سے جاری ہے، وہاں دوسری طرف ایک نئی تحقیق کے مطابق بڑے ڈیم ماحول کے لیے نہایت تباہ کن ثابت ہوئے ہیں اور اس تحقیق کے مصنفین کہتے ہیں کہ انھیں ڈر ہے کہ ان بڑے منصوبوں کے نقصانات کا ترقی پذیر ممالک کو اندازہ نہیں ہے۔

امریکہ کی مشیگن سٹیٹ یونیورسٹی میں کی گئی نئی تحقیق کے مطابق امریکہ اور یورپ میں تعمیر کیے گئے بڑے ڈیم ماحول کے لیے نہایت نقصان دہ ثابت ہوئے ہیں۔
اس تحقیق میں ساتھ ساتھ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اب ہر سال درجنوں کے حساب سے بڑے ڈیموں کو اکھاڑا جا رہا اور اس کی وجوہات یہ دی گئی ہیں کہ وہ اقتصادی اور ماحولیاتی طور پر فائدہ مند نہیں ہیں اور ہر ہفتے امریکہ اور یورپ میں ایک سے زیادہ ڈیم ختم کیے جا رہے ہیں۔

واضح رہے کہ دنیا بھر میں توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کا 71 فیصد حصہ پانی کی مدد سے پورا کیا جاتا ہے اور کئی ممالک کی ترقی میں اس کا بڑا ہاتھ ہے۔

 

 

 

محققین کہتے ہیں کہ 1960 کے عشرے میں امریکہ اور یورپ میں ڈیم بنانے کا کام عروج ہر تھا لیکن اس کے بعد سے اس میں کمی دیکھنے میں آئی ہے اور زیادہ تر ڈیموں کو ختم کیا جا رہا ہے اور اس وقت پورے امریکہ میں استعمال ہونے والی بجلی کا صرف چھ فیصد حصہ پانی کی مدد سے بنتا ہے۔
کے مصنفین کے مطابق حکومتیں سستی بجلی کی لالچ میں آ کر ڈیموں کی وجہ سے پیدا ہونے والے دیگر مسائل کو نظر انداز کر دیتی ہیں اور یہ نہیں سوچتیں کہ ان کی تعمیر کی وجہ سے ماحولیاتی اور سماجی نقصانات کتنے زیادہ ہوں گے۔

یاد رہے کہ حالیہ چند ماہ سے پاکستان میں 4500 میگا واٹ بجلی پیدا کرنے والے دیامیر بھاشا ڈیم اور 800 میگا واٹ والے مہمند ڈیم کی تعمیر کے لیے سپریم کورٹ آف پاکستان نے چندہ جمع کرنے کی مہم شروع کی ہوئی ہے اور وزیر اعظم عمران خان نے بھی اس کی حمایت کی ہے۔

ستمبر میں پاکستان کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے ملک میں نئے ڈیم کی تعمیر کی مخالفت کرنے والوں کو خبردار بھی کیا کہ جن لوگوں نے ڈیم کی تعمیر کو روکنے کی کوشش کی ان کے خلاف آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت غداری کا مقدمہ کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان کو ان دونوں ڈیموں کی تعمیر کے لیے 14 ارب ڈالر کی ضرورت ہے لیکن پانچ مہینے سے جاری اس چندہ مہم میں اب تک صرف پانچ کروڑ ڈالر ہی جمع ہو سکے ہیں۔
ادھر محققین کا کہنا ہے کہ سنہ 1930 کے بعد سے تعمیر کیے گئے 90 فیصد ڈیم ان کی تعمیر کے اصل تخمینے سے کہیں زیادہ مہنگے ثابت ہوئے ہیں۔
ان ڈیموں نے دریاؤں کے ماحول کو خراب کیا اور لاکھوں لوگوں کو دربدر کرنے پر مجبور کیا۔ ماحولیاتی تبدیلی لانے میں ان ڈیموں کا بڑا ہاتھ ہے جس کی وجہ سے گرین ہاؤس گیسز کا اخراج بڑھ گیا ہے جو کہ زمین کے ماحول کے لیے زہر قاتل ثابت ہوئی ہیں اور ان کی وجہ سے جنگلات اور دریا دونوں ہی برباد ہوئے ہیں۔

مشیگن سٹیٹ یونیورسٹی سے منسلک اس تحقیق کے مرکزی مصنف پروفیسر ایملیو موران نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘ڈیموں کے حامی خیالی جنت دکھاتے ہیں جہاں صرف فوائد نظر آتے ہیں لیکن حقیقت میں وہ خواب پورے نہیں ہوتے اور ان کے نقصانات کو نظر انداز کیا جاتا ہے اور معاشرے پر ان کے اثرات بعد میں نمایاں ہوتے ہیں۔’

پروفیسر ایملیو موران کی رپورٹ میں برازیل کے دریائے مدیرا پر قائم دو ڈیموں کی مثال دی گئی ہے جو کہ محض پانچ سال قبل تعمیر کیے گئے تھے لیکن اب کہا جا رہا ہے کہ وہ بجلی پیدا کرنے کے اپنے اصل تخمینے کا نہایت قلیل حصہ ہی بنانے میں کامیاب ہو سکیں گے اور اس کی وجہ ماحولیاتی تبدیلی ہے۔

محققین لکھتے ہیں کہ ترقی پذیر ممالک میں 3700 ڈیم تعمیر کے مختلف مراحل سے گزر رہے ہیں اور انھوں نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ کئی بڑے منصوبے ان دریاؤں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچائیں گے جہاں ان کی تعمیر کی جا رہی ہے۔

افریقہ کے دریائے کانگو میں گرینڈ انگا پراجیکٹ کے تخمینے کے مطابق اس منصوبے کے تحت پیدا کی جانے والی بجلی پورے برے اعظم افریقہ کی بجلی کا ایک تہائی حصہ ہو گی۔ لیکن اس تحقیق میں اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے 80 ارب ڈالر کی لاگت سے تعمیر کیے جانے والے اس منصوبے سے پیدا ہونے والی بجلی صنعتوں کے لیے ہوگی، نہ کہ عوام کے لیے۔

پروفیسر موران کے مطابق ‘اس منصوبے سے پیدا ہونے والی 90 فیصد بجلی جنوبی افریقہ میں کان کنی کے لیے استعمال کی جائے گی اور کانگو کے عوام اس سے محروم رہیں گے۔برازیل میں بھی یہی ہو رہا ہے۔ لوگوں کے سروں کے اوپر سے بجلی کے تار گزر رہے ہیں لیکن وہ ان کے بجائے 4000 کلو میٹر دور کے علاقوں میں بجلی فراہم کر رہے ہیں۔’

اس رپورٹ کی ایک اور اہم تحقیق یہ ہے کہ دریاؤں پر قائم کیے گئے ان بڑے منصوبوں کی وجہ ہے غذا فراہم کرنے کے ذرائع تباہ ہو جائیں گے۔ مشرق بعید میں واقع دریائے میکونگ کے ساتھ رہنے والے اندازہً چھ کروڑ افراد جو دریا سے ملنے والی مچھلیوں پر گذارا کرتے ہیں وہ ان سے محروم ہو جائیں گے اور اس نقصان کا تخمینہ دو ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔

لیکن ان تمام خدشات کے باوجود بڑے ڈیموں کی تعمیر ابھی بھی جاری ہے۔
برازیل جہاں 67 فیصد بجلی پانی سے پیدا کی جاتی ہے، دریاؤں میں پانی کم ہونے کے باوجود بڑے ڈیم بنانے کے لیے تیار ہے۔
برازیل کے نئے صدر جئیر بولسو نارو کے منتخب ہونے کے بعد خدشہ ہے کہ ڈیموں کی تعمیر پر لگائے جانے والی عارضی پابندی اٹھا لی جائی گی اور وہ مزید 60 ڈیموں کی تعمیر پر کام دوبارہ شروع کر دیں گے۔
پروفیسر موران نے صاف لفظوں میں ڈیموں کی تعمیر کی مخالفت کی اور کہا کہ ‘ہماری تحقیق سے اخذ کیے جانے والا واضح نتیجہ ہے کہ بڑے ڈیموں کا اب کوئی مستقبل نہیں ہے۔ 21 ویں صدی میں ہمیں بجلی پیدا کرنے کے لیے مختلف ذرائع کا استعمال کرنا ہو گا۔ ‘