مغل اعظم میں اداکاری کے لیے پرتھوی راج نے کتنے پیسے لیے تھے؟

 

 

بالی وڈ کے ‘مغل اعظم’ کہلائے جانے والے اداکار پرتھوی راج کپور کی رواں ہفتے سال گرہ تھی۔ ان کی پیدائش تین نومبر سنہ 1906 کو موجودہ پاکستان میں فیصل آباد (سابقہ لائل پور) کی تحصیل سمندری میں ہوئی تھی۔

تین سال کی عمر میں ان کی والدہ کا انتقال ہو گیا تھا اور آٹھ سال کی عمر میں پہلی بار انھوں نے سکول میں ہونے والے ایک ڈرامے میں حصہ لیا تھا۔
پشاور کے ایڈورڈز کالج سے بیچلر کی ڈگری لینے تک ڈراموں میں ان کی خاصی دلچسپی پیدا ہو چکی تھی۔ تھئیٹر کی محبت میں وہ لاہور تک آئے لیکن انھیں کام نہیں ملا۔

 

ستمبر سنہ 1929 میں وہ کام کی تلاش میں بمبئی (اب ممبئی) آ گئے اور امپیریئل فلم کمپنی میں بغیر کسی تنخواہ کے ایکسٹرا اداکار بن گئے۔
سنہ 1931 میں ریلیز ہونے والی انڈیا کی پہلی گویا فلم ‘عالم آرا’ میں انھوں نے 24 سال کی عمر میں، آٹھ مختلف داڑھیاں لگا کر نوجوانی سے لے کر بڑھاپے تک کا کردار پیش کرکے بے نظیر اداکاری کی مثال قائم کی۔

اس کے دس سال بعد سنہ 1941 میں انھوں نے سہراب مودی کی فلم ’سکندر‘ میں شاندار اداکاری کی۔
جبکہ سنہ 1960 میں ریلیز ہونے والی فلم ‘مغل اعظم’ میں انھوں نے مغل بادشاہ اکبر کا کردار نبھاتے ہوئے اداکاری کا وہ نمونہ پیش کیا جس کی مثال آج بھی دی جاتی ہے۔
اس فلم کی سٹار کاسٹ میں پرتھوی راج کا نام دلیپ کمار اور مدھوبالا سے پہلے آتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ مدھو بالا اور دلیپ کمار اس فیصلے سے خوش نہیں تھے۔
اس کا ذکر پرتھوی تھئیٹر میں کام کرنے والے یوگراج ٹنڈن نے اپنی کتاب ‘تھیئٹر کے سرتاج پرتھوی راج’ میں کیا ہے۔
‘مغل اعظم’ کے بننے میں بہت تاخیر ہو رہی تھی اور اس کی وجوہات بھی تھیں جن کا ذکر سامنے آتا رہتا تھا۔ ایک سبب سٹار کاسٹ میں پرتھوی راج کے نام کا پہلے آنا بھی تھا۔
پرتھوی راج نے اس کے متعلق فلمساز کے آصف سے کہا: ‘چھوٹے موٹے جھگڑے کے لیے فلم کو کیوں لٹکا رہے ہو۔ ان دونوں کا نام مجھ سے پہلے جلی حروف میں لکھ دو۔ مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔’
کے آصف نے کہا: ‘دیوان جی، میں مغل اعظم بنا رہا ہوں، سلیم اور انارکلی نہیں۔ یہ بات ان دونوں میں سے کسی کی سمجھ میں نہیں آ رہی ہے۔ میری اس فلم کا ہیرو ایک ہے اور وہ اکبر اعظم ہے۔’
اس فلم سے پرتھوی راج کے منسلک ہونے کا قصہ بھی دلچسپی سے خالی نہیں۔ فلم کے معاہدے کے طور پر کے آصف نے جو چیک انھیں پیش کیا اس پر کوئی رقم نہیں لکھی تھی، وہ سادہ تھا۔
اس کا ذکر بھی یوگراج ٹنڈن نے کیا ہے۔ انھوں نے لکھا: ‘پرتھوی راج کپور نے لطف اندوز ہوتے ہوئے کہا جہاں اتنا لکھا تھا تو رقم بھی لکھ دیتے۔’
کے آصف نے کہا: ‘پہلے یہ بتاو کہ کتنی رقم لکھوں؟’
یوگراج پرتھوی راج کے اسسٹنٹ کے طور پر وہاں موجود تھے۔
پرتھوی راج کی نے کہا: ‘تم نہیں جانتے کیا؟’
کے آصف نے کہا: ‘جانتا تو پوچھتا ہی کیوں؟’
پرتھوی راج نے کہا ‘جو رقم چاہو لکھ دو مجھے منظور ہے۔’
کے آصف نے کہا: ‘نہیں دیوان جی۔ یہ نہیں کہیں۔ سب نے اپنی قیمت لگائی، دلیپ کمار، مدھوبالا، درگا کھوٹے، تو پھرآپ کیوں نہیں ..؟’
‘میری قیمت تم لگاؤ گے۔’
کے آصف نے کہا: ‘یہ جرات میں نہیں کر سکتا’
پرتھوی راج نے کہا: ‘میں بھی ابھی تک اپنی قیمت نہ لگا سکا۔’
‘ٹھیک ہے۔ آپ اتنا تو بتا سکتے ہیں کہ راج (کپور) نے آپ کو آوارہ میں کیا دیا؟’
‘پچاس ہزار۔’
‘تو میں 75 ہزار لکھ دوں؟’
‘جو تم مناسب سمجھو۔’
بات ہیں ختم نہیں ہوئی۔ اجرت مقرر ہوگئی تھی لیکن کے آصف پیشگی کوئی رقم دینا چاہتے تھے۔
پیشگی چیک پر جب کے آصف نے پرتھوی راج سے رقم لکھنے کے لیے کہا تو انھوں نے ایک روپیہ لکھا۔
آصف فرط جذبات سے مغلوب ہو گئے تو پرتھوی راج نے کہا: ‘آصف، میں آدمیوں کے ساتھ کام کرتا ہوں، تاجروں یا مارواڑیوں کے ساتھ نہیں۔’
اسی پرتھوی راج کپور نے فلم انڈسٹری کو راج کپور، شمی کپور اور ششی کپور جیسے اداکار دیے۔ بعد میں رندھیر کپور، رشی کپور، کرشمہ کپور، کرینہ کپور اور رنبیر کپور جیسے ستاروں نے اس وراثت کو آگے بڑھایا۔

کپور خاندان کو بالی وڈ کا سب سے معزز خاندان کہا جاتا ہے۔
ایک زمانے میں راج کپور کی کامیابی اتنی بڑھ گئی تھی کہ فلمی دنیا پرتھوی راج کپور کو راج کپور کے والد کے طور پر پکارنے لگی تھی۔
لیکن راج کپور نے پوری زندگی میں کبھی ایسا محسوس نہیں کیا کہ وہ اپنے والد سے بہتر ہو گئے ہیں۔ وہ ان کا اتنا احترام کرتے تھے کہ ان کے سامنے کبھی سگریٹ اور شراب نہیں پیتے تھے۔
راج کپور کے دل میں اپنے والد کی کیا اہمیت تھی اس کا ذکر سینیئر فلم صحافی جے پرکاش چوكسے نے راج کپور پرتحریر کردہ اپنی کتاب میں کیا ہے۔
وہ لکھتے ہیں: ‘کئی بار آدھی رات کے بعد نشے میں راج کپور اپنے گھر آ کر اپنے والد کو آواز دیتے۔ جب وہ بالکنی پر آتے تو راج کپور کہتے آپ نیچے نہیں آئیں، میں ہی آپ کے برابر آنے کی کوشش کروں گا۔’ اور اتنا کہتے کہتے ان کا نشہ کافور ہوجاتا۔’