مہندی کے بارے میں تو سنا ہے، لیکن یہ برائیڈل شاور کیا ہے؟

 

 

اگر دیپکا پاڈوکون اور رنویر سنگھ نے اپنی شادی کی تاریخ کا اعلان کر دیا ہے تو وہیں پرینکا چوپڑہ کی سہیلیوں اور دوستوں نے حال ہی میں ان کے لیے ‘برائیڈل شاور’ کی تقریب منعقد کی جس کا انڈین میڈیا میں حال ہی میں خاصا چرچا رہا ہے۔

آپ میں سے بہت سے لوگ برائیڈل شاور سے متارف ہوں گے جس کا انعقاد عام طور پر شادی سے دو ہفتے قبل سے لے کر دو ماہ قبل تک کیا جاتا ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ نک جونز کے ساتھ پرینکا کی شادی کو اب زیادہ دن نہیں ہیں۔

البتہ اس تقریب کی تصویر پوسٹ کرتے ہوئے پرینکا نے لکھا کہ اس میں برائیڈل شاور کی روایت کی پاسداری کم ہی کی گئی ہے اس لیے ان کی شادی کے بارے میں اندازہ لگانا مشکل بھی ہے۔

شادی سے قبل دنیا بھر میں متنوع اور رنگا رنگ تقاریب عام ہیں پہلے ہم ‘برائیڈل شاور’ پر نظر ڈالتے ہیں اور پھر دیکھتے ہیں کہ آیا اس طرح کی یا اس سے مماثل تقریب برصغیر میں بھی مروج ہے یا نہیں۔
پہلی بار برائيڈل شاور سے میرا تعارف ‘سیکس اینڈ دا سٹی’ نامی سیریئل میں ہوا جب کیری اپنی جوتیوں کی بازیابی کے لیے ‘برائیڈل شاور’ کی تقریب رکھتی ہے۔
برائيڈل شاور امریکہ اور کینیڈا میں شادی سے قبل دلھن کے لیے منعقد کی جانے والی ایک تقریب ہے جو عام طور پر ان کی قریبی سہیلیاں منعقد کرتی ہیں۔ اس میں سہیلیاں اپنی دوست کے لیے تحائف کا انتظام کرتی ہیں جو ان کی آنے والی زندگی میں روز مرہ کی ضروریات کو پوری کرنے کے کام آئیں، جبکہ انڈیا اور پاکستان میں یہ جہیز کا حصہ ہوتی ہیں۔

اس کے لیے عام طور پرکسی شاپنگ مال میں دلھن کا نام رجسٹر کروایا جاتا ہے اور دلھن اپنی ضروریات کی چیزیں وہاں درج کر دیتی ہے جسے ان کے دوست اپنی اپنی حیثیت کے حساب سے تحفے کے طور پر خرید کر پیش کر دیتے ہیں۔ اس کی ایک اچھی بات یہ ہوتی ہے کہ تحائف ریپیٹ نہیں ہوتے۔

پرینکا چوپڑہ کو شاید خانگی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے تحائف کی ضرورت نہ ہو لیکن شادی سے قبل شادی اور دلھن بننے کے احساس کے لیے اس قسم کی تقاریب مخصوص اہمیت کی حامل ہوتی ہیں۔

 

 

انڈیا کے میڈیا میں پرینکا کے لباس اور ان کے زیورات کا خاصا چرچا رہا۔ بتایا جاتا ہے کہ انھوں نے اس موقعے پر دس لاکھ امریکی ڈالر یعنی ساڑھے سات کروڑ ہندوستانی روپے کی مالیت کے زیوارت پہنے جو نیویارک کی زیورات کی معروف کمپنی ٹیفینی اینڈ کو کے تھے۔ اس سے قبل انھوں نے منگنی کے وقت سوا دو کروڑ کی انگوٹھی پہنی تھی اور وہ بھی ٹیفینی کی تھی۔

یہ بات یاد رہے کہ برائیڈل شاور میں عام طور پر خواتین کا ہی عمل دخل ہوتا ہے اور وہی اس میں شرکت کرتی ہیں۔ مغربی ممالک میں دلھے کے لیے اسی طرح کی ایک تقریب ‘بچلرز نائٹ’ ہوتی ہے جس میں دلھے کے علاوہ ان کے قریبی دوست رات بھر جشن مناتے ہیں۔

برصغیر ہندو پاک میں جتنے مذاہب اور جتنی برادریاں ہیں ان سب کی اپنی مخصوص اور مختلف رسومات بھی ہیں۔ شادی سے قبل عام طور پر منگنی کی رسم کے بعد مختلف قسم کی رسمیں ادا کی جاتی ہیں جو برائيڈل شاور کے بہت قریب کہی جا سکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

 

سب سے قریب ہلدی کی رسم ہے جسے عرف عام میں مایوں بیٹھنا بھی کہتے ہیں۔ اس موقعے پر دولھے کے یہاں سے ہلدی آتی ہے جو دلھن کو لگائی جاتی ہے۔ وقت اور حالات کے ساتھ ان تقاریب میں تبدیلیاں رونما ہوتی رہی ہیں۔

پہلے ہلدی کی رسم شادی سے کم از کم ایک ہفتے پہلے منعقد کی جاتی تھی اور اس دن دلھن کو پیلے لباس میں ہلدی لگائی جاتی تھی۔ اس موقعے پر تحفے تحائف کا بھی رواج عام رہا ہے اور وقت کے ساتھ اس میں اضافہ ہی نظر آيا ہے۔

سہیلیاں یا پھر پیشہ ور گانے والیاں گیت گاتی ہیں اور ڈھول کی تھاپ پر رقص ہوتے ہیں۔ اس دن کے بعد سے دلھن گھر سے باہر نہیں نکلتی بلکہ اسے مخصوص لوگ ہی دیکھ سکتے ہیں۔
پرانے زمانے میں انڈیا کے شمال مشرقی علاقوں میں شادی طے ہونے کے بعد شادی والا گھر رسم و رواج کا مرکز ہوا کرتا تھا۔
مہینوں اس کی تیاریاں ہوتی تھی۔ ابٹن پیسنے کی رسم سے لے کر چاول چننے، گیہوں تیار کرنے، گوٹے لگانے کی تقریب منعقد ہوا کرتی جس میں گاؤں کی خواتین چاول چننے کے ساتھ گیت بھی گایا کرتیں۔
کئی جگہ چاول مختلف رشتہ داروں کی جانب سے آتے تھے اور یہ سب انتظامات برات اور گھر آنے والے مہمانوں کی خاطر مدارات کے لیے ہوا کرتے تھے۔
انڈیا میں ویدوں کے مطابق شادی کی آٹھ قسمیں ہیں جن میں برہم وِواہ سب سے زیادہ مقبول ہے۔ اس کے علاوہ دیو وِواہ، ارش وِواہ، پرجاپتی وِواہ، گندھرو وِواہ، اسور وِواہ، راکشس وِواہ، پیشاچ وواہ وغیرہ شامل ہیں۔

پنجاب میں ‘وٹنا’ کی رسم بہت مقبول ہے جو بہت حد تک ہلدی اور ابٹن کی رسم سے مشابہ ہے۔ اس کے تحت دلھن کو شادی سے قبل ہی سجانے سنوارنے کا کام شروع ہو جاتا ہے۔

بی بی سی پنجابی کی ہماری ساتھی سمن دیپ کورن بتایا کہ ‘بینگل سیریمنی’ یا چوڑی کی تقریب برائیڈل شاور کی طرح کی ہی رسم ہے جس میں سہیلیاں دلھن کے لیے سرخ اور سبز چوڑیاں لاتی ہیں۔
یہ تقریب شادی سے تقریباً ایک ماہ قبل منعقد کی جاتی ہے۔ دلھن ان چوڑیوں کو اس وقت تک پہنتی ہے جب تک کہ ‘چوڑواں’ کی رسم نہیں ہوتی۔ یعنی یہ بڑی تقریب ہوتی ہے جس میں ننہال یا ماموں کے یہاں سے سرخ چوڑیاں بہت سے دوسرے تحائف کے ساتھ آتی ہیں اور ایک تقریب میں دلھن کے ہاتھوں میں ڈالی جاتی ہے۔

پنجابی سروس کے ہی ہمارے ساتھی خوشحال لالی نے بتایا کہ شادی سے قبل ‘جاگو’ کی رسم ان دنوں بہت مقبول ہے جس میں گاؤں والوں کو شادی کے متعلق بیدار کیا جاتا ہے اور اس میں اہل خانہ کے ساتھ تمام رشتہ دار اور دوست شرکت کرتے ہیں۔

خواتین سر پر مٹی کا گھڑا نما برتن رکھتی ہیں جو آگ اور پانی کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اس پر روایتی طور پر دیے جلائے جاتے تھے لیکن اب بلب ہوتے ہیں۔ انھیں لے کر وہ گاؤں اور محلے بھر میں گھومتی ہیں اور رات بھر یہ تقریب جاری رہتی ہے۔

بی بی سی تمل کے ہمارے ایک ساتھی نے بتایا کہ ہندو رسم و رواج کی گنتی کا شمار مشکل ہے لیکن مسیحی برادری میں لڑکے والوں کی جانب سے لڑکی کے لیے شادی سے قبل تحائف بھیجے جاتے ہیں جو ایک قسم کا برائیڈل شاور ہی ہے۔

عام طور پر قصباتی زندگی میں شادی میں پوری برادری کی شمولیت ہوا کرتی ہے اور جہیز کا انتظام کئی معنوں میں ‘برائیڈل شاور’ کے مقصد کو پورا کرتا ہے۔ لڑکیوں کے لیے جہیز کی تیاریاں تو شاید ان کے پیدا ہوتے ہی شروع ہو جاتی ہیں لیکن شادی طے ہونے کے بعد ان میں تیزی آتی ہے اور سماج اور رشتہ دار اس میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

اسی طرح مہندی کی رسم اور سنگیت بھی ہے۔ مہندی کی رسم عام طور پر شادی سے ایک دن قبل منعقد کی جاتی ہے تاکہ رنگ کھل کر سامنے آئے۔ مہندی کی رسم میں جہاں دلھن کے ہاتھوں پر دلھے کے گھر سے آنے والی مہندی لگائی جاتی ہے وہیں دلھن کی سہیلیاں بھی اپنے اپنے ہاتھوں میں مہندی رچاتی ہیں۔

مہندی کے رنگ لانے کو اچھا شگون مانا جاتا ہے اور مہندی کی رات دلھن کے گھر بہت دھوم دھام رہتی ہے۔
ماہر طباخ اور کھانوں کی تاریخ داں سلمیٰ حسین کا کہنا ہے کہ ‘برائیڈل شاور کے سب سے نزدیک مایوں بیٹھنا یا ہلدی کی رسم ہے۔ اسی طرح ہم ‘بے بی شاور’ کو گود بھرائی کی رسم کہہ سکتے ہیں لیکن یہاں فرق یہ ہوتا ہے کہ گود بھرائی کی رسم حمل ٹھہرنے کے ساتھ ہی منعقد کی جاتی ہے۔’