مصری فٹبالر مو صلح کا مجسمہ، سوشل میڈیا پر لوگ حیران

 

 

فٹبال کلب لیورپول اور مصری قومی ٹیم کے لیے کھیلنے والے فٹبال سٹار مو صلح کا ایک نیا مجسمہ بنایا گیا ہے جس کے بارے میں سوشل میڈیا پر لوگ شدید تنقید اور مذاق کر رہے ہیں۔
یہ فن پارہ مصر کے شہر شرم الشیخ میں اتوار کے روز ورلڈ یوتھ فورم میں پیش کیا گیا۔
اس میں مو صلح کا گول کے بعد جشن منانے کا وہ معروف انداز دکھایا گیا ہے جس میں وہ ہاتھ پھیلا کر خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔ مگر لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ مجسمہ گلوکار لیو سیئر یا فلم ہوم الون کے کردار مارئوو سے زیادہ ممالثت رکھتا ہے۔

مو صلح کا یہ مجسمہ فٹبال کی دنیا کے ان کافی سارے مجسموں کی ایک کڑی معلوم ہوتا ہے جو لوگوں کو سوچ میں ڈال دیتے ہیں۔
اس کا موازنہ گذشتہ سال مدیرہ ہوائی اڈے پر لگائے گئے کرسٹیانو رونالڈو کے مجسمے سے کیا جا رہا ہے۔
کرسٹیانو رونالڈو کا مجسمہ ایمانیوئل ہورہے دی سلوا نے بنایا تھا۔ انھوں نے شدید تنقید کے بعد اپنی اداسی کا ذکر کیا ہے۔ بعد میں انھیں دی بلیچر رپورٹ نامی ویب سائٹ کی جانب سے یہ مجسمہ دوبارہ بنانے کا موقع دیا گیا۔

جس یوتھ فورم پر مو صلح کا مجسمہ نمائش کے لیے پیش کیا گیا ہے اس میں ہزاروں لوگ شریک تھے جن میں مصری صدر عبد الفتح السیسی بھی شامل تھے۔
یہ فورم گذشتہ سال نوجوانوں کی جانب سے شروع کیا گیا تھا اور اس کا مقصد مصر میں امن و ترقی بڑھانا ہے۔
مو صلح کا مجسمہ بنانے والے مائے عبداللہ نے مصری میڈیا کو بتایا کہ انھوں نے یہ مجسمہ اس لیے بنایا کیونکہ مو صلح مصری نوجوانوں کے لیے ایک اعلیٰ معیار ہیں۔

 

 

مو صلح نے اپنے پہلے ہی سال میں لیورپول کے لیے 36 میچوں میں 32 گول کیے جو کہ ایک ریکارڈ ہے۔
26 سالہ مو صلح نے اس سال کے آغاز میں لیورپول کے ساتھ ایک پانچ سالہ معاہدہ طے کیا ہے۔ ماضی میں وہ چیلسی اور روما کے لیے کھیل چکے ہیں۔ مو صلح اپنے آبائی ملک مصر میں انتہائی مقبول ہیں اور مصر کو 2018 کے ورلڈ کپ میں پہنچانے میں ان کا بہت اہم کردار تھا۔