ان 20 شہروں میں دنیا کے سب سے زیادہ ارب پتی رہتے ہیں، لیکن کیا یہ اچھی خبر ہے؟

اگر آپ ہانگ کانگ میں رہتے ہیں تو شاید آپ نے لی کا شنگ کا نام سنا ہو گا۔ اور شاید آپ نے اُسے کچھ رقم بھی دی ہو۔ 90 برس کا یہ بزنس مین 37 ارب ڈالرز کی دولت اور اثاثوں کی بدولت اس وقت دنیا کا 23ویں امیر ترین شخص ہے۔

لی کا شنگ کے اثاثوں میں ٹرانسپورٹ سے لے کر مالیاتی خدمات سمیت توانائی اور یوٹیلیٹیز کی کمپنیاں شامل ہیں۔
تاہم یہ ارب پتی چین کے اس خود مختار خطے میں موجود دولت کا ایک چھوٹا سا مظہر ہے۔ ورلڈ الٹرا ویلتھ رپورٹ کے تازہ شمارے میں ایک کثیرالقومی مالیاتی مشاورتی ادارے ’ویلتھ ایکس‘ کے اعداد و شمار کے مطابق، ہانگ کانگ میں نیو یارک کے بعد سب سے زیادہ تعداد میں ارب پتی افراد رہتے ہیں۔ یہاں 93 ارب پتی بزنس میں رہتے ہیں، سنہ 2016 سے 21 زیادہ۔

ان اعداد و شمار کے مطابق، ارب پتی افراد کی سب سے زیادہ آبادی کے دس شہروں میں سے نصف ترقی پذیر ممالک میں ہیں، اور یہ وہ شہر ہیں جہاں کے رہنے والوں کی سماجی حالات میں سب سے زیادہ عدم مساوات نظر آتا ہے۔

ابھرتے ہوئے ارب پتیوں کی تعداد نے تیزی سے دولت مند بننے والے خوش قسمتوں کی تعداد میں بھی اضافہ کیا ہے: اعداد و شمار کے اس جائزے نے بتایا ہے کہ سنہ 2017 میں 2754 افراد کے فی کس کم از کم ایک ایک ارب ڈالرز سے زائد اثاثے ریکارڈ کیے گئے ہیں۔

ان ارب پتیوں کی کل ملا کر ٹوٹل دولت نو کھرب دو ارب ڈالرز بنتی ہے جو جاپان اور جرمنی کی کل مجموعی قومی پیداوار سے زیادہ ہے۔
ماہرین کی ارب پتیوں کے نئے طبقے کے ابھرنے کے سماجی اثرات کے بارے میں رائے منقسم ہے۔
ایک مکتبہ فکر عدم مساوات کی وجہ سے اخلاقی اقدار کے مسائل کو اجاگر کرتا ہے اور مطالبہ کرتا ہے، جیسا کہ آکسفیم نے غربت پر اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ ان ارب پتیوں پر ٹیکس لگایا جائے۔
جب کہ دوسرا مکتبہ فکر کہتا ہے کہ یہ ارب پتی تبدیلی کے ایجنٹس ہیں، سارے نہیں تو کم از کم ان میں سے کچھ تو ضرور ہیں۔
سنہ 2016 میں عالمی بینک کی ایک ماہرِ اقتصادیات، کیرولین فروئینڈ نے اس نظریے کا اپنی کتاب ’رچ پیپل، پؤر کنٹریز: دی رائیز آف ایمرجنگ مارکیٹ اینڈ میگا فرمز‘ میں دفاع کیا ہے۔
ان کے مطابق اس وقت ارب پتی افراد کو بدنام کرنے کا ایک رجحان ہے مگر یہ سب ایک جیسے نہیں ہیں۔ دولت بنانے کے کئی طریقے ہیں اس لیے ان کے اثرات کا انحصار بھی دولت بنانے کے طریقوں پر ہے۔
فروئینڈ دلیل دیتی ہیں کہ اپنے زورِ بازو پر ارب پتی بننے والے افراد جنھوں نے اپنا کاروبار خود کھڑا کیا، نہ کہ وسائل حاصل کر کے یا نجکاری سے حاصل اثاثوں سے امیر بنے، وہ دوسروں اور اپنے قریبی لوگوں کے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں۔

امریکے کے بزنس میگزین فوربس کے مطابق اب ارب پتی افراد دنیا کے مختلف بہتر (72) ممالک میں پھیلے ہوئے ہیں۔ چین، ہانگ کانگ اور انڈیا میں ان کی تعداد دسیوں میں ہے۔
اُس کے مطابق، تاریخ میں پہلی مرتبہ ایشیا کے ارب پتیوں کے کلب میں 784 ارکان ہیں، جو کہ شمالی امریکہ کے ارب پتیوں کی تعداد (727) سے زیادہ ہے۔
بیجنگ یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق، چین کی ایک فیصد امیر آبادی ملک کی 25 فیصد دولت کی مالک ہے جبکہ 25 فیصد غریب صرف اپنے ملک کی ایک فیصد دولت کے مالک ہیں۔
افریقہ کے 20 میں سے 19 ممالک ہیومن ڈویلپمنٹ انڈیکس کی نچلی ترین سطح میں شمار ہوتے ہیں، لیکن وہاں بھی اب 44 ارب پتی بزنس مین موجود ہیں جن کی کل دولت کے اثاثے 93 ارب ڈالرز کے برابر ہیں۔
ایک مفروضے کے طور پر اگر یہ ارب پتی ایک قوم بن جائیں تو یہ افریقہ کے 54 ممالک کی فہرست میں قومی مجموعی پیداوار کے لحاظ سے آٹھویں معیشت قرار پائیں گے۔ ان کی فی کس آمدنی کتنی ہوگی؟ صرف دو ارب گیارہ کروڑ ڈالرز۔ (بین الاقوامی مالیاتی ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق، برِاعظم افریقہ میں سن 2017 میں فی کس آمدنی 1825 ڈالرز تھی۔)

تاہم انڈیا وہ ملک ہے جہاں سب سے تیزی سے ارب پتی افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ نوے کی دہائی میں صرف دو انڈینز کے نام فوربز میگزین کی نامور ارب پتیوں کی فہرست میں آئے تھے۔
لیکن سن 2016 میں یہ تعداد 84 نظر آئی۔ دوسری جانب عالمی بینک کے سنہ 2016 کے اعداد و شمار کے مطابق، انڈیا میں 28 کروڑ افراد خطِ غربت سے نچلی سطح پر زندگی گزار رہے ہیں۔
اس طرح کے بے انتہا امیر افراد کے طبقے کا غریب معیشتوں میں ابھرنا ان لوگوں کے لیے دل آزاری کا سبب بنتا ہے جنھیں اُن کی محنت کا بہت ہی کم صلہ ملتا ہے۔ لیکن امیر افراد اور بڑی بڑی کمپنیوں کا ابھرنا ایک صحت مند معیشت کی عکاسی کرتا ہے۔ کیرولین فروئینڈ کے مطابق پیداواریت میں اضافہ ہی لوگوں کے عمومی معیارِ زندگی میں بہتری لاتا ہے۔

فروئینڈ امریکی ادارے بیورو آف لیبر سٹیٹسٹکس کے اعداد و شمار کے حوالے سے بتاتی ہیں کہ چین میں مینوفیکچرنگ کے بڑے بڑے اداروں کے بننے سے عام لوگوں کی اوسط آمدنی میں سنہ 2009 سے لے کر سنہ 2013 کے درمیان تین گنا اضافہ ہوا۔

اکانومسٹ جریدے کی تحقیق کے مطابق ابھرتی ہوئی معیشتوں میں مقامی اینٹرپرینیورز کی بنائی گئی کمپنیاں اوسطاً 80 ہزار افراد کو روزگار فراہم کرتی ہیں، جو دولت وراثت میں پانے یا نجکاری کے ذریعے امیر بننے والوں کے کاروبار سے کہیں زیادہ ہے۔

فروئینڈ کہتی ہیں کہ ’سپر رِچ لوگوں کے طبقے کا ان معیشتوں میں ابھرنا نہ صرف قدرتی عمل ہے بلکہ ناگزیر بھی ہے۔ لیکن اس کا مثبت اثر بھی ہوسکتا ہے، اور ترقی یافتہ معشیتوں کی کمپنیوں سے مقابلے میں فائدہ ہوتا ہے۔‘

مشاورت کی ایک کمپنی، میکینزی نے پیشین گوئی کی ہے کہ سنہ 2025 تک فارچون 500 کی 45 فیصد کمپنیوں کا اور 50 فیصد ارب پتی افراد کا تعلق ابھرتی ہوئی معیشتوں سے ہوگا۔
تاہم اس بحث میں آکسفیم کے کچھ اور اعداو شمار ہیں۔ اس غیر سرکاری ادارے کے مطابق پچھلے 20 برسوں میں مجموعی طور پر غربت کم ہونے کے باوجود سنہ 1990 اور سنہ 2010 کے درمیان دنیا کے کروڑوں افراد انتہائی غربت کے حالات سے نجات نہ پا سکے۔

آکسفیم کے عدم مساوات پر تحقیق کے شعبے کی سربراہ، ریبیکا گؤلینڈ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اکثر ایسا ہوا ہے کہ تیزی سے ترقی کرنے والی معیشتوں میں امیر ترین افراد کے بینک بیلنسز میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے لیکن نچلے طبقے کو کوئی فائدہ نہ پہنچا۔ نائیجیریا جیسے ممالک میں مجموعی شرحِ نمو سب سے زیادہ نظر آئی اور افریقہ کے امیر ترین شخص کا بھی تعلق اسی ملک سے ہے، لیکن غربت میں اضافہ ہوا ہے۔‘

سنہ 2015 کی ایک تحقیق میں امریکی پروفیسروں، ویلانووا یونیورسٹی کی سُتریتھا باگچی اور کولمبیا یونیورسٹی کے ین شوینار کہتے ہیں کہ عدم مساوات کا ہونا اس لحاظ سے کم اہمیت کا حامل ہے کہ عدم مساوات شروع سے تھی ہی کیوں۔

سنہ 1987 سے لے کر سنہ 2002 تک 23 ممالک کے ارب پتی افراد کے اعدا و شمار کا مطالعہ کرتے ہوئے انھیں معلوم ہوا کہ جب ارب پتی افراد اپنے سیاسی تعلقات کی وجہ سے دولت بناتے ہیں تو اس کا ایک ’سُست اثر‘ پیدا ہوتا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ دولت اور سیاسی طاقت چند افراد میں مرتکز ہو جاتی ہیں جو حکومتی پالیسیوں پر اثر انداز ہوسکتے ہیں جس کا وسیع سطح پر پورے معاشرے کے مفادات کو نقصان ہوتا ہے۔

اس بحث میں ایک اور متنازع نکتہ ہے ان کے بارے میں جو وراثت کی وجہ سے بے انتہا دولت مند ہوتے ہیں۔ فرانسیسی ماہر اقتصادیات، ٹامس پکیٹی کہتے ہیں کہ جب امیر لوگ اپنی دولت اپنی اولاد کے لیے ترکے میں چھوڑ جاتے ہیں تو یہ معاشرے میں سماجی بہتری کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔

اور جہاں ’ویلتھ ایکس‘ میگزین نے اعداد و شمار کی مدد سے یہ دریافت کیا ہے کہ دنیا کے وہ ارب پتی جو اپنی محنت سے امیر ہوئے ہیں وہ اربپتیوں کی تعداد کا 56.8 فیصد ہیں جبکہ ترکے کی وجہ سے ارب پتی بننے والوں کی تعداد سنہ 2017 میں 13.2 فیصد ہو گئی، جو کہ سنہ 2016 میں 11.7 فیصد تھی۔

کیرولین فروئینڈ کا خیال ہے کہ ’اس لحاظ سے دولت کے بارے میں پالیسیوں پر بحث کرنے کے ساتھ ساتھ ٹیکسوں کے نظام پر بات کرنا ضروری ہے، اور خاص کر وارثت کے معاملے پر۔ خود سے محنت کرکے دولت بنانے والوں کی حوصلہ افزائی کرنا ضروری ہے۔ ارب پتی افراد کے بچوں کو صرف وراثت کی وجہ سے امیر نہیں بن جانا چاہئیے۔ انھیں اتنا ہی اچھا ہونا چاہئیے جتنا کہ ان کے والدین تھے۔

’اس کے علاوہ بڑا چیلینج یہ ہے کہ ان ارب پتی افراد کو ایک سیاسی قوت بننے سے کیسے روکا جائے۔ ایماندارانہ ذرائع سے بنائی گئی دولت بھی سیاسی طاقت کے حصول میں استعمال ہوسکتی ہے۔ لہٰذا مضبوط ادارے بنانے کی ضرورت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ ‘